اہم کالمز معلومات

کیا واقعی پشتونوں کو جنگوں میں جھونکا گیا؟ ( حصہ اؤل )

انگریز جنرل نے قائداعظم کا حکم ماننے سے انکار کیا اور کشمیر فوج بھیجنے سے معذرت کی کیونکہ دوسری طرف بھی فوج کی کمانڈ انگریز کر رہا تھا۔ ظاہر ہے دو انگریز آپس میں نہیں لڑ سکتے تھے۔ جنرل اکبر خان جو کہ پشتون تھا ان دنوں برگیڈئر تھا۔ اس نے چھٹی لی۔ فاٹا میں اعلان کرایا کہ کشمیر میں ہندو کے خلاف جہاد ہے، جو کچھ ہندو سے ہاتھ لگا وہ تمہارا مال غنیمت۔ قریباً تین سے بارہ ہزار کا لشکر گیا۔ لیکن آگے جانے سے پہلے ایک بہت اہم بات نوٹ کر لیجیے۔ دوسری جنگ عظیم میں کشمیر سے ساٹھ ہزار کے قریب جوانوں کو برٹش آرمی میں بھرتی کیا گیا تھا جن کو بعد میں ہتھیاروں سمیت فارغ کیا گیا۔

ڈوگرا فوج کے خلاف ابتدائی بغاوت انہوں نے کی تھی۔ مری میں اپنا ہیڈکواٹر بنایا تھا۔ انگریز جنرل کو لاعلم رکھتے ہوئے جنرل اکبر نے ان کو چار ہزار مزید بدوقیں بھی دی تھیں۔ چند سو ریٹائرڈ فوجی بھی ان کے ساتھ مل گئے تھے۔ قبائیلی لشکر کی آمد سے قبل ہی یہ باغی پونچ اور میر پور سمیت کشمیر کے ایک بڑے حصے کو ڈوگرا فوج سے آزاد کرا چکے تھے۔ قبائیلی کمک آنے کے بعد شکست کے دھانے پر کھڑی ڈوگرا فوج کی اکثریت بھاگ گئی۔ اس کے بعد انڈین فوجیں آئیں تو قبائیلیوں اور باغیوں دونوں کو پسپا ہونا پڑا۔ تب تک پاک فوج کو انگریز کمانڈ منتقل کر چکے تھے۔ پاک فوج کے باقاعدہ دستے کشمیر کے محاذ پر پہنچے اور انڈین فوج کی پیش قدمی کو روک دیا۔

قبائلی لشکر واپس ہوئے لیکن کشمیری آج تک شکایت کرتے ہیں کہ مال غنیمت کے نام پر قبائیلوں نے کشمیری مسلمانوں کو بھی لوٹا۔ جتنا مرضی رد کریں لیکن یہ سچ ہے اور وہ کہتے ہیں۔ ہم نے آزادی حاصل کرنے میں کشمیریوں کا ساتھ دیا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہم نے کشمیر آزاد کرایا۔ اگر کرایا تو پھر جنرل اکبر خان یعنی پاک فوج کو کریڈٹ دو جس نے باغیوں اور قبائلیوں دونوں کو لڑایا۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ وہ بھی پشتون تھا تو پھر یہ گلہ کرنا چھوڑ دو کہ پشتونوں کو پنجابی یا کسی اور نے استعمال کیا۔ ہمیں اس جنگ پر لے جانے والا جنرل اکبر خان بھی پشتون تھا، کمانڈ بھی اسی نے کی۔ ہم نے کشمیری باغیوں کا ساتھ دیا تھا۔

ہمارے بزرگ احمق نہیں تھے۔ اگر کشمیریوں کا الزام درست مان لیا جائے تو ہمارے بزرگوں کو دو چیزوں نے جنگ پر آمادہ کیا۔ ” ثواب اور مال غنیمت” کچھ ثواب کما کر لائے اور کچھ مال غنیمت۔ کسی پر نہیں بلکہ خود پر احسان کیا تھا ہم نے دونوں صورتوں میں۔ پینسٹھ کی جنگ میں کمانڈ ایوب خان کے پاس تھی جو کہ پشتون تھا۔ جنرل موسی خان بھی پشتون تھا اور ائر فورس چیف نور خان بھی پشتون تھا۔ ایوب خان نے کشمیر میں آپریشن لانچ کیا۔ پاک فوج کی کافی شہادتیں ہوئیں۔ بڑی تعداد پنجابیون کی تھی۔ پھر انڈیا کے ساتھ باقاعدہ بڑی جنگ میں لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ پر۔ ہزاروں پنجابی فوجی شہید ہوئے۔ بے مثال قربانیاں دی گئیں۔ ٹینکوں سے بندے ٹکرا گئے۔ انڈیا کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

مزید پڑھیں: جہادی تنظیمیں ۔۔۔پاکستان اور کیا کرے؟

اس جنگ میں ایوب خان نے سندھ میں ہروں کو بھی انڈیا کے خلاف استعمال کیا اور تقریباً پینسٹھ ہزار کے قریب ہروں نے انڈیا کے خلاف جنگ کی اور ان کو ناکوں چنے چبوائے۔ پشتون کی کمانڈ میں سندھی اور پنجابی دونوں لڑے اور خوب لڑے۔ میں نے آج تک کسی پنجابی اور سندھی سے نہیں سنا کہ ایوب خان نے ہمیں انڈیا سے لڑوایا تھا۔ مجھے نہیں علم میں پینسٹھ کی جنگ میں پشتون قبائل نے حصہ لیا تھا یا نہیں اگر لیا تھا تو کتنے لوگ تھے اور کس محاذ پر لڑے تھے؟؟ اکہتر میں یحی خان کمانڈ کر رہا تھا جو کہ پشتون تھا۔ ڈھاکہ میں اپنا پستول انڈیا کے حوالے کرنے والا بھی جنرل نیازی بھی پشتون تھا۔ نیچے لڑنے والوں کی اکثریت پنجابی تھی۔ جان توڑ کر لڑی۔ مکتی باہنی کے ہاتھوں اپنے بیویوں بچوں سمیت ہزاروں پنجابیوں نے جانیں دیں۔ سازش، مقامی آبادی کی مخالفت، محدود تعداد اور مرکز سے بہت دور ہونے کی وجہ سے شکست ہوئی۔ لیکن آج بھی انڈینز جرنیلوں کی وڈیوز موجود ہیں کہ پاک فوج بنگلہ دیش میں شیروں کی طرح لڑی۔ دوبارہ دہراؤں کہ اکثریت پنجابی تھی۔ کمانڈ البتہ پشتون کے پاس تھی۔ اس جنگ میں قبائیلی یا عام پشتون لڑے تھے؟؟ اگر لڑے تھے تو کس محاذ پر؟؟ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔