ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

لاش کی چوری

جرائم کی دنیا بڑی وسیع ہے۔ اس دنیا میں بڑے بڑے نامی گرامی مجرم گزرے ہیں جنھوں نے ایسے ایسے جرائم کیے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اوران جرائم نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ امریکا میں جرائم پیشہ لوگوں کے ایک ایسے ہی گروہ کا نام ’’بگ جم گروہ‘‘ (Big JimmGroup) ہے۔ اس گروپ نے بڑی شہرت پائی۔ اس گروہ کے افراد جعل سازی میں بہت مشہور تھے۔ ’’بگ جم نامی‘‘ یہ گروہ ۱۸۷۶ء میں امریکا کی ریاست ’’ایلی نوائے‘‘ میں سرگرم تھا۔ یہ گروہ چھوٹے چھوٹے کام کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔

جعل سازی کے میدان میں یعنی جعلی نوٹ چھاپنے میں اس گروہ کو خاص مہارت حاصل تھی۔ ان کے تیارکردہ نوٹوں اوراصلی نوٹوں میں گہری مماثلت پائی جاتی تھی۔ کسی شخص کو شبہ تک نہ ہوتا تھا کہ اسے جعلی نوٹ دیا جاتا ہے۔ اس خطرناک گروہ کا سرغنہ بن بائیڈ تھا۔ چند ہی برسوں میں یہ لوگ اتنے دولت مند ہوگئے کہ انھوں نے اصل سے مشابہ نوٹ اتنی زیادہ تعداد میں تیار کر لیے کہ سرکاری خزانے اور بینک والوں کواس بات کی پریشانی لاحق ہو گئی کہ سرکاری طور پرچھاپے جانے والے نوٹوں کے مقابلے میں اتنی بڑی تعداد میں نوٹ کہاں سے آ گئے۔

خفیہ تفتیشی ادارے نے تحقیق کی تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ یہ نوٹ اصلی نہیں ہیں۔ یوں پولیس اور دیگر حکومتی ادارے سرگرم عمل ہو گئے۔ بالآخر مجرموں کا سراغ مل گیا اور گروہ کے سرغنہ بن بائیڈ کو عین اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ نوٹ بنانے میں مصروف تھا۔ بن بائیڈ کے باقی ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ بن بائیڈ کو ۱۰ سال قید بامشقت کی سزا ہوئی اور اسے جیل بھجوا دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ مجرم خواہ کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو، قانون کی پکڑ میں ایک نہ ایک روز آ ہی جاتا ہے۔

گروہ کے سرغنہ بن بائیڈ کی گرفتاری اور سزا کے بعد ’’بگ جم گروہ‘‘ کے دوسرے افراد بھی پریشانی کا شکار ہو گئے۔ ان کے پاس جو جعلی نوٹ تھے، انھیں بازار میں لانے سے وہ ہچکچانے لگے۔ آخر کام تو چلانا تھا چنانچہ بڑی احتیاط سے وہ بازار میں جعلی نوٹ چلاتے، آہستہ آہستہ ان جعلی نوٹوں کا ذخیرہ بھی ختم ہو گیا۔ چونکہ جعلی نوٹوں کے بلاک بنانے میں بھی بن بائیڈ کو ہی مہارت حاصل تھی، اس لیے جعلی نوٹ بنانے اور چھانپے کا دھندہ بھی ختم ہو گیا۔ ’’بگ جم گروہ‘‘ کے باقی افراد جب مالی مشکلات کا شکار ہونے لگے تو انھوں نے سوچا کہ ان کی عیش وعشرت اسی صورت میں جاری رہ سکتی ہے کہ اپنے سربراہ بن بائیڈ کی جیل سے رہائی کو یقینی بنایا جائے۔

لیکن یہ تقریباً ناممکن تھا اور اس کی سزا ابھی کافی سال باقی تھی۔ ’’بگ جم گروہ‘‘ کے افراد نے بہت سوچ بچار کی کہ کس طرح سے وہ اپنے باس بن بائیڈ کو رہا کرا سکتے ہیں۔ اس سوچ بچار کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسا شیطانی منصوبہ تیار ہوا جس کی مثال جرائم کی تاریخ میں تقریباً ناپید ہے۔ امریکا کے جتنے بھی صدور گزرے ہیں، ان میں ایک نام ایسا ہے جسے سب سے زیادہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ نام ہے…ابراہام لنکن۔ ابراہام لنکن کے ساتھ امریکیوں کی محبت مختلف انداز کی ہے اور کیوں نہ ہو۔ ابراہام لنکن نے اپنے دورِ صدارت میں غلامی کے تصور کو ختم کیا تھا۔

حبشیوں یعنی سیاہ فام لوگوں کو پہلی بار انسانی حقوق ملے تھے۔ ملک میں جو بڑے پیمانے پر خانہ جنگی شروع ہوئی تھی، اس میں بھی ابراہام لنکن نے اپنی بے مثال قیادت میں ملک کو تباہی سے بچایا تھا۔ یہ تو تھے ابراہام لنکن… اب ہم آتے ہیں ’’بگ جم گروہ‘‘ کے اس خطرناک منصوبے کی طرف۔ گروہ کے مجرموں نے منصوبہ بنایا کہ وہ ابراہام لنکن (جو کب کا مر چکا تھا) کی لاش کو مع تابوت کے اس کے مدفن سے چوری کر لیں۔ منصوبے کی تفصیل یہ تھی کہ رات کو ابراہام لنکن کی لاش تابوت سے چوری کر کے ایک تیز رفتار گھوڑا گاڑی کے ذریعے شمالی انڈیانا میں مشی گن جھیل کے کنارے لے جا کر ریت کے ٹیلوں میں چھپا دیا جائے۔
گھوڑا گاڑی استعمال ہو گی تو اس کے نشانات جلد ہی ریت میں دب جائیں گے اور کسی کو سراغ نہیں مل سکے گا۔ ان جعل سازوں کو اس بات کا بھی علم تھا کہ ابراہام لنکن کی لاش کی چوری سے صرف امریکا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میںہلچل مچ جائے گی۔امریکا کی بدنامی ہو گی۔ حکومت اور عوام ہر ممکنہ قیمت پر ابراہام لنکن کی لاش واپس لینے کی کوشش کریں گے۔
چنانچہ یہ وہ وقت ہو گا جب یہ لوگ حکومت سے ڈیل کریں گے اور یہ شرط رکھیں گے کہ حکومت ان کے ساتھی بن بائیڈ کو رہا کرے اور ۱۰لاکھ ڈالر بھی ادا کرے۔ ان مجرموں کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انھیں علم تھا کہ امریکی قانون میں کسی کی لاش چرانا جرم نہیں سمجھا جاتا۔ اس لیے سزا بھی نہیں مل سکے گی۔ چنانچہ ساری منصوبہ بندی کے بعد بالآخر گروہ نے اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

۶ نومبر ۱۸۷۶ کے دن کا انتخاب ہوا۔ ۶ نومبر کی شام تک سب تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ گروہ کے افراد اس روز سپرنگ فیلڈ پہنچے جہاں ابراہام لنکن کا مقبرہ تھا۔ ۶ نومبر کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ اس روز ریاست میں عام انتخابات ہو رہے تھے۔ گروہ کے کارندے جانتے تھے کہ لوگ اور سرکاری عملہ و پولیس انتخابات میں مصروف ہو گی، اس لیے انھیں اپنا منصوبہ مکمل کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہو گا۔ابراہام لنکن کا مقبرہ بھی آبادی سے تقریباً دو میل دور تھا۔ اس لیے منصوبہ سازوں نے اپنا کام آسانی سے کیا۔ سب سے پہلے انھوں نے مقبرے کے دروازے کو کاٹا، اندر داخل ہونے کے بعد قبر سے سنگ مر مر کا تختہ اٹھایا اور پھر وہاں موجود سبھی لوگ وہ تابوت کھینچ کر باہر نکالنے لگے جس میں ابراہام لنکن کی لاش مقفل تھی۔ اس گروہ میں شامل سویگ لیز نامی شخص کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اشارہ پاتے ہی اس گھوڑا گاڑی کو قریب لے آئے جسے مقبرے سے تقریباً دو سو گز دور ایک خشک نالے میں چھپایا گیا تھا۔سویگ لیز اس گروہ کا بالکل نیا کارکن تھا۔ جب تابوت نکالا جا رہا تھا تو سویگ کو گھوڑا لانے کا اشارہ ملا۔ وہ مقبرے سے ذرا دور گیا۔ پھر اس نے سگار منہ میں رکھ کر اسے سلگانے کے لیے جیسے ہی دیا سلائی جلائی، پولیس کے ۸ آدمی جو کہیں چھپے بیٹھے تھے، دوڑے آئے۔ سویگ لیز نے انھیں کہا ’’واش‘‘ (صاف کر دو یعنی پکڑ لو)۔ دیا سلائی کا جلنا دراصل چھپے ہوئے پولیس اہل کاروں کو اشارہ تھا کہ آ جاؤ۔

سویگ جو ’’بگ جم گروہ‘‘ کا نیا کارکن تھا، درحقیقت پولیس کا آدمی تھا جو اس گروہ کو موقع پر پکڑنا چاہتا تھا۔ گروہ کے کسی بھی آدمی کو اس پر شک نہ ہوا۔ اشارہ ملتے ہی آٹھوں سپاہی پستول لیے مقبرے کے اندر داخل ہو گئے۔ سپاہیوں نے تاریکی کی وجہ سے للکارا133 لیکن وہاں کوئی آہٹ سنائی نہ دی تو انھوں نے روشنی کر کے دیکھا۔ وہ تابوت جس میں ابراہم لنکن کی لاش تھی، قبر سے باہر پڑا تھا۔ مجرم وہاں سے بھاگ گئے تھے۔ شاید انھیں عین وقت پر خطرے کا احساس ہو گیا تھا کہ وہ سپاہیوں کے آنے سے پہلے ہی نکل گئے تھے۔ اس واقعہ کے ۱۰ روز بعد اس گروہ کے ارکان کو ’’شکاگو‘‘ سے گرفتار کر لیا گیا جہاں وہ پناہ لیے ہوئے تھے۔انھیں سپرنگ فیلڈ کی جیل میں بند کر دیا گیا جہاں ان پر دن رات کڑا پہرہ رہتا تھا۔ جیسے ہی لوگوں کو اس گروہ کے اس خوفناک منصوبے کا علم ہوا تو سارے امریکا میں غصہ دیدنی تھا۔ لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کے محبوب کی لاش چوری کرنے والوں کو پھانسی دی جائے۔ ابراہام لنکن کے بیٹے رابرٹ لنکن، جس کی شادی ایک دولت مند خاندان میں ہوئی تھی، نے اپنے باپ کی لاش کی بے حرمتی کرنے والوں کو تختہ دار تک پہنچانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے امریکا کے قابل ترین وکیلوں کی خدمات حاصل کیں لیکن بالآخر یہ ساری کوششیں بیکار گئیں۔ دراصل مجرموں نے اپنا منصوبہ بڑی دانش مندی سے تیار کیا تھا۔

انھیں پہلے سے معلوم تھا کہ امریکی قانون میں لاش کی چوری کو جرم نہیں سمجھا جاتا اور قانون ایسے مجرم کو کوئی سزا بھی نہیں دیتا۔ یوں ان مجرموں کے خلاف صرف یہ جرم ثابت ہوا کہ انھوں نے ۵۷ ڈالر مالیت کے تابوت کو چرانے کی کوشش کی ہے اور اس میں انھیں ناکامی ہوئی ہے۔ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا تو پہلی پیشی پر ہی بعض ججوں نے فیصلہ دیا کہ مقدمہ خارج کر دینا چاہیے کیونکہ امریکی قانون کے مطابق تابوت یا لاش چرانا سرے سے کوئی جرم ہی نہیں ہے لیکن جیوری کے بعض ممبروں اور دیگر ججوں کے اصرار پر بالآخر ’’بگ جم گروہ‘‘ کو کوئی سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ ان مجرموں کو جنھوں نے اپنے ساتھی کو رہائی دلانے کے لیے ایک گھناؤنا منصوبہ تیار کیا اور امریکی صدر کی لاش چرانے کا منصوبہ بنایا، انھیں اس جرم کی پاداش میں صرف ایک سال کی سزا سنائی گئی۔چونکہ لنکن کے دوستوں کو یہ خدشہ تھا کہ پھر کسی وقت چور اس کی لاش چرا کر لے جائیں گے۔ اس لیے لنکن کی یادگار کی ایسوسی ایشن نے اسے لوہے کے صندوق میں بند کر کے ایک غار میں جو ایک طرح کی کوٹھڑی تھی، چھپائے رکھا۔ اس عرصے میں ہزاروں لوگ صرف اس کے پتھر کے خالی تابوت ہی کو اس کی لاش سمجھ کر اس کی زیارت کے لیے جاتے رہے۔ کئی وجوہات کی بنا پر لنکن کی لاش کو ۱۷ دفعہ منتقل کیا گیا، لیکن پھر اسے مستقل طور پر ایک فولادی کمرے میں قبر سے نیچے ۶ فٹ تک پختہ زمین میں رکھ دیا گیا۔ اس کیس نے اس وقت بڑی شہرت حاصل کی تھی اور ظاہر ہے یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ تھا جس میں عوام کے محبوب لیڈر اور سابق امریکی صدر ابراہام لنکن کی لاش چوری کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

بشکریہ اردو ڈائجسٹ

تبصرے
Loading...