اسلام بلاگ

کیا قرآن میں حضرت عیسی کے والد کا ثبوت ہے؟

ایک صاحب نے پوچھا ہے کہ ایک منکر حدیث محقق کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کے والد کا ثبوت قرآن سے قطعی طور پر ثابت ہے (یاد رہے کہ منکرین حدیث بالعموم معجزات کے منکر ہوتے ہیں اور انکی غیر معجزاتی تاویل کرتے ہیں)۔ اس ضمن میں وہ سورہ انعام کی درج ذیل آیات (85 تا 87) سے استدلال کرتے ہیں: "اور زکریا، یحی اور عیسی و الیاس (کو بھی ہم نے ہدایت بخشی)۔ یہ سب نیکو کار لوگ تھے۔ اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط (کو بھی شرف ہدایت سے سرفراز کیا)۔ اور ہم نے ان سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی۔ اور ان کے آباء و اجداد، اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی (بعض کو ایسی فضیلت عطا فرمائی)۔ اور ہم نے انہیں چن لیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت دی”

ان صاحب کے مطابق یہاں لفظ "آباء” آیا ہے جو "اب” کی جمع ہے جس کے معنی والد یا باپ ہوتا ہے۔ اس سے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ ان آیات میں جن انبیاء کا ذکر آیا ہے انہی کے آباء کی بات ہورہی ہے، اور آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر بھی ہے جس سے معلوم ہوا کہ آپ کے بھی والد تھے۔ ان صاحب کا کہنا ہے کہ سورہ مریم و آل عمران میں حضرت عیسی کی پیدائش سے متعلق جو کچھ بیانات آئے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ قابل تاویل ہیں بلکہ واجب التاویل بھی ہیں کیونکہ یہ آیت اہنے مدعا پر قطعی و صریح ہے۔

تبصرہ: یہ استدلال بوجوہ کمزور ہے – لفظ "اب” جب قرآن میں "آباء” کی صورت بطور جمع آئے تو اس سے مراد "آباء و اجداد” کا گروہ ہوتا ہے نہ کہ کوئی معین شخص جسے باپ کہا جاتا ہے، قرآنی نظائر اس پر دال ہیں۔ تو آیت کے معنی یہ ہیں کہ ھدایت یافتہ ہونے میں یہ حضرات انوکھے نہیں تھے بلکہ ہم نے ان جلیل القدر انبیاء ہی نہیں بلکہ ان کی نسل میں ان سے پہلے والوں (آباء و اجداد)، ان سے بعد والوں (زریت) اور ان کے ہم عصر (بھائیوں) کو بھی ہدایت و فضیلت سے سرفراز کیا۔ چنانچہ لفظ آباء سے حضرت عیسی کے معین والد کا استدلال درست نہیں۔ اسی طرح لفظ اخوان سے ان سب کے بھائی ماننا بھی لازم نہیں آتا

– لفظ "اب” قرآن میں لازما سگے والد کے لئے استعمال نہیں ہوتا جس کے نظائر اہل پر واضح ہیں۔ البتہ صاحب استدلال کے لئے اسی آیت کے ضمن میں ہم اس کی مثال پیش کئے دیتے ہیں۔ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم کے "اب” کا ذکر ہوا ہے جو مشرک تھا۔ سورہ انعام کی درج بالا آیات کے مطابق ان انبیاء کے "آباء” ہدایت یافتہ تھے۔ تو اس آیت کی رو سے حضرت ابراہیم کے "اب” کو صاحب ھدایت ماننا ہوگا۔ تو اب دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ حضرت ابراہیم کے جس اب کا تعارف بطور مشرک ہوا اسے والد کے بجائے چچا مان لیا جائے اور یا پھر یہ کہ اسے والد مانا جائے تو پھر سورہ انعام میں درج "اب” کو سگے باپ کے سواء کچھ اور ماننا ہوگا (کیونکہ یہ تو ہادیت یافتہ ہے)۔ الغرض دونوں صورتوں میں سے کسی ایک مقام پر اب کو باپ کے سواء کسی دوسرے معنی میں ماننا ہوگا (اس کی مثالیں دیگر بھی ہیں)۔ الغرض جب لفظ "اب” والد کے لئے قطعی ہے ہی نہیں تو اس کی بنیاد پر حضرت عیسی علیہ السلام کے والد کے وجود کا استدلال کیسے قطعی ہوگیا؟

– اگر یہ آیت حضرت عیسی کے والد کے لئے قطعی ہے تو پھر ان کی زریت کے وجود کے لئے بھی قطعی ہوگی۔ منکر حدیث چونکہ ان کی زریت کے قائل ہوتے ہیں لہذا وہ کہیں گے کہ جی ہاں ہم تو پہلے ہی یہ مانتے ہیں۔ لیکن آیت میں "اخوان” کا لفظ بھی ہے، تو ماننا ہوگا کہ آپکے سگے بھائی بھی تھے۔ کیا تاریخ میں ان کا کوئی سراغ ملتا ہے؟