اُردو صفحہ فیس بُک پیج

معلومات

کچھ ایسی سائنسی سچائیاں جن کو ہضم کرنا مشکل ہے

1: اگر آپ اپنے جسم میں موجود تمام ڈی این اے کو دھاگے کی طرح کھول کر سیدھا کردیں تو ان کی لمبائی 55 ارب کلومیٹر بنتی ہے، یہ کتنی زیادہ لمبائی ہے اس کا اندازہ ایسے لگائیے کہ زمین کا پلوٹو سے فاصلہ6 ارب کلومیٹر بنتا ہے، یعنی آپ ایک انسان کے ڈی این اے کے ذریعے ہمارے نظام شمسی کو (سورج سے پلوٹو تک) 4 مرتبہ لپیٹ سکتے ہیں، پھر بھی اربوں کلومیٹر ڈی این اے کا دھاگا آپ کے پاس باقی رہے گا۔

2: ٹھوس اشیاء میں موجود ایٹمز اور ان کے سب ایٹامک پارٹیکلز کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہوتا ہے، ایک ایٹم 99.9999999 فیصد تک خالی ہوتا ہے، اگر آپ کسی طریقے سے تمام انسانوں میں موجود ایٹمز کو دبا کر اِن میں خالی جگہ فِل کردیں تو آپ دنیا میں موجودتمام انسانوں کو ایک sugar cube (چینی کے ڈھیلے)میں فِٹ کرسکتے ہیں۔

3: آپ کے جسم میں موجود کیلشیم ، آئرن اور دیگر عناصر کسی ستارے کے مرکز میں وجود میں آئے، بعدازاں اس ستارے کے پھٹنے(supernovaہونے) کی وجہ سے بکھر کر زمین تک پہنچے، یہ عین ممکن ہے کہ آپ کے دائیں ہاتھ میں موجود ایٹمز کسی اور ستارے کے مرکز میں بنے ہوں، جبکہ بائیں ہاتھ میں موجود ایٹمز کسی اور ستارے کے مرکز میں وجود میں آئے ہوں۔

4: آپ کے جسم میں بگ بینگ کی باقیات بھی موجود ہیں، کیونکہ ہائیڈروجن ایٹم وہ ذرہ ہے جو بگ بینگ کے وقت وجود میں آیا۔

5: اکثر ٹی وی یا ریڈیو پہ آپ جو شور سنتے ہیں، یہ دراصل Cosmic Microwave Background Radiations ہوتی ہیں، یہ وہی لہریں/ریڈیشن /روشنی ہیں جو بگ بینگ کے تین لاکھ سال بعد پھُوٹ کر پوری کائنات میں پھیل گئی، لہٰذا کچھ سائنسدان اِن لہروں کو "بگ بینگ کی گونج” بھی کہتے ہیں۔

6: ستارے ہم سے اتنے دور ہیں کہ ان کی روشنی ہم تک پہنچنے میں کروڑوں سال لیتی ہے،لہٰذا آپ جب کائنات کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو دراصل آپ کروڑوں/اربوں سال ماضی میں جھانک رہے ہوتے ہیں،آج وہ ستارے/کہکشائیں موجود بھی ہیں یا نہیں؟یا کائنات کی موجودہ حالت کیسی ہے؟ہمیں نہیں معلوم۔

7: آج سے 50 سال پہلے انسان نے چاند پہ جو قدم رکھا، ان قدموں کے نشان اگلے کروڑوں سال تک (جب تک چاند موجود ہے)یونہی قائم و دائم رہیں گیں کیونکہ چاند پہ ہوا اور پانی نہیں ہیں جو ان نشانات کو مٹا دیں۔

8: خلاء میں بھیانک حد تک خاموشی ہے، ایسی خاموشی جس کا تصور بھی ممکن نہیں.