بلاگ

لیاقت علی کا قتل ضروری کیوں تھا

۔؎ اب یہ کہانی عام ہویؑ ہے سنتا جا شرماتا جا۔۔اس کہانی میں ہماری آج تک کی تاریخ ہےکہ کس طرح ایک سازشی ٹولہ جو آج تک حاکم ہے بر سر اقتدار آیا تھا۔۔لیاقت علی کو قتل کرنا کیون ضروری ہو گیا تھا،،اس کے پیچھے اصل اسباب کیا تھے
1۔پاکستان اپنے قیام سے پہلے ہی امریکا کے پاس گروی رکھ دیا گیا تھا،میؑ 1947 میں ایک سینیٹر اور سیاسی مشیر ریمنڈ ہایؑر نے یہ یقین دہانی حاصل کر لی تھی (ڈینس ککس کی کتاب صفحہ 33 )ّ،۔۔۔ ستمبر 1947 میں میر لایق علی نے امریکی صدر ٹرو مین کو اسناد سفارت پیش کرتے ہوےؑ دو ارب ڈالر کی امداد کی درخواست بھی پیش کردی۔فوجی امداد ہم پہلے ہی لے چکے تھے
2۔جب امریکہ نے ہمارے دشمن ملک کے وزیر اعظم نہرو کو دورے کی دعوت دی تو لیاقت علی کو افسوس ہوا،انہوں نے در جواب آں غزل دوست ملک ایران میں اپنے سفیر راجہ غضنفر علی خان سے کہا کہ وہ روس کا دورہ کریں گے،ایران کے روس میں سفیر علی علوی کی راجہ صاحب سے دوستی تھی۔وزیر اعظم نے ایران کا دورہ کیا تو علی علوی کو سفیروں کی ایک دعوت میں لیاقت علی سے ملوایا گیا اور معاملات طے پاگےؑ۔دورے کیلےؑ روسی دعوت 2 جون کو موصول ہوا اور ہم نے 7 جون کو منظور کیا؛؛ تاریخ رکھی گیؑ 20 اگست 1951
3اس پر امریکہ جز بز ہوا اور اس کے پالتو کتے کی حیثیت سے بڑٹش ہایؑ کمشنرلارنس جیفری اسمتھ نے ہمارے وزیر خارجہ سر ظفراللہ کو خبردار کیا کہ اس کے نتایج اچھے نہیں ہوں گے۔دوسری طرف امریکہ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان زاتی تعلقات کو بروےؑ کار لاتے ہوےؑ امریکہ کا ایران سے تیل کی در آمد کا معاہدہ کراےؑ۔لیاقت علی نے کہا کہ ہمیں کویلوں کی دلالی میں منہ کالا کرنے کا کویؑ شوق نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک حکم نامے کی رو سے تمام امریکن جہازوں کو فورا” پاکستانی اڈوں سے پرواز کرجانے کا کہا گیا
3 اب امریکہ کے حکم پر کہ وزیر اعظم کو شہید ملت بناو تین کا سازشی ٹولہ فعال ہوگیا جس میں شامل تمام نوابزادے راجے اور انگریز کےخطاب اور جاگیر یافتہ پہلے ہی لیاقت علی سے نالاں تھے ،یہ کام وزیر داخلہ نواب مشتاق احمد گورمانی نے پولیس کے خفیہ محکمے سی آیؑ ڈی کے سربراہ نوابزادہ اعتزازالدین انسپکٹر جنرل کے سپرد کیا اور اس نے سید اکبر ولد اکبر خاں زادران کا انتخاب کیا جو افغانستان کا ایک کرد سردار تھا،اسے انگریزوں نے افغانستاں میں شورش پھیلانے کیلۓ استعمال کیا تھا ناکامی پر وہ بھاگ کر پاکستان آیا اور ایبٹ اباد میں مقیم ہوا۔انگریز نے اسے تحفظ کے ساتھ خفیہ پولیس کی نوکری دی جس کا معاوضہ اسے 450 روپے یا 155 ڈالر ملتا تھا۔اج ڈالر 107 روپے کا ہے تو پاکستانی کرنسی میں یہ تنخواہ ایک لاکھ ہوگی
5 ادھر بھارتی لابی نے اپنا کام دکھایا۔روسی قیادت نے کہا کہ دورے کی تاریخ آپ 15 اگست کرلیں،طاہر ہے وزیر اعظم کیلےؑ یوم آزادی پر ملک سے باہر ہونا ممکن نہ تھا کچھ ردو کد کے بعد یہ تاریخ 28 اکتوبر کر لی گیؑ اور لیاقت علی نے 16 اکتوبر کو راولپنڈی کے ایک جلسہؑ عام میں اس کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس سے پہلے یہ کسی کو نہیں بتایا گیا تھا
6 سید اکبر اپنے ایک بیٹے کے ساتھ راولپنڈی آیا اور بوہڑ چوک کے ایک ہوٹل میں قیام کیا لیاقت علی کیلےؑ اسٹیج پر صرف ایک کرسی سامنے رکھی گیؑ ان انتظامات کی نگرانی خود وزیر داخلہ نواب مشتاق احمد گورمانی کر رہے تھے لیکن سرکاری طور پر وہ کراچی میں کابینہ کے ایک اجلاس میں شریک تھے ۔سید اکبر کا سامنے کی پہلی قطار میں بٹھایا گیا جو سیکیورٹی عملے کیلۓ مخصوص تھی ۔جیسے ہی لیاقت علی نے تقریر شروع کی تو ان پر دو گولیاں چلایؑ گییؑں جو سرکاری اعلان کے مطابق سید اکبر نے چلایؑ تھیں وہیں موجود انسپکٹر نجف خاں نے وہیں سید اکبر کو دو گولیاں مار کے ختم کردیاجو اس کی ڈیوٹی تھی۔۔نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا۔۔ یاد کیجےؑ 55 سال بعد اسی جگہ ایک اور وزیر اعظم کو جو پاکستان کو سنبھال سکتی تھی اسی جگہ گولی ماری گیؑ اور ایک آیؑ جی کی نگرانی میں فایؑر بریگیڈ والون نے جاےؑ واردات کو کیسی عجلت میں دھو کر صاف کر دیاتھا
7،اس کے بعد لیاقت علی کو وہاں سے 5 کلومیٹر دور سی ایم ایچ لے جایا گیا۔میں اس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا اور میرا بھایؑ ساتویں کا،ہم کمپنی باغ نہیں پہنچ سکے تھے لیکن ہسپتال کے بہت قریب رہتے تھے۔خبر پھیلی تو والد ہمیں ساتھ لے کر ہسپتال کے باہر کھڑے ہوگےؑ جہاں کمپنی باغ سے پیدل انے والون کا سوگوار ہجوم کسی اچھی خبر کے انتطار میں ساکت و صامت کھڑا تھاکہ اندر جنرل میاں کمانڈنگ افسر سی ایم ایچ وزیر اعظم کا آپریشن کر رہے ہیں جو بڑے نامور سرجن تھے۔یہ بات غلط ہے ان کا اپریشن کسی اور نے کیا تھا لیکن بعد میں کہا گیا کہ جنرل میاں نے ہی ان کو اپریشن ٹیبل پر مار دیا۔۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وزیر اعظم کے انتقال کی خبر سب سے پہلے بی بی سی نے دی
8 جب اخبارات اورسیاسی لیڈروں نے شور کیا اور وزیر داخلہ کو قاتل کہا تو رسمی طور پر ایک انکوایؑری کمیشن کا اعلان کیا گیا جس کی سربراہی پھر نوابزادہ اعتزاز الدین نے کی لیکن اشک شویؑ کیلےؑ اس میں فوجی اوراسکاٹ لینڈ یارڈ یارڈ کے سراغرساں بھی شامل تھے۔ کمیشن اپنی رپورٹ لے کر ٹرین سے کراچی جارہا تھا کہ اس کی بکنگ منسوخ کی گیؑ اور اسے جہاز سے بھیجا گیا۔یہ جہاز پرواز کے کچھ دیر بعد کھیوڑۃ ضلع جھلم کے قریب گر کے تباہ ہو گیا۔۔یہ کہا جاتا ہے کہ رپورٹ کے ساتھ دوسرا مقسد اعتزاز الدین کو ختم کرنا بھی تھا جو اس ڈرامے کا ایک مرکزی کردار تھا
9 کراچی میں لال کوٹھی مشہور جگہ ہے،یہ میجر جنرل اکبر خان (رنگروٹ) کی رہایش گاہ تھی ان کی بیٹی نگہت اکبر پاکستان ٹی وی سے گاتی تھی،اکبر خان نے برسوں بعد اخبار میں اس قتل سے متعلق 9 سوال شایع کراےؑ تھے کہ ان کا جواب کون دے گا؟ ایک سوال یہ تھا کہ جو گولیاں لیاقت علی کے جسم سے بر آمد ہوییںؑ وہ صرف پولیس یا امریکن آرمی استعمال کرتی تھی۔۔کیا یہ صحیح ہے؟ ۔۔۔دوسرا سوال تھا کہ گولی کے بارے میں رپورٹ یہ ہے کہ وہ نیچے سے اوپر نہیں (جہاں سید اکبر بیٹھا تھا) اوپر سے نیچے چلایؑ گیؑ ۔۔کمپنی باغ کے گیٹ کے کمرے کی چھت سے۔۔۔کیا یہی صحیح ہے۔۔؟ تیسرا سوال تھا کہ جب گردو نواح کے دیہات سے لوگ مدد کے لےؑ بھاگے تو گرنے والے جہاز میں آگ لگی ہویؑ تھی ،انہیں وہاں مٹی کے تیل والے کنستر ملے۔۔وہ کہان سے آےؑ تھے۔۔یہ سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وضاحت کیلےؑ عرض کروں کہ وہ دوسرے میجر جنرل اکبر خان تھے جنہوں نے کشمیر میں جنگ کی قیادت کی تھی اور ان کی دو کتابیں "حدیث دفاع” اور "ہمارا دفاع” ہیں۔1948 میں وہ کرنل تھے اور انہوں نے قایؑد اعظم سے ایک محفل میں سوال کیا تھا کہ ہماری افواج کا سربراہ اب تک ایک برطانوی کیوں ہےّ۔۔(اس نے کشمیر پر مسلح افواج کے حملے کے احکامات جاری کرنے سے انکار کردیا تھا)۔۔۔قاید اعظم نے اکبر خان کو کہا تھا "شٹ اپ۔۔ یہ سوچنا تمہارا کام نہیں ہے”
10 ایڈیٹر دان زید اے سلیری نے غالبا” 16 اکتوبر 57 کو ایک مضمون مین نوابزادہ مشتاق احمد گورمانی کو قتل کا ذمے دار ٹہرایا اس نے ڈان کے خلاف لاہور ہایؑ کورٹ میں درخواست دایؑر کی ۔عدالت نے کیس فایل طلب کی تو25 فروری کو کہا گیا کہ وہ چیف سکرٹری کی تحویل میں ہے عدالت نے 2 مارچ کو سمن جاری کےؑ تو اتارنی جنرل نے بیان داخل کر دیا کہ فایل گم ہو چکی ہے۔۔بعد میں مال خانے سے مقدمےکی اشیا مثلا” خون آلود شیروانی وغیرہ بھی غایب کردی گییؑن۔ قاتلون نے مکمل خاموشی کے وعدے پر بیگم رعنا لیاقت علی کو باہر جانے کی اجازت دی اور ہالینڈ میں سفیر رکھا۔لیکن یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ مرتے دم تل وہ خاموش رہی اس نے کبھی ریڈیو ٹی وی کو انٹر ویونہیں دیا اس کےبیٹے اکبر اور اشرف ہنوز زندہ ہیں مگر گمنام۔۔۔ قاتل سید اکبر کی بیوہ سے ایک پولیس افسر نے شادی کی(غیر مصدقہ) لیکن اس کے دو بچوں کو امریکی شہریت دے دی گیؑ۔وہ وہان پروفیسر ہیں
یہان کہانی ختم ہوتی ہے کیونکہ اس کے بعد ایک شرابی فاترالعقل اور مفلوج شخص غلام محمد کو سربراہ مملکت بنا دیا گیا۔ جس نےوزیر اعظم بنایےؑ جانے والے گورنر جنرل الحاج ناظم الدین کی اسمبلی توڑ کے اسے برظرف کیا۔راہ میں مارے جانے کے خوف سے وہ برقعہ پہن کر سپریم کورٹ میں اپیل دایؑر کرنے گےؑ ۔۔ لیکن چیف جسٹس منیر نے "نظریہ ضرورت” ایجاد کیا اور گورنر جنرل کے حق میں فیصلہ دیا
امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرا کو بلا کر وزیر اعظم بنایا گیا جو دو سال بعد اپنی پوسٹ پر واپس چلا گیا
کیا اب بھی آپ کے ذہن مین کویؑ شک ہے کہ وہ سازشی ٹولہ تب سے نام بدل بدل کے حاکمیت سنبھالے ہوےؑ ہے اور اسلامی مملکت کا خواب دیکھنے والے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ مسلمان کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
میری زیر طبع سر گزشت سے اقتباس
اقتباس

تحریر : احمد اقبال

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment