بلاگ معلومات

کیا ڈاکٹر قصائی ہوتے ہیں؟

میں یہ نہیں کہتا کہ ڈاکٹرز ہمیشہ ہی اچھے ہوتے ہیں ، سب فرشتے ہوتے ہیں ، لیکن آپ یہ بھی تسلیم کیجئے کہ وہ آپ کے اسی معاشرے کا ایک حصہ ہیں جہاں اچھے برے لوگ سب پائے جاتے ہیں ، انہی میں ایسے ہوتے ہیں کہ دامن نچوڑیں تو فرشتے وضو کریں – چونکہ میرے خاندان میں بہت سے ڈاکٹر ہیں ، میرے احباب میں بھی بہت سے دوست ڈاکٹر ہیں – اس لیے مجھے اس حوالے سے کچھ معقول معلومات ہوتی ہیں – اس کے علاوہ میرا بچپن اس طور گزرا کہ میں بہت سے مریضوں کو لے کے ہسپتال جاتا تھا – اس لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس شعبے میں برے افراد کی موجودگی کے باوجود اکثریت اچھے افراد کی ہے – اگر آپ کو میری بات سے اختلاف ہے تو پھر آپ کو ماننا ہو گا کہ آپ کے معاشرے میں اچھے اور برے افراد کا جو تناسب ہے وہی ڈاکٹروں میں ہوگا …

اگر آپ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر برے ہی ہوتے ہیں تو آپ کو تسلیم کرنا ہو گا کہ آپ کا معاشرہ بھی پھر مکمل طور پر برا ہے – اور آپ بھی اسی کا حصہ ہیں ، لیکن اس بات کو آپ تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ آپ خود کو برا انسان نہیں سمجھتے –
کل شالیمار ہسپتال میں جو ہوا وہ آپ کے معاشرے کی جہالت کی بہترین عکاسی تھی – لیکن اخبار میں ایسی خبر تب آتی ہے جب کوئی حادثہ ہو جاتا ہے ، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہسپتالوں میں بلاناغہ لڑائیاں ہوتی ہیں – اور یہ لڑائیاں ہونے کے دو اسباب ہیں – ایک یہ ہے لواحقین ہسپتال کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، دوسرا سبب یہ کے وہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر ان کے مریض کو توجہ نہیں دیتے –

اگلے ماہ جب میری چھوٹے بھائی عمر فاروق قدوسی کا حادثہ ہوا تو وہ سروسز ہسپتال میں تھے ، صبح راونڈ کا وقت ہوا تو میں مسیب کو لے کے وارڈ سے باہر آ گیا … حالانکہ گھر کے دو ڈاکٹر اس وقت میرے ساتھ تھے اور وہ بھی باہر بیٹھے تھے – اسی دوران ایک مریض جو ٹوٹے بازو کے ساتھ باہر تھا وارڈ میں جانے لگا ..دربان نے کہا کہ آپ چلے جاؤ ..لیکن اس کی ضد تھی کہ ساتھ موجود اس کی بیوی بھی اندر جائے گی ..اسی تکرار میں مریض نے ملازم کو گندی گالی دی ..اور اگلا قدم اس شیر جوان کا یہ تھا کہ ٹوٹے بازو کے باجود اس نے دربان کو تھپڑ مار دیا …. جوابی طور پر دربان نے اس کی ٹھیک ٹھاک دھلائی کر دی – لیکن حقیقت یہ تھی کہ مریض کی زبان زیادتی تھی اور بہت زیادہ تھی – اللہ کی پناہ ، یار اس نے انتہائی فحش گالیاں بکیں ..اب جو بھی دیکھے گا یہی کہے گا جناب یہ ہسپتال والے قصائی ہوتے ہیں کہ ایک مریض کا بھی لحاظ نہ کیا –

دوسری خرابی یہ ہوتی ہے کہ مریض کو محض پیٹ درد ہو اور وہ درد سے تڑپ رہا ہو ، اور ساتھ کوئی مریض دل کے دورے سے آیا پڑا ہو تو بھی لواحقین یہی چاہیں گے کہ اس مریض کو چھوڑا جائے اور میرے مریض کی خبر گیری کی جائے – لیکن ڈاکٹرز کو خبر ہے کہ اس پیٹ درد والے کو جو درد کا انجکشن لگا دیا ہے وہ بیس منٹ بعد اثر کرے گا تب تک یہ تڑپتا ہی رہے گا – اس بیچ زیادہ اہم معاملات دیکھے جائیں …اور چونکہ ان کا شب و روز کا معمول بھی یہی مریض دیکھنا ہے تو اس دوران وہ آپس میں ہنسی مذاق بھی کرتے ہیں ..جس سے مریض کے لواحقین سمجھتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر نہیں قصائی ہیں …حالانکہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ ہم نے دیکھا ہے کہ مریض جو اس قابل نہ ہو کہ دوا لے سکے یہی ڈاکٹر اس کو جیب سے اور کبھی پیسے ملا کے دوا لے کے دیتے ہیں ، کوئی مریض آ جائے جسے خون کی ضرورت ہو ہم نے دیکھا ہے کہ نوجوان ڈاکٹر خود اپنا خون دیتے ہیں ….

یہ تسلیم ہے کہ بعض ڈاکٹر ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے ہاں انسانیت رخصت پر جا چکی ہوتی ہے ..لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایمرجنسی وارڈوں میں ، اور نوجوان ڈاکٹروں میں ایسی شرح بہت کم ہے ..یہ معامله عموما پرائیویٹ سیکٹر میں ہے یا چھوٹے شہروں میں .جہاں ڈاکٹر مسیحای کم اور کاروبار زیادہ کرتے ہیں ….یا شقاوت قلبی کی یہ صورت عمر بڑھنے کے ساتھ پیدا ہوتی ہے – نوجوان ڈاکٹرز تو بے چارے اکثریت میں درد دل والے ہوتے ہیں … خرابی مگر ان لوگوں کے سبب ہوتی ہے جو اپنے مریض کی موت کو ہمیشہ ہی ڈاکٹرز کے نام لگا دیتے ہیں … جیسے کل شالیمار ہسپتال میں ہوا .کہ خاتون وفات پا گئیں تو لواحقین نے ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ ڈاکٹرز کی غفلت کے سبب ایسا ہوا ..سوال یہ ہے کہ کیا لواحقین میڈیکل سائنس کو سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ کر سکیں ؟

میرے اپنی کزن انستھیزیا کے ڈاکٹر ہیں ، پانچ وقت کے مسجد کے نمازی ، انتہائی پرھیز گار ، بہت متقی انسان ..اور ذمے دار بھی انتہا کے ..تجربہ یہ کہ پنتیس برس ہو گئے اس پیشے میں ……ایک مریض کی موت ہو گئی ..لواحقین کا ہاتھ پڑتا تھا ..اگلے دن تمام الکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان کی تصویر گھوم رہی تھی اور ساتھ نام بھی کہ ڈاکٹر کی غفلت سے مریض کی موت ہو گئی – خود ہمارے لیے یہ معاملہ خاصا تکلیف دہ تھا ..کہ ایک ایسا نفیس انسان اور اس پر کیسا بے ہودہ الزام .. معاشرے ہمارے کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی کسی پر الزام لگا دے ہم جھٹ سے یقین کر لیتے ہیں – ہم لوگوں نے یہ طے کر لیا ہوتا ہیے کہ مریض کی موت کا لازمی مطلب ہے کہ "ڈاکٹر قصائی ہے