معلومات

کتب پر نقش و نگاری کی تاریخ

مغل بادشاہوں نے بابر سے شاہجہاں تک کتابوں پر فن مصوری کی بھی اسی طرح حوصلہ افزائی کی جس طرح مخطوطات کو جلدوں کی آرائش و زیبائش اور نقش و نگار سے آراستہ کرنے کے لیے کی۔

چنانچہ جب بابر نے ہندوستان کو فتح کیا تو یہاں فن مصوری اور باتصویر مخطوطات کے فن کو بھی اپنی سرپرستی عطا کی۔ بابر نے اپنے مشہور زمانہ کتاب تزکِ بابری میں کتابوں سے بے پناہ لگاؤ کا ذکر کیا ہے۔ مغلیہ دور کے مصور، جن میں بہزاد اور شاہ مظفر کے نام شامل ہیں، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مغل فرمانرواؤں کو علم و حکمت اور صنعت و حرفت کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ سے بھی بے حد شغف تھا۔

ہمایوں اپنی جلاوطنی کے دوران ایران کے شاہ طہماسپ کے دربار کے مصوروں سے بہت متاثر تھا۔ چنانچہ واپسی پر بہت سے ہنر مندوں کو اپنے ساتھ لایا تو ان میں ماہر خطاط، جلد ساز اور مخطوطات پر خوبصورت مصوری کرنے والے اہل فن بھی شامل تھے جن کی اس نے اپنے دربار میں عزت افزائی کی۔ داستان امیر حمزہ کا مصوری مخطوطہ جو بارہ جلدوں پر مشتمل تھا، اس کی ہر جلد میں سو اوراق ہیں اور ہر ورق پر ایک تصویر ہے۔ کہتے ہیں کہ داستان امیر حمزہ کو باتصویر کرنے کے لیے پچاس مصور مقرر کیے گئے تھے۔

اکبر بادشاہ نے عبداللہ کی شاگردی میں فن مصوری کا مطالعہ کیا۔ مصوری اور کتابی تصویر سازی سے اکبر کو غیر معمولی دلچسپی تھی۔ اس کے دربار سے تقریباً سو مصور وابستہ تھے جو فتح پور سیکری میں شان دار عمارات میں فن مصوری کے نادر نمونے تخلیق کرتے رہتے تھے۔ جہانگیر نے بھی مخطوطات کو مصوری اور نقش و نگار سے سجانے کی سرپرستی کی۔ وہ خود بھی فن مصوری کا بڑا دلدادہ تھا۔ اس کی طرح شاہجہاں بھی مصوری کا بڑا شائق تھا مگر مصوری اور فن کتابت کو اتنی سرپرستی حاصل نہ ہوئی جو کہ ان کے اجداد سے حاصل ہوئی تھی۔ اورنگ زیب جو خود صوم و صلوٰۃ کا بہت پابند تھا، مصوری اور فن موسیقی سے کوئی دلچسپی نہ رکھتا تھا۔

فن مصوری مخطوطات پر ہو یا الگ کینوس پر، وہ اسلامی احکامات اور اقدار کی وجہ سے ان کو پسند نہ کرتا تھا۔ کتابت اور عمدہ خطاطی کی قدر کرتا تھا۔ مخطوطات اور کتابوں کی جلدوں کی خوبصورتی بیل بوٹوں اور دیدہ زیب جیومیٹریکل ڈیزائن سے تیار کیے ہوئے نسخوں کو بہت پسند کرتا تھا۔ خود بھی اعلیٰ پائے کا خطاط تھا اور قرآن مجید کی خطاطی کر کے قلمی نسخوں کو خانہ کعبہ اور علمی مراکز کو روانہ کرتا تھا۔

ابتدا میں جلدوں پر آرائشی نقوش دھات کے اوزار سے بنائے جاتے تھے لیکن ان میں کوئی رنگ استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ پندرہویں صدی عیسوی سے سونے کے اوراق سے تزئین کا کام شروع ہوا اور اٹلی میں وینس شہر کے جلد سازوں نے اس میں خاصی مہارت حاصل کی۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اٹلی میں جلد سازی سپین سے آئی۔

1530ء تک اطالوی طلائی جلدیں یورپ میں سب سے اعلیٰ تھیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فرانس کے جلد ساز اطالوی جلد سازوں سے متاثر تھے اور انہی کی تقلید کرتے تھے۔ سولہویں صدی عیسوی کی اعلیٰ شاہی کتب کی جلدیں جو برطانوی شہنشاہوں اور امرا کے پاس ملتی ہیں فرانس کے جلد سازوں کی بنی ہوئی ہیں۔

برطانوی جلد سازوں نے ان نمونوں سے متاثر ہو کر اس فن کو برطانیہ میں رواج دیا۔ مختلف دھات سے بنے ہوئے اوزار ایجاد کیے جو جلد کی آرائش میں استعمال ہوئے۔ جلد سازی میں لیس یعنی کپڑے کی پٹی کا استعمال شروع کیا۔ برطانوی جلد سازوں نے جلد کی آرائش کے لیے دھاتی ٹھپوں اور پٹیوں کو بہت خوبصورتی سے استعمال کیا ۔ جلد کی پشت (سپائن) کو نہایت محنت کے ساتھ تیار کیا جاتا تھا۔

اٹھارہویں صدی عیسوی کے آغاز میں موزایق جلد سازی کا رواج ہوا۔ جلدوں کی آرائش میں کتاب کے کناروں کو طلائی رنگ (Gilt Edge) دینے کا رواج ہوا۔ کتابوں کی آرائش میں ایک اور تجربہ یہ کیا گیا کہ کتابوں کے صفحات کے کناروں پر خوبصورت نقوش یا مناظر چھاپے گئے۔ کتاب کے صفحات کو تھوڑا سا موڑنے یا کھولنے پر یہ نظر آتے لیکن جب کتاب کی جلد کو بند کر دیا جاتا تو یہ مناظر کناروں کے طلائی رنگ میں چھپ جاتے۔ اسی طرح جلد کی اندرونی سطحوں کو بھی خوبصورت ڈیزائن اور کاغذ سے مزین کرنے کا رواج ہوا۔ جلد کے کناروں اور کونوں کی آرائش پر خاص توجہ دی جاتی۔ یہ تمام کام ہاتھ سے انجام دیے جاتے تھے۔