کالمز

لوگ بکتے تھے مگراتنی بھی ارزانی نہ تھی

جس ملک کی حالت یہ ہو جائے کہ وہاں‌ قصورمیں زیادتی کا شکارہونے والی زینب پراس ملک کا پڑھا لکھا اورمہذب طبقہ اپنی این جی اوکا چوورن بیچنے بازارمیں نکل آئے، وہ جنہیں گزشتہ تیس سال سے مغربی ممالک کے سفارت خانے براہ راست امداد اس لیے دے رہے ہیں‌ کہ وہ پاکستان کے معاشرے کواپنے خطوط پراستوارکرسکیں، توپھرایسے ملک میں سنجیدہ گفتگوبیکارہوجایا کرتی ہے. سیاستدانوں کا تویہ وطیرہ ہے کہ انہیں کہیں کوئی لاش میسرآ جائے تواسے جب تک اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرلیں، چین سے بیٹھتے. ویسے بھی برصغیر کی سیاست توگھومتی ہی لاشوں کے اردگرد ہے. سری لنکا میں بندرانائیکے، بھارت میں اندرا گاندھی اوراجیو، بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمٰن اورضیائ الرحمٰن جبکہ پاکستان میں‌ ذوالفقارعلی بھٹو اوربے نظیر. ہرلاش کے بیچنے والوں کی صلاحیتوں‌ پرمنحصر ہے ک ہوہ اسے کتنی دیرتک عوام کے دلوں میں زندہ رکھتے ہیں. وقت گزرجائے تولاش اپنی اہمیت اورافادیت کھودیتی ہے، منظربدلنے لگتا ہے توپھرکسی دوسرے تابوت کی تلاش شروع ہوجاتی ہے. سیاستدانوں کا تویہ شغل مدتوں سے ہے، لیکن جب کسی ملک کا وہ پڑھا لکھا طبقہ جس سے لوگ یہ توقع رکھتے ہوں کہ وہ ان کی کسی مصیبت، اذیت یا المیے پراپنے نظریاتی تعصب اورپیٹ کی مجبوری کا بالائے طاق رکھ کرسچ بولے گا، اس لئے بھی کہ دنیا بھرمیں دانشورطبقے کوسب سے حساس تصورکیا جاتا ہے. اگر یہ بھی سیاستدانوں کی طرح لاش پرنظریاتی تعصب کی ڈفلی بجانے لگے تویوں‌ سمجھوکہ اب یہ ملک کسی ایسے خونی انقلاب کی راہ دیکھ رہا ہے جونظریاتی اوراین جی او مارکہ چورن بیچنے والوں‌ کوروندتا ہوانکل جائےگا.

عین وہ لمحہ جب پورا ملک زینب کوقتل وزیادتی کے دکھ میں ڈوبا ہوا تھا، ہرکوئی مجرم کوعبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کررہا تھا اورضیاءالحق دورکے اس واقعے کومثال بنا کرپیش کیا جا رہا تھا جب ایک معصوم لڑکے پپوکےقاتلوں کو شادمان لاہورکے قریب جیل کے باہرسرعام پھانسی دی گئی تھی، اوراس کےبعد لوگوں کے دلوں میں اس قدرخوف بیٹھ گیا تھا کہ پھرمدتوں ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا. آج بھی وہ لوگ زندہ ہیں جنہیں یہ واقعہ اوراس کے بعد کا پاکستان یاد ہے. لیکن بھلا ہو”تعصب” اور”جانبداری” کا کہ پاکستان میں سیکولرطبقے کے امام اورسرکاری ٹیلی ویژن کے نوازشریفانہ تنخواہ دار ایک کالم نگارتحریرکرتے ہیں “معلوم حقیقت یہ ہے کہ بھٹو کوپھانسی دیے کے لیے قوم کونفسیاتی طورپرتیارکرنا تھا. چنانچہ شادمان چوک میں تین افراد کی بلی چڑھائی گئی”. تحریرکا حسن ظن ملاحظہ کیجئے، کیسے آپ کےدل میں پپوکے قاتلوں کے لیے رحم کے جذبات ابھارے گئے ہیں. پاکستان کا یہ ای جی اوزدہ طبقہ گزشتہ تیس سال سے زوروشور سے پھانسی کی سزا خاتمے کا مطالبہ کررہا ہے. یہ مطالبہ وہ کسی دلیل اورجرم کی کمی کے اعدادوشمارکی بنیاد پرنہیں کرتا بلکہ ان کو”فنڈز” مہیا کرنے والی حکومتیں اوربڑے بڑے ڈونرزان سے “نمک حلالی” کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پھانسی کی سزا کے خلاف آواز بلند کرو. اس این جی اوزدہ طبقے کے محبوب ترین رہنماؤں پرویزمشرف اورآصف علی زرداری نے اپے دورمیں پھانسی کی سزا کوعملاً ترک کردیا تھا. پاکستان کی جیلوں میں‌ ہزاروں قیدی ایسے تھے جنہیں عدالتیں‌ پھانسی کی سزا سنا چکی تھیں، سپریم کورٹ سے بھی ان کی اپیلیں‌ مسترد ہوچکی تھیں، لیکن انہیں‌ حکومتِ پاکستان نے جیلوں میں “مہمان” بنا کررکھا ہوا تھا. نواز شریف بھی ان “عظیم” مغرب زدہ دانشوروں کی مٹھی میں تھا. اس نے بھی اس وقت تک پھانسی کی سزاؤں پرعملدرامد روکے رکھا، جب تک آرمی پبلک سکول کا سانحہ نہیں ہوگیا اورملک میں فوجی عدالتیں نہیں قائم ہوگئیں. اس کے بعد بھی، اب تک پھانسیوں پرجھولنے والے رہی دہشت گرد ننانوے فیصد سے بھی زیادہ ہیں جوسیکیورٹی فورسزکے ساتھ مقابلوں میں پکڑے گئے یا منصوبہ بندی میں ملوث تھے. وہ لوگ جوکسی قتل، کاروکاری، زنا بالجبر یا دیگرجرائم میں ملوث‌ تھے اورانہیں پھانسی کی سزائیں ہوگئیں تھیں، آج بھی حکومتی سرائےخانوں‌ کے پرتعیش‌”مہمان” ہیں.

دوسرا چورن وہ لوگ بیچنے کے لیے بازارمیں آنکلے ہیں جنہیں سول سوسائٹی کہا جاتا ہے. یہ گروہ بڑی محنت اورغیرملکی سرمائے سے ترتیب دیا گیا ہے. پاکستان میں چارقوانین ایسے ہیں جن کے تحت کوئی این جی اوررجسٹرڈ ہوتی ہے. اداروں کے پاس ان تمام این جی اوز کے ممبران، اغراض ومقاصد اورکسی حد تک اکاؤنٹ کی معلومات موجود ہوتی ہیں. ان تنظیموں میں موجود افراد کی فہرست مرتب کی جائے توپاکستان کی سول سوسائٹی بن جاتی ہے. آغا خان ہرسال ایک ڈونرزڈائریکٹری نکالتا ہے جس میں امداد دینے والے بڑے بڑے سفارتخانوں‌ اورعالمی تنظیموں کے پتے درج ہوتے ہیں. پاکستان کے یہ مخصوص گروہ ان کے مقاصد کے مطابق ایک پراجیکٹ کا خاکہ تیار کرتے ہیں اوربراہ راست درخواست داغ دیتے ہیں. آپ کے پاس ایک چھوٹا سا رنگ برنگا دفتر، ایک دوکمپیوٹر، پاورپوائنٹ یا ڈاکومینٹری کی صورت میں کوئی پریزنٹیشن(Presentation)، اورجینڈربیلنس (Gender Balance) کا خاص خیال رکھتے ہوئے مغرب زدہ تعلیمی اداروں سے پڑھی ہوئی، انہی کی زبان بولتی اورویسا ہی لباس زیب تن کیے ہوئے خواتین ہونی چاہئیں. آپ پرایک دن ڈونرزکی نظرکرم ہوجائے گی. اگرآپ کے مقاصد خواتین کے حقوق(Women rights)، بنیادی جنسی تعلیم (primary sex education), جنسی تفریق (Gender inequality) اورعورتوں کوبااختیاربنانا (Women empowerment) جیسے ہیں توپھرآپ پرمہربانیاں دوگنی چگنی ہوجائیں گی. آپ کودنیا بھرمیں کانفرنسوں میں شرکت کے لیے بلایا جائے گا. آپ کے لیے دنیا کے نام نہاد ترقی یافتہ ممالک مفت ٹریننگ کا اہتمام کریں گے. میں نے تقریباً ایک ہزارکے لگ بھگ ان ٹریننگ موادوں اورکورسزکا جائزہ لیا جوخواتین کے حقوق، ان کے خلاف ہونے والے جرائم، ان کے معاشرے میں ادنیٰ حیثیت جیسے الفاظ نظرنہیں آئیں گے. بلکہ یہ تصوراجاگرکیا گیا ہوتا ہے کہ تم عورت ہو، اورظالم مرد کے مقابلے میں اکھاڑے میں کیسے سنبھال کررکھنا ہے اورمرد کوکیسے چاروں شانے چت گرانا ہے. ان تمام کورسز، ٹریننگز بلکہ جنسی جرائم سے بچنے کے لیے بنائی گئی کتابوں اورسکولوں میں دی جانے والی تعلیم میں سے کوئی کتاب بھی اس بات پربحث نہیں‌ کرتی کہ وہ درندہ جوایک بچی یا بچے کا جنسی استحصال کرتا ہے، اسے قتل کرتا ہے، وہ جنسی بھیڑیا جومسلسل عورتوں کوجنسی تسکین کا ذریعہ بنا کرقتل کرتا ہے، وہ کیا اپنی ماں کے پیٹ سے درندہ یا بھیڑیا پیدا ہوتا ہے یا اسے معاشرے میں‌ موجود عوامل ایسا کرنے پرمجبورکردیتے ہیں. یہ عوامل اسے ایک ایسے درندے میں کیسے بدل دیتے ہیں جس کی تسکین ہی اس طرح کے مکروہ فعل سے ہوتی ہے. یہ تمام این جی اوزدہ سول سوسائٹی کے افراد مغرب کی ٹریننگز، تیارکردہ میٹیریل اورنصابی جنسی تعلیم کے تصورات لے کرپاکستان کے ماحول کواس چوکھٹے میں فٹ کرنے لگتے ہیں. انہیں بالکل اندازہ تک نہیں ہوتا کہ گزشتہ پچاس سال سے دھیرے دھیرے جس طرح ایک میٹھے زہر (slow poison) کی طرح ہرمیڈیا، فلم اورلٹریچر نے معاشرے کوجنسی طورپرہیجان زدہ کیا ہے اورمسلسل کئے جا رہا ہے اس کی طوفانی یلغارکا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے. یہ مغربی سرمایہ اورتہذیب کی کوکھ سے جنم لینے والی سول سوسائٹی اس مسلسل میٹھے زہرکے بارے میں کبھی کوئی گفتگونہیں کرتی، اس لیے کہ ان میں سے اکثر کا رزق اس سے وابستہ ہوتا ہے. یہ زہرکیسے آہستہ آہستہ میری قوم کی رگوں میں اتارا گیا اوروہ امت جس میں برونائی سے لے کرمراکش تک آج سے 25 سال پہلے تک کوئی ایک سیریل کلرنہیں ملتا تھا، وہاں ایسے درندوں نے کیسے جنم لینا شروع کردیا. یہ ایک الگ موضوع ہے جس پراگلے کالم میں بات ہوگی. فی الحال مرحوم دوست عدیم ہاشمی کا شعران متعصب اورمغربی سرمایہ سے جنم لینے والی سول سوسائٹی کودیکھ کریاد آرہا ہے

یوں‌ دکانوں پرضمیروں کی فراوانی نہ تھی۔۔۔۔لوگ بکتے تھے مگراتنی بھی ارزانی نہ تھی

کالم : اوریا مقبول جان

لکھاری کے بارے میں

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان پاکستان کے معروف کالم نگار، شاعر، دانشور، ناٹک نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بطور ستون نگار و دانشور ان کے ستون باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے معروف اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور منفرد انداز تحریر کے باعث کئی ادبی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، ا

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment