بلاگ

ڈاکٹر لیری نصر اور جنسی تعلیم

زیر نظر تصویر میں موجود شخص ڈاکٹر لیری نصر (Larry Nasser) ہے . موصوف ایک مشھور امریکی ڈاکٹر ہیں . جبکہ بہت سے گولڈ میڈلسٹ امریکی اتھلیٹس کے فزیشن بھی رہ چکے ہیں . دوسری تصویر رچل ڈین ہولنڈر (Rachel Denhollader) نامی خاتون کی ہے ، موصوفہ امریکن اتھلیٹ تھیں اور پھر قانون کی ڈگری حاصل کر کے وکیل بن گئیں .

ان دونوں افراد کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے ، اس رشتہ کو ہم نفرت ، غصہ ، برداشت یا اذیت میں سے کوئی بھی نام دے سکتے ہیں ، خیر کہانی آج سے 15 سال پہلے شروع ہوتی ہے جب 15 سالہ اتھلیٹ ریچل اپنے علاج کیلئے ڈاکٹر لیری کے پاس جاتی ہے ، پر کچھ روز میں ہی ریچل کو معلوم ہوجاتا ہے کہ علاج کے نام پر جو کچھ ڈاکٹر لیری نصر اسکے ساتھ کر رہا ہے وہ انتہائی غلط ہے ، ریچل یہ بات اپنے گھر والوں کو بتاتی ہے پر کوئی بھی اسکی بات پر توجہ نہیں دیتا ہے ، اسکول انتظامیہ ہو یا دوست و اقارب سب کو ریچل کی باتیں فضول بکواس لگتی ہیں ، لہذا دل برداشتہ ہوکر ریچل اتھلیٹ بننے کا خواب چھوڑ کر اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کردیتی ہے . وقت گزرتا جاتا ہے پر ریچل کے اندر کا غصہ اور نفرت اسے ایک پل سکوں نہیں لینے دیتا اور یہ بات اسے پریشان رکھتی ہے کہ نجانے یہ بھیڑیا صفت ڈاکٹر اب تک کتنے معصوم بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکا ہوگا .
تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب ریچل وکیل بنتی ہے تو سب سے پہلے وہ اس بھیڑیا نما ڈاکٹر کے خلاف ثبوت اکٹھا کرنا شروع کردیتی ہے ، اس دوران سرکاری اداروں سے لیکر اپنی سوسائٹی تک سے جس طرح کا ردعمل ریچل کو برداشت کرنا پڑتا ہے وہ ایک الگ دکھی داستان ہے پر قدرت ریچل پر مہربان تھی لہذا جلد ہی ایسی خواتین سامنے آنے لتی ہیں جو اپنے بچپن میں ڈاکٹر لیری نصر کی ہوس کا نشانہ بن چکی ہوتی ہیں .
بہرحال قانون کا شکنجہ کسا جاتا ہے اور ڈاکٹر لیری نصر کو گرفتار کرلیا جاتا ہے ، اسکی رہائش گاہ اور کلینک میں جاری سرچ آپریشن کے دوران اسکے ڈیٹا سے بچوں کی لگ بھگ 40 ہزار فحش تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوتی ہیں . جیسے جیسے یہ کیس میڈیا پر آنا شروع ہوتا ہے ویسے ہی اس ڈاکٹر کی متاثرہ خواتین اور بچیاں بھی ہمت مجتمع کر کے سامنے آنا شروع ہوجاتی ہیں . حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس ڈاکٹر کی ہوس کا نشانہ بننے والی خواتین میں کم سے کم 6 خواتین ایسی ہیں جو اولمپک مقابلوں میں امریکہ کیلئے گولڈ مڈل جیت کر لا چکی ہیں ، جبکہ اس ڈاکٹر کی شکار سب سے کم عمر بچی کی عمر محض 6 سال ہے .
چند روز قبل ڈاکٹر لیری نصر کو 175 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے ، اس سزا کی دلچسپ بات یہ ہے کہ سزا سنانے سے قبل 186 خواتین جو اس ڈاکٹر کی درندگی کا نشانہ بن چکی تھیں انھوں نے اس ڈاکٹر کے سامنے عدالت میں وہ تمام واقعات بیان کئے کہ کس طرح اس ڈاکٹر نے انہیں اپنی درندگی کا نشانہ بنایا ، یہاں تک کہ بعض اوقات بچی کی ماں کلینک میں سامنے بیٹھی ہوتی تھی تب بھی یہ خبیث فطرت ڈاکٹر اپنی حرکتوں سے باز نہ آتا تھا ، یہاں اس موقع پر ایک متاثرہ خاتون نے بہت زبردست جملہ کہا کہ

” ڈاکٹر تمھیں پتا ہونا چاہئے کہ بچے ہمیشہ بچے نہیں رہتے ، وہ بڑے بھی ہوجاتے ہیں” کل اعداد شمار کے مطابق اپنے 30 سالہ کیریئر میں یہ ڈاکٹر لیری نصر 300 سے زائد بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا چکا تھا ، اور یہ واضح رہے کہ یہ اس معاشرے کی بات کی جارہی ہے جہاں ” جنسی تعلیم ” عام ہے ، بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ کیا غلط اور کیا صحیح ہے پھر بھی بچے کچھ بتانے کی ہمت نہیں کر پاتے . اسی لئے میں شروع سے یہ بات کر رہا ہوں کہ بچوں کو جنسی تعلیم کی نہیں بلکہ خود اعتمادی کی ضرورت ہے ، انسان چاہے پاکستان و امریکہ کے ہوں یا سعودیہ کے ، انڈیا کے ہوں یا چین کے . تمام انسانوں کے مسائل مشترکہ ہیں . اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ مطالعہ لبرلستان کو پڑھ کر ایسی اندھی حماقتوں پر یقین کرلیں کہ جی مغرب میں تو عورت برہنہ بھی کھڑی ہو تو بھی مرد اسکی طرف نہیں دیکھتا وغیرہ وغیرہ

ہمارے معاشروں میں پھیلتے "پیڈو فائلز ( بچہ بازی ) ” بڑھنے کی وجہ جنسی تعلیم سے دوری نہیں بلکہ بچوں کی بات نہ سننے کی وجہ سے ہے ، ہمارے معاشرے میں ” شکایت ” لگانے والے بچے کو برا سمجھا جاتا ہے ، ہمیں یہ روش ترک کرنا ہوگی ، بچہ چاہے ٹھیک شکایت لگا رہا ہے یا غلط ، اسے جھڑکنے کے بجائے اسے سننے کی عادت اپنائیں ورنہ ابن آدم امریکہ کا ہو یا پاکستان کا اسے بہکانے والا شیطان ایک سا ہی ہوتا ہے !!

ملک جہانگیر اقبال