کالمز

کتا کون نکالے گا؟ (جہانزیب راضی)

دنیا بھر میں قدرتی آفات کا آنا معمول کی بات ہے، دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک چاہے ان میں جاپان ہو، امریکہ ہو یا چین ہو. ان سب ممالک میں طوفان بھی آتا ہے، سیلاب، زلزلے، کرونا اور نہ ختم ہونے والی بارشیں سب ہوتی ہیں اور ایسی ہوتی ہیں کہ کوئی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہ پاتی ہے.
مگر اصل چیز ان قوموں کا اور ان کے حکمرانوں کا رویہ ہوتا ہے.
پاکستان میں 2005 میں زلزلہ آیا ریکٹر اسکیل پر شدت تھی 7.8 آٹھ سیکنڈز کا یہ زلزلہ سب کچھ تباہ کرکے لے گیا.
صرف مرنے والوں کی تعداد 85000 سے زیادہ تھی، جو لوگ زندگی بھر کے لئیے معذور ہوئے، جو لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور جو بے شمار بچے یتیم اور بے آسرا ہوگئے وہ اس کے علاوہ تھے.
اس وقت ترکی کے وزیراعظم طیب اردوان نے اپنی بیوی کا منہ دکھائی کا سب سے قیمتی ہار پاکستانی عوام کو دے دیا اور اسوقت کے ہمارے وزیراعظم جناب مخدوم سید یوسف رضا گیلانی صاحب نے وہ ہار اپنی بیگم کو منہ دکھائی میں دے دیا جو کوئی 10 سال بعد جا کر ریکور ہوا.
دوسری طرف 2008 میں جاپان میں زلزلہ آیا ریکٹر اسکیل پر شدت تھی 8.3 آپ سن کر حیران رہ جائیں گے کہ ایک بھی جانی نقصان نہیں ہوا.
2011 کے زلزلے اور طوفان کے دوران ہمارے ایک قریبی عزیز جاپان میں ہی تھے، وہ کہنے لگے جس وقت زلزلہ آیا میں ہوٹل کے ریسیپشن پر تھا، پوری بلڈنگ جھول رہی تھی مگر حیرانی اس بات پر ہوئی کہ وہاں موجود کوئی آدمی بھی خوفزدہ نہیں تھا، ریسیپشن پر موجود خاتون نے انتظار کرنے کو کہا، تمام لوگ سیڑھیوں کے نچلے حصے میں بیٹھ گئے اور کچھ دیر میں ہی زلزلہ ختم ہوگیا.
بعد میں معلوم ہوا کہ چونکہ جاپان اس پلیٹ پر واقع ہے جو سب سے زیادہ imbalance ہے اس لئیے وہ کوئی بھی عمارت بناتے وقت اس کی base میں باقاعدہ ربڑ لگاتے ہیں جس سے عمارت flexible رہتی ہے.
ان تمام زلزلوں اور طوفانوں میں جو بھی نقصان ہوا وہ صرف دریا یا سمندر میں طغیانی کی وجہ سے ہوا، زلزلے میں تو تقریباً سب محفوظ رہے.
اسی طرح امریکہ میں کچھ عرصہ پہلے شدید بارشوں اور طوفان کی پیشگوئی تھی ویسے وہاں طوفان آنا اور طوفانی بارشیں معمول ہیں مگر انھوں بے اس سے پہلے ہی پورے شہر کے شہر کو ریسکیو کرلیا اور سب کو محفوظ مقام پر شفٹ کردیا، اس کام کے لئیے انھوں نے سرکار کے سارے وسائل لگادئیے پھر چاہے وہ ہیلی کاپٹرز ہوں یا جہاز.
پاکستانی قوم کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر سال 6 مہینے سیلاب سے مرتے ہیں اور 6 مہینے پیاس سے،آپ کو یاد ہوگا ابھی چند مہینوں پہلے ہی پوری قوم صحرائے چولستان کے پیاسے اور فاقہ زدہ لوگوں کے لئیے امداد جمع کررہی تھی اور آج ان کو پانی سے بچانے کے لئیے جمع کررہی ہے.
آدھا سال ہم تھر میں پانی، پیاس اور غذائی قلت سے مرنے والے بچوں کو بچاتے ہیں اور آدھے سال ان کو اسی پانی میں ڈوبنے سے بچاتے ہیں… ہم کیا لوگ ہیں دنیا بھی ہم پر ہنستی ہوگی.
ہم وہ قوم ہیں جو ہر سال 200 ڈول بھر بھر کر پانی نکالتے ہیں مگر کتے کو ہاتھ تک نہیں لگاتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ "پتا نہیں بدبو کہاں سے آرہی ہے”.
آپ 1947 سے لے کر آج تک ان تمام ڈوبنے والے اور پھر پیاس اور فاقوں سے مرنے والے علاقوں کا ڈیٹا نکال لیں، ایک ہی خاندان کے لوگ ہیں جو ان علاقوں پر ہمیشہ MNA اور MPA بن کر بیٹھے ہوتے ہیں.
پیپلزپارٹی ہو، ن لیگ ہو، پی ٹی آئی ہو یا پھر مارشل لاء ہو، یہ ہمیشہ وہیں سے جیتیں گے، آپ ایک چھوٹی سی مثال ملاحظہ کریں.
محسن لغاری صاحب اسوقت ڈیرہ غازی خان سے تحریک انصاف کے صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ 2003 میں راجن پور سے ق لیگ کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن تھے، پھر یہ 2011 سے 2018 تک سینیٹ کے ممبر رہے، 2018 میں انھوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور جب سے ماشاءاللہ یہ پنجاب کے نظامِ آبپاشی کے وزیر بھی ہیں اور ابھی انھوں نے اپنی فصلیں بچانے کے لئیے پانی عام لوگوں کے کھیتوں میں چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے راجن پور کا ایک بڑا حصّہ تباہ ہوگیا ہے.
اور ہمیں بالکل بے فکر رہنا چاہیے کہ ان کے والد صاحب بھی قومی اسمبلی کے ممبر رہے ہیں اور ایک بھائی بھی ماشاء اللہ سے مسلم لیگ(ن) میں ہیں.
یہ چاول کی دیگ کا ایک دانہ ہے، ان دانوں سے پوری دیگ تیار ہے.
دوسرا بڑا مسئلہ ڈیم نہ ہونا ہے، پاکستان میں قابلِ ذکر ڈیمز کی تعداد مشکل سے 10 سے 12 ہے اور ان میں سے بھی 80 فیصد 70 اور 80 کی دہائی میں بن چکے تھے، پچھلے 40 سالوں میں پاکستان میں کسی ایک ڈیم کا بھی اضافہ نہیں ہوا ہے، کسی حکومت کو بھی یہ توفیق نہیں ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر ان سے اتفاق کروائیں کہ اس ملک میں کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو ہمیں اگلے 10 سالوں میں کم از کم 4 ڈیمز چاہیے.
1973 کے آئین کی طرح کچھ چیزوں پر ہمیں کلی اتفاق کرلینا چاہیے جن میں "میثاق معیشت” اور ڈیمز شامل ہیں.
میں اپنے بچپن سے اور میرے والدین اپنے بچپن سے ان تمام لیڈرز کی اور اس سے پہلے ان کے والدین کی یہی تصاویر دیکھتے آرہے ہیں کہ وہ پانی میں سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑے ہیں.
پہلے بھٹو صاحب کھڑے ہوتے تھے، پھر بے نظیر صاحبہ ہوتی تھیں اور اب بلاول صاحب ہوتے ہیں.
پہلے بڑے میاں صاحب سیلاب میں کھڑے ہوتے تھے، پھر چھوٹے میاں صاحب نے یہ ذمہ داری سنبھال لی اور اب مریم صاحبہ یہ فریضہ انجام دے رہی ہیں… الحمدللہ اب اس فرض کی انجام دہی میں ایک لیڈر کا اور اضافہ ہوگیا ہے.
کوئی ان پانی میں کھڑے لیڈروں سے پوچھے کہ ہر سال یہ پانی آخر کھڑا کیوں ہوتا ہے، جس میں آپ پھر آکر کھڑے ہوجاتے ہیں؟؟

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment