بلاگ

لوگ ریپ کیوں کرتے ہیں؟

خواتین، لڑکوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں ایک اہم پہلو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس کا تعلق انسانی جبلتوں سے ہے۔

عموماً عقل کا فریضہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ انسان کو افعال کے نتائج و عواقب سے خبردار کرتی ہے اور نتیجتاً وہ ایسے کاموں سے بچ جاتا ہے جن کا فوری طور پر چھوٹا سا فائدہ مگر آگے چل کر بڑانقصان ہو سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کی سڑکوں پر پولیس کی غیر موجودگی میں لوگ اشارہ توڑ دیتے ہیں مگر دبئی میں ایسا نہیں کرتے۔ لیکن جہاں جنس جیسا طاقتور ترین جذبہ آ جائے وہاں معاملات مختلف ہو جاتے ہیں۔

جنس کا جذبہ اسقدر شدید ہے کہ وہ انسان کی عقل کو بھی اپنے قابو میں کر لیتا ہے اور اس کی ذات کا منطقی اور عقلی پہلو الٹا اس بات پر قائل کرنا شروع کر دیتا ہے کہ اس جذبے کی تسکین کرنے سے نقصان نہیں ہو گا۔ جو شخص موقع اور اختیار ملنے پر ریپ کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے اس کی عقل ان لمحات میں یقین دلا رہی ہوتی ہے کہ کوئی نہیں پہچان پائے گا۔ فلاں جگہ چھپ جاؤں گا، ملک کے دوسرے حصے میں چلا جاؤں گا، شکار خوف کے مارے یا بدنامی کے ڈر سے خاموش رہے گا۔ ایسے خیالات کا ایک طویل سلسلہ ہوتا ہے جو اسے اپنی خواہش پوری کر لینے پر تیار کر رہا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سزائیں ملنے کے باوجود پورے معاشرے میں یہ انسانیت سوز عمل جاری ہے۔ کوئی شہر، کوئی قصبہ، کوئی دیہات اس سے محفوظ نہیں ہے۔ سخت ترین سزائیں دینا بھی ضروری ہے، سزاؤں کو یقینی بنانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ تاہم صرف اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا کیونکہ اس گھناؤنی حرکت کا ارتکاب کرتے وقت مجرم کو یقین ہوتا ہے کہ اسے سزا نہیں مل پائے گی۔ وہ فلاں فلاں طریقوں اور وجوہات کی بنا پر سزا سے بچ جائے گا۔

ریپ سے ہٹ کر جنس کے مسئلے کو ایک اور پہلو سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں بھاگ کر شادی کرنے والے جوڑے کو قتل کر دینے کی بھیانک روایت موجود ہے۔ بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں ایسا قدم اٹھانے والی لڑکی کی موت یقینی ہوتی ہے۔ اس کے اہلخانہ برسوں تک تلاش جاری رکھتے ہیں تاکہ اسے سزا دے سکیں۔ بہت بار چھپ چھپ کر ملنے والوں کو موقع پر ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود آئے روز لڑکیاں گھروں سے بھاگ جاتی ہیں اور قتل ہوتی رہتی ہیں۔ انہیں بھگا لے جانے والے مرد بھی عموماً مارے جاتے ہیں۔ یہی کچھ چھپ کر ملنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب وہ پکڑے جاتے ہیں تو اکثر اوقات انہیں بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔

اس کی بھی وجہ یہی ہے کہ جنس کے طاقتور جذبے کے تحت لڑکی اور لڑکے کی عقل انہیں یقین دلا چکی ہوتی ہے کہ وہ اس انجام سے بچ جائیں گے جس سے دیگر محبت کرنے والے دوچار ہوئے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ کسی نے ان کا پیچھا نہیں کیا، کسی کو علم نہیں ہوا کہ وہ ملاقات کر رہے ہیں۔ جب وہ گھر سے بھاگ جانے کا فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت بھی بچ جانے کے سو راستے دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔ سماجی روایات، انسانی زندگی کے دیگر اہم پہلو، معاشی معاملات۔۔ سب اس دھند میں کھو جاتے ہیں۔ بس ایک ہی خواہش، ایک ہی جذبہ پوری ذات پر حاوی ہوتا ہے۔

جب ریپ کرنے والا اپنی جنونی خواہش پوری کر لیتا ہے تو اس کی عقل جنس کی قید سے آزاد ہو جاتی ہے اور اسے اپنے فعل کے نتائج و عواقب نظر آنے لگتے ہیں۔ اگر اس نے کسی ایسی بچی، عورت یا لڑکے کے ساتھ ریپ کیا ہو جو اسے پہچانتا ہو تو عموماً وہ اپنے شکار کو قتل کر دیتا یے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کی جان بخشی ہو جاتی ہے کیونکہ اس وقت بقا کی طاقتور جبلت کے زیر اثر مختلف نوعیت کے عقلی دلائل ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔

بھاگ کر شادی کرنے والوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ جب کچھ عرصہ اکٹھے رہنے کے بعد جنس کا جذبہ سرد پڑتا ہے تو ایک بار پھر دیگر جذبے بیدار ہونے لگتے ہیں۔ لڑکی کو اپنا خاندان، اپنی سہیلیاں، اپنی کزن یاد آنے لگتی ہیں جبکہ مرد کو اپنی فیملی، دوست، تعلیم، کاروبار وغیرہ کی یاد ستانے لگتی ہے۔ بالآخر ان میں سے کوئی ایک اپنی ماضی کی زندگی سے جڑنے کی کوشش کرتا ہے اور یوں پکڑا جاتا ہے۔

اس لیے صرف سخت سزائیں تجویز کرنے سے یہ مسئلہ حال نہیں ہو گا۔ اس کے لیے بہت کچھ اور کرنا ہو گا جس پر اہل دانش کو غور کرنا چاہیئے

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment