ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

متعین کی محبت

دوست کا سوال ہے کہ: "یہ کیا ہے اور اس کا کیا علاج ہے؟ کہ کسی خوبرو دلکش (attarctive) لڑکی کو دیکھ کر فورا اس لڑکی پر دل آجائے، سچا پیار ہو جائے، بندہ کرش (crush) ہوجائے۔ یعنی خوبرو اور دلکش لڑکی یا خاتون دیکھی، پرسنیلٹی، شکل و صورت، جنسی دلکشی، شہوانی appearance، تہذیب یعنی ڈیسنسی، way of talking، سوچ، رویہ، مزاج، عادت، اخلاق یا کسی بھی وجہ سے اچھی لگتی ہو۔ پھر اس سے communicate کرنے اور ملنے یا اسے دیکھنے کا دل چاہنا۔ پھر اسے سوچنا آئیڈیلائزکرنا پلیننگ کرنا لمبا اور دور تک سوچنا۔ اور پھر کچھ عرصے یا ماہ بعداس کا دل سے اتر جانا۔ اور پھر کسی اور کو دیکھنا اور ایسی ہی feelings آنا۔ یوں یہ سلسلہ چلنا۔ یہ جو بھی ہے چاہت محبت وغیرہ کسی ایک کے ساتھ مستقل کیوں نہیں ہوتی؟”

متعین سے محبت، اس کی ذات سے نہیں بلکہ صفات سے ہوتی ہے، چاہے وہ مادی صفات ہوں جیسا کہ شکل وصورت، حسن وجمال یا پہنے اوڑھنے اٹھنے بیٹھنے کا سلیقے، یا پھر اخلاقی صفات ہوں جیسا کہ دین، اخلاق، شرم وحیاء، عفت وعصمت وغیرہ کی وجہ سے محبت رکھنا۔ مادی اور اخلاقی صفات کے علاوہ تو انسان مٹی کا اِیک ڈھیر ہے، بس۔ تو اپنا مسئلہ بھی اسی تناظر میں سمجھیں کہ آپ کو کسی متعین لڑکی سے محبت نہیں ہوتی بلکہ اس کے حسن وجمال اور سلیقے کی وجہ سے اس کی طرف کشش محسوس ہوتی ہے لہذا جب یہ صفات کسی اور لڑکی میں بھی نظر آتی ہیں تو دل اس کی طرف بھی کھچا چلا جاتا ہے۔

آسان الفاظ میں آپ کا مسئلہ محبت (love) نہیں بلکہ محبت کی توانائی (love energy) ہے کہ جسے اب اپنے اظہار کے لیے کوئی رستہ چاہیے اور جب آپ اسے اظہار کا کوئی متعین رستہ دینے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ انرجی پھر اسی طرح منتشر انداز میں ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مار کر اپنے اظہار کی ناکام کوشش کرتی ہے۔ مثال کے طور بچوں میں ان کی جسمانی نشوونما کی وجہ سے بہت زیادہ فنزیکل انرجی ہوتی ہے اور اگر آپ اس انرجی کے استعمال کے لیے انہیں کوئی پازیٹو ایکٹوٹی نہیں دیں گے تو وہ انرجی خود سے اپنے لیے کوئی ایکٹوٹی تلاش کر لے گی کہ جس میں تخریب کا عنصر بھی شامل ہو سکتا ہے جیسا کہ گھر کی چیزیں توڑنا، بہن بھائیوں یا کلاس فیلوز کی کُٹ لگا دینا، گالم گلوچ اور بدتمیزی کرنا وغیرہ۔

تو آپ کے مسئلے کا حل یہی ہے کہ کسی ایسی لڑکی سے شادی کر لیں کہ جس کی طرف دلی رغبت محسوس ہوتی ہو۔ البتہ آپ کا مسئلہ پھر بھی باقی رہ سکتا ہے، اگر تو آپ کی بیوی شادی کے بعد اپنا آپ چھوڑ بیٹھے۔ ہمارے ہاں اکثر خواتین شادی کے بعد اپنا آپ بالکل چھوڑ دیتی ہیں، بچوں کی پیدائش کے بعد نہ اپنے فگر کا کچھ دھیان ہے اور نہ ہی پہنے اوڑھنے کا سلیقہ باقی رہا ہے۔ گویا کہ ان کا مقصد صرف شادی تھا، وہ ہو گئی تو جیسے ان کے سب مسائل حل ہو گئے۔ عموما ایسی خواتین کے شوہر دوسری عورتوں یا دوسری شادی کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور ان کے پاس سوائے رونے پیٹنے اور شکوہ شکایت کے اور کوئی رستہ نہیں ہوتا۔

سادہ سی بات ہے کہ آپ کے شوہر نے آپ کو کچھ صفات کی وجہ سے اپنا پارٹنر منتخب کیا اور وہ مادی صفات ہیں لہذا اگر وہ آپ میں نہ رہیں تو اس کا تعلق آپ سے کیوں رہے گا؟ اب تو رشتوں میں مذہب اور اخلاق تلاش کرنے والے بھی حسن جمال اور پہننے اوڑھنے کے سلیقے کے پیکیج کے ساتھ رشتہ قبول کرتے ہیں ورنہ نہیں۔ تو مذہبی لوگ بھی بظاہر مذہب لیکن اصلا آپ کی مادی صفات کی وجہ سے ہی آپ سے شادی کر رہے ہوتے ہیں جیسا کہ لڑکیوں کا معاملہ بھی یہی ہے کہ انہیں بھی محض مذہبی لڑکا نہیں بلکہ اچھا کمانے والا مذہبی لڑکا چاہیے ہوتا ہے۔ تو یہ زمینی حقائق ہیں، ان کو نظر انداز کیے بغیر رشتے کیسے نبھائے جا سکتے ہیں!

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...