بلاگ معلومات

زبانیں سیکھیے

دنیا میں اس وقت 7,102 زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔ کچھ زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد ایک ارب سے بھی اوپر ہے تو کچھ زبانیں 500 یا اس سے بھی کم افراد تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ براعظم ایشیاء میں سب سے زیادہ زبانیں زیراستعمال ہیں جن کی تعداد 2301 ہے، اس کے بعد براعظم افریقہ دوسرے نمبر پر ہے جہاں 2138 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ شمالی امریکا میں صرف 216 زبانیں ہیں۔آج کے دور میں علوم و فنون میں ترقی کےلیے متعدد زبانوں کا سیکھنا اور سمجھنا بڑا ضروری کام ہے۔

آپ کم از کم 3 زبانیں ضرور سیکھیے کہ دین لے سکیں (اردو، فارسی، عربی) اور 3 زبانیں مزید سیکھیے کہ دین، دنیا تک پہنچا سکیں (انگریزی، مینڈرن اور اسپینش)۔دنیا میں اس وقت کوئی ایک ارب سے اوپر لوگ چائنیز/ مینڈرین بولتے ہیں۔ 527 ملین کی مادری زبان انگریزی ہے (جبکہ اسے بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے اوپر ہے)۔ تقریباً 600 ملین لوگوں سے آپ ہندی/ اردو میں گفتگو کرسکتے ہیں۔ 400 ملین اسپینش بولتے ہیں، 467 ملین عربی سمجھتے ہیں، کوئی 200 ملین پرتگالی اور 118 ملین فرنچ۔آپ صرف اردو، عربی، انگریزی، فرنچ اور مینڈرین سیکھ جاتے ہیں

تو آپ تقریباً ساڑھے تین ارب لوگوں سے دنیا کے 257 ممالک میں بہ آسانی بات چیت کرسکتے ہیں۔اسلام اور دین کی تعلیمات حاصل کرنے کےلیے عربی، فارسی اور اردو سے فرار ممکن نہیں۔ اگر آپ کو عربی و فارسی آتی ہوں تو آپ اصل مآخذ سے براہ راست صحیح عبارت پڑھ کر مفہوم اخذ کرسکیں گے اور آپ کا تراجم پر انحصار ختم ہوجائے گا۔سائنس، فنون لطیفہ اور ایجادات و اختراعات کی دنیا انگریزی اور فرنچ سیکھے بغیر تسخیر نہیں کی جاسکتی۔ آئے دن ان دو زبانوں میں اسلام کے خلاف کیا کچھ نہیں لکھا جاتا۔

ایسے افراد کی ضرورت ہے جو ان لوگوں کو ان کے اعتراضات کا جواب ان ہی کی زبان میں دے سکیں۔ مثلاً ملعون سلمان رشدی نے سیٹینک ورسز کے نام سے کتاب کوئی 29 سال پہلے لکھی، مگر 44 اسلامی ملکوں کی ڈیڑھ ارب عوام نے آج تک اس کتاب کا جواب کتابی شکل میں اس کی زبان میں نہ دیا۔ ریلیاں نکالنے اور توڑ پھوڑ سے آگے کی جو دنیا ہے وہ بہت محنت طلب ہے جو ہم سے ہوتی نہیں ہے۔سی پیک کے بعد چینی ثقافت، اقدار اور آبادی کا عفریت ہمارے سامنے کھڑا ہے۔

کوئی طریقہ نہیں کہ آپ ان سے ان کے کام یا معیشت میں جیت سکیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ مینڈرین سیکھ کر کم از کم خدا کا دین تو ان تک پہنچاسکیں۔ہمارے بچے دو تین زبانیں تو بول ہی لیتے ہیں، ذرا سی توجہ کی ضرورت ہے کہ اگر ان زبانوں میں سے کوئی ایک دو اور آجائیں تو دین و دنیا دونوں کا بھلا ہو۔