اسلام بلاگ

کیا شیطان انسان میں داخل ہو سکتا ہے؟

اب تو سائنس وائنس کی برکت سے خیر مذہبی ذہن بھی اس کا انکار کرنا شروع ہو گیا ہے کہ انسان پر شیطان آ سکتا ہے حالانکہ اس کے دلائل بیسیوں ہیں جو کتاب وسنت میں موجود ہیں۔ رہی یہ بات کہ مغرب جادو اور جنات کو نہیں مانتا تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے، تو معلوم نہیں تم نے مغرب کے کس محلے میں کتنا عرصہ گزار لیا ہے جو یہ دعوی کر رہے ہو کہ اب یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ رہ گیا ہے، اور جدید مغربی آدمی ان خرافات سے نکل چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جادو جنات کے حوالے سے سب سے کم یقین اگر کسی معاشرے میں پایا جاتا ہے یا پایا جا سکتا ہے، تو وہ مسلمان معاشرہ ہے۔ جس معاشرے نے خدا کا انکار کر دیا ہو، اس پر شیطان سوار نہ ہو، یہ کیسے ممکن ہے؟ تو جن معاشروں نے خدا کا انکار کیا ہے، ان میں سب سے زیادہ جادو جنات کو ماننے والے لوگ موجود ہیں۔

مغرب میں تو شیطنت (satanism) بطور مذہب کے پروموٹ ہو رہا ہے۔ باقاعدہ شیطان کی عبادت کی جاتی ہے، اسے خدا کی طرح پوجا جاتا ہے، گرجا گھر خرید کر شیطان کے عبادت خانے بنا دیے جاتے ہیں۔ اور یہ پجاری ان کے معاشروں کے عام لوگ نہیں، خاص الخواص ہیں۔ ابھی آپ یہ لکھ کر گوگل کریں کہ "میجک اِن ہالی وڈ موویز” تو آپ کے سامنے بیسیوں موویز ایسی آ جائیں گے جو پچھلی دو دہائیوں میں بنائی گئی ہیں اور ان کا موضوع جادو جنات ہے اور سپر ہِٹ موویز ہیں۔ مطلب، ہیری پورٹر وہ بنائیں اور جادو جنات کے وہم کا طعنہ ہم سنیں! مغرب میں جادو جنات پر کس قدر یقین موجود ہے، اس کا اندازہ ہیری پورٹر کی مقبولیت سے لگا لیں، کسی سروے کی ضرورت نہیں ہے۔ سروے وغیرہ تو انہوں نے ہم جیسے توہم پرست معاشروں کے لیے رکھے ہوئے ہیں کہ آج بھی افریقہ میں اتنے لوگ جادو ٹونے پر ایمان رکھتے ہیں، اب اس پر تحقیق ہو رہی ہے۔

تو تم خود کہاں کھڑے ہو؟ ڈر کے مارے اس قابل بھی نہیں رہے کہ ریسرچ ہی کر سکو۔ اور اگر کسی سرپھرے نے کر بھی لی تو یہ نتیجہ نکال دکھایا کہ جادو پر ایمان انسانی دماغ کا پیدائشی مسئلہ ہے لہذا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ سائنس کے زمانے میں بھی ہم مغربی لوگ جادو پر ایمان کیوں رکھتے ہیں! لینکاسٹر یونیورسٹی، برطانیہ کے سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ایک پروفیسر صاحب کی ریسرچ یہ کہتی ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا جادو جنات پر ایمان نہیں ہے، ان کا عمل بھی یہ بتلا رہا ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے تحت الشعور (sub-consciousness) میں اس پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن خواہ مخواہ انکار کا تکلف کر رہے ہوتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جادو جنات کے حوالے سے آج کا مغربی معاشرہ بھی جن خرافات اور توہمات میں پڑا ہوا ہے، ہم مسلمان ان سے بہت امن میں ہیں۔ سائنسی دور کا مغربی انسان آج بھی دور تنویر (enlightenment) سے پہلے کے زمانے کے عقائد ونظریات میں جی آ رہا ہے یعنی ابھی تک اپنے دور جاہلیت میں سانس لے رہا ہے۔

جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو اسلام کے مطابق جنات ایک ایسی مخلوق ہیں جنہیں آگ کی لَو (invisible flame) سے پیدا کیا گیا ہے، جو آگ کے شعلے کا سب سے اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں جنات کی پیدائش کا ذکر ہے بلکہ سورۃ الجن کے نام سے ایک پوری سورت موجود ہے۔ باقی جنات، انسانوں سے کمزور ہیں، انسان ان سے کئی گنا طاقتور ہے اور اس کا جنات خود اقرار کرتے ہیں۔ جنات کا معاملہ اس سانپ کا سا ہے جو انسان سے ڈرتا ہے جبکہ انسان اس سے ڈر رہا ہوتا ہے۔ تو انسان اشرف المخلوقات ہیں، جنات کے جد امجد ابلیس کو حکم دیا گیا کہ انسانوں کے جد امجد آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو یہ انسان کی جنات پر فوقیت (superiority) کی واضح علامت ہے ناں۔ اور اسی وجہ سے تو شیطان کو انسان سے حسد ہے کہ یہ پیدا بعد میں ہوا لیکن تخلیق میں مجھ سے بہتر ہے۔

مزید پڑھیں: کیا جادو ایک نفسیاتی مسئلہ ہے؟

رہی یہ بات کہ شیطان کو انسان پر کس قدر تصرف حاصل ہے تو اس کے مختلف درجات ہیں۔ پہلا درجہ تو وسوسے کا ہے کہ شیطان انسان کو وسوسہ ڈال سکتا ہے اور یہ وسوسہ ڈالنے کی اجازت اسے خدا نے دی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ﴾ کہ میں اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جو انسانوں کے سینوں میں وسوسہ ڈال دیتا ہے۔ اور اس کا علاج قرآن مجید نے تعوذ کی صورت میں بتلایا گیا ہے کہ جب بھی شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو فورا "اعوذ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ” پڑھ لے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ﴾ یعنی جب بھی شیطان تمہیں کوئی وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ اور شیطان کا یہ وسوسہ خدا کے بارے بھی ہوتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آ کر کہتا ہے کہ فلاں کو کس نے پیدا کیا، فلاں کو کس نے پیدا کیا، یہاں تک کہ تم سے کہتا ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا؟ تو جب تم یہاں پہنچو تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ تو یہ خیال شیطان کا پیدا کردہ ہوتا ہے نہ کہ انسان کا اپنا۔ تو گویا کہ شیطان کو یہ اختیار ہے کہ وہ ہمارے دماغ میں کوئی سوچ پیدا کر سکے جنہیں ہم شیطانی خیالات بھی کہہ دیتے ہیں۔

بعض اوقات یہ وسوسہ طہارت اور وضو کے بارے بھی ہوتا ہے۔ مذہبی آدمی اور بعض اوقات غیر مذہبی کو بھی شیطان اس طرح بھی تنگ کرتا ہے۔ سنن ابو داود کی روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی ایک نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اسے وسوسہ ڈالتا ہے کہ تمہارا وضو ٹوٹ گیا ہے۔ بس اس وسوسے پر اسے جواب دو کہ تم جھوٹے ہو۔ اب کوئی صاحب گھںٹوں واش میں ہاتھ دھوتے گزار دیتے ہیں، اور اسے نفسیاتی بیماری سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ شیطان کا وسوسہ ہے جو حد سے بڑھ جائے تو بیماری بن جاتی ہے جسے او۔سی۔ڈی (Obsessive Compulsive Disorder) کا نام دیا جاتا ہے۔ دم اور جھاڑ پھونک سے یہ مرض جاتا رہتا ہے اگرچہ کاؤنسلنگ سے بھی اس کا علاج کبھی کبھار ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل میں شیطان آپ کی کمزوری دیکھتا ہے، اگر طہارت اور نفاست آپ کی کمزوری ہے تو وہ آپ پر یہاں سے حملہ کرے گا کیونکہ اس کا انسان پر بس چلنا آسان نہیں ہے کہ انسان اس سے طاقتور ہے۔ تو شیطان ہمیں بیمار نہیں کرتا لیکن ہماری بیماری کے جراثیم یا جسم کے کمزور پہلو کو مَس کر کے چھیڑ دیتا ہے کہ جس سے وہ بیماری کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ اور ڈاکٹر یا سائیکالوجسٹ جسم کے اس کمزور حصے کو دوائی یا کاؤنسلنگ کے ذریعے مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اسی طرح شیطان کا یہ وسوسہ میاں بیوی کے بارے بھی ہوتا ہے کہ ان میں لڑائی کروا سکے اور نوبت طلاق تک پہنچ جائے جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ ابلیس اپنا تخت سمندر پر بچھاتا ہے اور اپنے چیلوں کو دنیا میں بھیجتا ہے کہ فساد پھیلا کر آئیں۔ وہ چیلے واپس آ کر اسے رپورٹ کرتے ہیں کہ ہم نے دنیا میں یہ فساد پھیلایا۔ اور ایک آ کر یہ کہتا ہے کہ میں نے میاں بیوی میں لڑائی کروائی یہاں تک کہ ان میں علیحدگی ہو گئی۔ تو ابلیس اپنے تخت سے اٹھ کر اس شیطان کو گلے لگاتا ہے اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھاتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ یہ ہے میرا اصل جانشین۔ اس کی وجہ سمجھ میں بھی آتی ہے کہ میاں بیوی کی علیحدگی جس قسم کے ذہنی مسائل پیدا کر دیتی ہے، اس کا نتیجہ عموما ایمان اور مذہب کے بھی جاتے رہنے کی صورت نکلتا ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکلے تو رستے میں دو لوگ ملے۔ آپ نے ان سے کہا کہ یہ میری بیوی ہے۔ انہوں نے سبحان اللہ کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، یہ بتلانے کی کیا ضرورت تھی! آپ نے کہا کہ شیطان تمہارے دل میں وسوسہ ڈال سکتا تھا۔ یعنی میں نے شیطان کا رستہ بند کر دیا ہے۔ تو اس قسم کے شیطان کے وسوسوں سے حفاظت کے لیے کمیونکیشن بہت ضروری ہے، خاص طور میاں بیوی اور قریبی رشتوں میں۔

اسی طرح شیطان کے تصرف کی دوسری صورت انسان کو مَس (touch) کرنا ہے اور مَس کی بھی کئی ایک صورتیں ہوتی ہیں۔ کبھی وہ صرف مَس ہی کرتا ہے جیسا کہ بچوں کو اور اس کا اثر ہلکا ہوتا ہے جیسا کہ بچے کے نارمل بی۔ہیویئر میں کچھ تبدیلی آجاتی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو چھیڑتا ہے اور اس کے چھیڑنے سے وہ روتا ہے۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صی اللہ علیہ وسلم ((أُعِيذُكُمَا بِكَلِماتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ)) پڑھ کر حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو دم کرتے تھے۔ ترجمہ: میں تم دونوں کو اللہ کے مکمل ہونے والے کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر شیطان سے، ہر جادو ٹونے سے، اور ہر نظر بد سے۔ میں خود بھی اپنے بچوں میں جب ضرورت سے زیادہ ایٹی چیوڈ پرابلم دیکھتا ہوں تو انہیں ساتھ لگا کر منزل پڑھتا ہوں، اور اس سے بعض اوقات تو سو فی صد رویہ بدل جاتا ہے اور بعض اوقات کچھ بہتری آتی ہے۔ اب تو وہ اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ جب اپنا آپ سنبھال نہیں پا رہے ہوتے تو خود بھی میرے پاس آ جاتے ہیں کہ ہمیں دم کر دیں۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ اس کا اثر نفسیاتی زیادہ ہے یا دم کا اثر ہے لیکن مجھے دم کا اثر زیادہ لگتا ہے، واللہ اعلم۔

مَس کرنے کی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ شیطان انسان میں داخل ہو جائے۔ اب جب یہ داخل ہو جاتا ہے تو کبھی تو کچھ نقصان نہیں پہنچا پاتا سوائے وسوسہ اندازی کرنے کے۔ پہلی صورت کا ذکر صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جماہی آئے تو اپنا منہ بند رکھے کہ شیطان اس میں داخل ہو جاتا ہے۔ سنن الترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ تو یہ صرف وسوسہ ڈال سکتا ہے، اور کچھ نہیں کر سکتا۔ اور اس کے وسوسوں سے بچنے کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے ورنہ تو ساری اخلاقیات بگڑ جائیں گی۔ جن کے اخلاقی مسائل زیادہ ہوں مثلا غصہ بہت زیادہ اور بلاوجہ آئے، انہیں اس قسم کا شیطانی مَس لاحق ہوتا ہے۔ مَس کرنے کی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ شیطان انسان کے اندر سکونت اختیار کر لے یعنی عارضی طور داخل نہ ہو بلکہ گھر بنا لے۔ یہ تھوڑا تشویش ناک ہے۔ اس صورت میں بھی شیطان کو انسان کو نقصان پہچانے کے لیے سالوں محنت درکار ہوتی ہے اور وہ یہ کرتا ہے۔

اب اس میں دو صورتیں ہوتی ہیں کہ اگر تو آپ پریکٹسنگ ہیں یعنی دین پر ممکن حد تک عمل کر رہے ہیں تو وسوسہ بڑھ جاتا ہے جس سے سوشل ایشوز مثلا تعلقات اور ریلیشن شپ کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ مجھے ایک مرتبہ احساس ہوا کہ ہم میاں بیوی کی لڑائی بہت بڑھ گئی ہے۔ میں نے بیگم کو ساتھ لیا اور اپنے ایک عامل فاضل دوست قاری شفیق الرحمن صاحب کے پاس دم کروانے کے لیے چلے گئے۔ انہوں نے انتہائی توجہ سے دم کیا اور میں نے انتہائی توجہ سے سنا۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ میں دوران دم رونا شروع ہو گیا، ہچکیوں کے ساتھ ۔ رونا بھی عجیب نہیں تھا کہ قرآن سن کر رونا آ ہی جاتا ہے، کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عجیب یہ تھا کہ میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ میں نہیں رو رہا کیونکہ رونا حلق کے بھی اوپری حصے سے تھا اور جیسے جبری تھا۔ مجھے رونا کافی آتا ہے، میں اپنے رونے کی کیفیات سے واقف ہوں، لیکن اس کیفیت سے میں واقف نہیں تھا اور نہ ہی یہ مجھے سمجھ آ رہی تھی۔ دم کے بعد قاری صاحب نے کہا کہ نظر کا جن ہے۔ تو مجھے سمجھ آ گئی کہ یہ جن کا رونا تھا۔

اور اگر آپ نماز، تلاوت اور ذکر کا اہتمام نہیں کرتے تو یہ جنات آپ کے جسم میں کوئی بیماری پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ مثلا کچھ جنات کی خاصیت یہ ہے کہ اگر وہ آپ کے جسم میں کچھ عرصہ رہیں تو وہ لوہا پیدا کر دیتے ہیں مثلا لوہے کے کیل۔ اور یہ لوہا بیماری کا باعث بن جاتا ہے۔ جادو کے علاج میں مریض جب قرآن مجید پڑھنے اور دم والا پانی استعمال کرنے کے بعد قے کرتا ہے تو لوہے کے یہ کیل فیزیکلی نکلتے ہیں۔ بعض جنات کی خاصیت ہے کہ جہاں کچھ عرصہ گزار لیں، وہاں لکڑی پیدا کر دیتے ہیں۔ اس کی کچھ سائنسی توجیہات بھی کی جا سکتی ہیں لیکن میرا یہ میدان نہیں ہے۔ ہاں، آپ نے اس کا مشاہدہ کرنا ہو تو کر سکتے ہیں۔ تو یہ مَس کی دوسری صورت ہے۔ مَس کی تیسری صورت یہ ہے کہ شیطان انسان کے حواس پر چھا جائے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ قیامت والے دن اس شخص کی مانند کھڑے ہوں گے کہ جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو۔ سنن النسائی کی روایت میں ہے کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا سکھائی ہے کہ اے اللہ، میں آپ سے اس کی پناہ چاہتا ہوں کی موت کے وقت شیطان مجھے مخبوط الحواس بنا دے۔

تو انسان کے کمزور لمحات میں شیطان اس کو مخبوط الحواس بنا سکتا ہے جیسا کہ بہت غصے کی حالت میں، سکرات الموت یعنی موت کی مدہوشی کے عالم میں، غلاظت اور نجاست کی حالت میں۔ ایک مرتبہ بچوں کے ساتھ گھر سے شاپنگ کے لیے نکلا، لنک روڈ پر ایک جگہ ہجوم تھا، آگے بڑھ کر دیکھا تو ایک خاتون اور اس کا بوڑھا باپ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھے ہیں، ساتھ ہی ان کی بائیک کھڑی ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے خاتون تڑپتی ہے اور پھر سکون میں آ جاتی ہے، مدہوشی کے عالم میں ہے۔ باپ اس کے کپڑے سیدھا کر رہا ہے، اور کبھی اس کا سر گود میں لیے سہلا رہا ہے۔ پانچ سات لوگ جمع ہو گئے، ایک نے پوچھا کیا ہوا؟ باپ نے کہا کہ اسے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور یہ کیفیت ہو جاتی ہے۔ مجھے مسز نے کہا کہ اسے پانی لا دو۔ میں اسٹور میں گیا، منرل واٹر کی بوتل لی اور معلوم نہیں مجھے کیا سوجھی کہ میں نے اس کے پانی پر تین مرتبہ جلدی سے ((أُعِيذُكُمَا بِكَلِماتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ)) پڑھ کر پھونک مار دی۔

اتنی دیر میں مجھ سے پہلے ایک اور صاحب بھی پانی کی بوتل لے آئے تھے جو خاتون کے والد کے ہاتھ میں تھی اور وہ اس خاتون کے منہ پر چھینٹے مار ہے تھے۔ میں نے اپنی بوتل آگے کی، باپ نے بھی بغیر سوچے سمجھے پکڑی اور خاتون کے منہ پر اس دم کیے پانی کے چھینٹے مار دیے، وہ تڑپنا شروع ہو گئی اور بولنا بھی، یہ میرے ساتھ کیوں کر رہے ہو، مجھے چھوڑ دو؟ باپ بھی بولنا شروع ہو گیا، یہ پانی کس نے دیا ہے؟ میں ڈر گیا کہ شاید وہ ناراض ہو گا لیکن میں نے ہلکے سے کہہ دیا کہ اور کچھ نہیں بس تھوڑا سا دم کیا ہے۔ اس نے بوتل مجھے واپس پکڑائی اور کہا کہ اسے تھوڑا اور دم کر کے دو، یہی پانی اس کا علاج ہے۔ میں حیران تھا، بہر حال دوبارہ چند کلمات پڑھ کر دم کیا۔ وہ اس خاتون پر پانی چھڑک رہا تھا اور وہ سکون میں آ رہی تھی۔ میں نے اسے یہ کہہ کر اس پانی میں مزید پانی ملاتے رہو، یہ کام کرتا رہے گا، اپنی راہ لی۔

اور شیطان کے مَس کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ہمارے کھانے بھی شریک ہو جاتا ہے اور میاں بیوی کے ازدواجی عمل میں بھی بلکہ ہمارے ہر کام میں اگر تو ہم اسے اللہ کا نام لے کر شروع نہ کریں۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ شیطان تمہارے ہر کام میں حاضر ہو جاتا ہے، یعنی اسے خراب کرنے کے لیے۔ اسی طرح صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ جب تمہارے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اٹھا کر صاف کر کے کھا لو، اسے شیطان کے لیے مت چھوڑ دو۔ اسی طرح صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جب تم اپنی اہلیہ کے پاس جانے سے پہلے یہ دعا پڑھ لو "بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا” ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ، ہمیں بھی شیطان سے بچا اور جو ہمیں اولاد دے، اسے بھی شیطان سے محفوظ رکھ۔ تو جو تمہیں اولاد دی جائے گی، اس پر شیطان کبھی تسلط حاصل نہیں کر پائے گا۔ تو شیطان انسان کے مال اور اولاد میں شریک ہو جاتا ہے یعنی حصہ دار بن جاتا ہے، یہ مضمون قرآن مجید میں بھی ان آیات ﴿وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ﴾ میں بیان ہوا ہے۔ لیکن اگر انسان کوئی کام اللہ کے نام سے شروع کرے تو پھر شیطان اس میں نہ تو شریک ہو پاتا ہے اور نہ ہی اس کو خراب کر سکتا ہے۔ تو شیطان کا تصرف بس اتنا ہے لہذا اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اللہ عزوجل نے اس کے تصرف کو ختم کرنے کے وسائل اور ذرائع بھی ہمیں مہیا کر دیے ہیں۔ اور شیطان کا یہ تصرف ہمارے امتحان کے لیے رکھا گیا ہے تا کہ اس سے بچنے کے لیے ہم شریعت کو پریکٹس کریں اور اپنے امتحان میں کامیاب ہو جائیں۔

ایک مرتبہ قاری صاحب کی اجتماعی دم کی مجلس میں شریک تھا تو پانچ سات خواتین کے جن حاضر تھے اور وہ گفتگو کر رہے تھے اور آپس میں لڑ بھی رہے تھے، ایک دوسرے پر الزام لگا رہے تھے، ایک تو قاری صاحب کو گالیاں دے رہا تھا، حالانکہ یہ مہذب خواتین ہوتی ہیں، پڑھی لکھی، ان کا قاری صاحب سے کیا لینا دینا کہ محض قرآن مجید کی دو چار آیات پڑھنے سے وہ گالیوں کی بوچھاڑ شروع کر دیں کہ چپ کر، کبھی دھمکیاں دیں، کبھی منتیں کریں، اور مقصد ایک ہی ہے کہ قرآن نہ پڑھیں، ایک ہی جملہ قرآن نہ پڑھیں۔ تو اب آپ کیا کہیں گے کہ یہ محض نفیساتی کیفیت ہے! اسی طرح بعض جنات جو کہ ہندو ہوتے ہیں اور لمبی عمر کے ہیں تو وہ سنسکرت میں گفتگو کرتے ہیں، ایک ان پڑھ خاتون جس نے کبھی سنسکرت کا نام نہیں سنا اور وہ اس میں گفتگو کر رہی ہے، آپ ریکارڈ کر کے چیک کر لیں، تو یہ سب کیا ہے؟ تو بہر حال ایک خاتون کا جن دوسری خاتون کے جن پر خوش رہا تھا کہ قاری صاحب اس پر آیات پڑھ رہے تھے اور وہ قاری صاحب کو کہہ رہا تھا کہ قاری صاحب اس پر اور پڑھیں، اس نے پانچ ہزار عورتوں کے ساتھ زنا کیا ہے۔ میں نے قاری صاحب سے کہا کہ یہ بہت مبالغہ کر رہا ہے۔ لیکن اگر آپ اس کو اس تناظر میں سمجھیں کہ جس میں یہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر انسان دعا نہ پڑھے تو بیوی کے ساتھ تعلق قائم کرے گا تو شیطان شامل ہو جائے گا تو اس اعتبار سے اس خبیث کی بات ٹھیک معلوم ہوتی تھی۔

بہرحال کہنے کے مقصد اس وقت تین ہیں؛ ایک تو یہ ہے کہ شیطان کا عمل دخل ہماری زندگی میں ایک نارمل چیز ہے، اس سے گھبرانا نہیں ہے کہ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان لگا ہوا ہے جو کم از کم وسوسہ ڈالنے کا کام تو ہر کسی سے کر ہی رہا ہے۔ تو یہ تو ایک حقیقت ہے، اسے قبول کر کے اس کے اثرات سے بچنے کی شعوری کوشش کرنی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ ان سے ڈرنا نہیں ہے اور نہ ہی یہ ڈرنے کی چیز ہیں۔ یہ تو خود ہم سے ڈرتے ہیں۔ ایک جن نے قاری صاحب کو کہا کہ جب آپ لوگ آیت الکرسی پڑھ لیتے ہیں تو ہمارے سامنے ایک مضبوط دیوار آ جاتی ہے اور ہم آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اب اس کے بعد آپ کا نفسیاتی خوف باقی رہ جاتا ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ تو صورتیں دو ہی ہیں کہ ڈراؤ یا ڈر جاؤ، تیسری کوئی نہیں ہے۔ تو آپ اس خبیث کو ڈرانے کی پوزیشن میں آئیں جو پہلے ہی آپ سے ڈر رہا ہے، صرف اسے یہ ایج حاصل ہے کہ وہ ہمیں دیکھ سکتا ہے لیکن ہم اسے نہیں دیکھ سکتے لیکن ہے ہم سے بہت کمزور۔ ہم تو اس کے باپ کے مسجود کی اولاد ہیں۔

تیسرا یہ کہ جادو وادو کا زیادہ وہم نہ پالیں اور نہ ہی جنات کو ذہن پر سوار کریں۔ بس جیسے اس دنیا میں چور موجود ہیں تو کیا میں ساری رات ان کے انتظار میں جاگ کر گزار دوں؟ تو یہ تو ایبنارمل ایٹی چیوڈ ہو گا ناں۔ بہت سوں کو میں کہتا ہوں کہ آپ کو کچھ نہیں ہے لیکن جن کو ہوتا ہے، انہیں پھر کہتا ہوں کہ آپ سنجیدہ ہو کر علاج کروائیں۔ تو انسان کو اندازہ ہو جاتا ہے۔ میں کوئی پروفیشنل نہیں ہوں لیکن ایک ہی مرتبہ کی گفتگو یا بات چیت سے اندازہ لگا لیتا ہوں کہ کچھ ہے یا صرف وہم ہے۔ اور عموما وہ اندازہ درست نکلتا ہے۔ تو وہم نہ پالیں، اور اگر کچھ ہے بھی تو علاج کروا لیں۔ پریشانی کی کیا بات ہے۔ ویسے تو بھی انسان بیمار ہو جاتا ہے ناں۔ یہ بھی ایک بیماری ہی ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔ کچھ توجہ اور علاج سے جاتی رہے گی۔