بلاگ معلومات

دیر کوہستان: خوبصورت وادیاں، خوبصورت لوگ

سوات کوہستان میں بولی جانی والے زبان ’’گاؤری‘‘ اور یہاں کی منفرد ثقافت کے تحفظ اور فروغ کےلیے کام کرنے والی غیرسرکاری فلاحی تنظیم ’’جی سی ڈی پی‘‘ (گاؤری کمیونٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام) مادری زبان میں لکھنے والے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی اور نئے لکھاریوں کو سامنے لانے کےلیے سالانہ ’’رائٹر ورکشاپ‘‘ منعقد کرتی ہے۔ امسال جی سی ڈی پی نے اس ورکشاپ کا انعقاد دیر کوہستان کے علاقوں تھل اور لاموتئی میں کیا، جس کا مقصد دیر کوہستان کی ایک وسیع آبادی میں (کہ جو گاؤری زبان بولنے والوں پر مشتمل ہے) مادری زبان میں لکھنے والوں کی مدد کرنا اور انہیں مادری زبان میں لکھنے کے نئے کارآمد طریقوں سے روشناس کرانا تھا۔تنظیم کے چند سرکردہ نمائندوں اور زبان کے ماہرین کے ساتھ ہم نے دیر کوہستان کا دورہ کیا

جہاں پہلی ورکشاپ سوات کوہستان سے متصل علاقے لاموتئی کے موضع ’’کنور لام‘‘ میں رکھی گئی۔ اس ورکشاپ میں نہ صرف مادری زبان میں لکھنے سے دلچسپی رکھنے والے لکھاریوں نے شرکت کی بلکہ اسکول کے بچے بھی شریک ہوئے۔دیر کوہستان کے لوگ جہاں محنتی، جفاکش اور خوش طبیعت ہیں، وہیں مہمان نوازی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ وہ نہ صرف آنے والے مقامی مہمانوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں بلکہ آئے ہوئے سیاحوں کی خاطر تواضع میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے طول و عرض میں یہاں کی مہمان نوازی کے چرچے ہوتے ہیں۔یہاں کے باسیوں کی خوش مزاجی اور مہمان نوازی کا احاطہ کرنا ایک طویل تحریر میں بھی مشکل ہے، لہذا اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔

لاموتئی کے ایک سرکاری پرائمری اسکول میں پہلی ورکشاپ منعقد ہوئی۔ اس ورکشاپ کے اختتام پر جو نتائج سامنے آئے وہ ہماری توقعات سے بہت بڑھ کر تھے۔ صرف ایک دن کے اندر نہ صرف مقامی لکھاری سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کےلیے اپنی زبان میں لکھنے کے قابل ہوچکے تھے، بلکہ اسکول کے چھوٹے بچے گاؤری زبان کے تمام اضافی حروف تہجی اور اعراب کے استعمال پر مکمل عبور حاصل کرچکے تھے۔ ہم نے شرکاء کو گاؤری ماہانہ رسالے کےلیے مضامین، کہانیاں، لطیفے اور شعر وشاعری لکھنے کےلیے اگلے دن تک موقع دیا تھا۔ جب اگلے دن ہم نے ان کی تحاریر جمع کیں تو پانچویں جماعت کا طالب علم امتیاز ایک ننھے لکھاری کی صورت میں ملا جس نے نہ صرف پرانی ثقافتی کہانیاں قلمبند کی تھیں

بلکہ حوالہ کردہ کام کے علاوہ بھی بہت سے موضوعات پر طبع آزمائی کی تھی۔اسی شام کو ہم نے تھل بازار کی جانب رخت سفر باندھ لیا۔ جیسے ہی تھل بازار پہنچے تو یار دوستوں، اسکول طلبہ اور کچھ معززین تھل بازار میں ہی ہمارے لیے چشم براہ تھے۔گائے کے دودھ سے بنی چائے نوش کرتے وقت ان سے مقامی حالات اور زبان و ثقافت پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ یہ لوگ اپنی زبان اور ثقافت پر بہت فخر کرتے ہیں اور آپس کی ہم آہنگی اور بھائی چارے میں ایک سطر کا فاصلہ بھی برداشت نہیں کرتے۔ چائے نوشی اور خوش گپیوں کے بعد ہم نے مقامی بازار میں کچھ خریداری کی اور شام کو کمراٹ میں زمین خان کاکا نے ہماری ٹیم کو عشایئے پر مدعو کیا۔ ہم دریائے کمراٹ کے دو رویہ چلنے والی سڑک

پر قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زمین خان کاکا کے گھر پہنچے۔ اس مقام پر پہنچ کر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوچکی۔ جناب زمین خان کا حجرہ ایک خاموش، پرسکون جگہ پر ہے جہاں صرف یخ بستہ ہوا کے جھونکے ہی فضا کو معطر کردیتے ہیں اور دریائے کمراٹ سر بجاتا ہے۔زمین کاکا کی پرخلوص مہمان نوازی کے بعد اگلے دن ہم تھل کے ایک مقامی سرکاری ہائی اسکول پہنچے جہاں ہمارے ایک اعلی تعلیم یافتہ اور متحرک دوست شاہ فیصل نے ورکشاپ کے تمام تر انتظامات کرلیے تھے۔ ورکشاپ کے اختتام پر اسکول طلبہ نے گاؤری رسالے کی ایڈیٹوریل ٹیم کے نمبر اور ای میلز بھی نوٹ کیے؛ اور کتاب و رسالے کی اشاعت کےلیے بہت سا مواد لکھ دیا۔ بالخصوص جتنے مقامی اشعار قلمبند کیے گئے تھے،

وہ دل کے تاروں کو چھیڑ رہے تھے۔عبدالقہار نامی ایک طالب علم نے گاؤری ون ویب چینل کے تمام پروگراموں کا حوالہ دیا اور بتایا کہ وہ گاؤری ون چینل کو بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مقامی بازار اور پن چکیوں پر ڈاکیومینٹری بنانے میں ہماری بھرپور معاونت کی اور خود بھی گاؤری ون چینل کےلیے اپنی مادری زبان میں ڈاکیومینٹریز بنانے کا عہد کیا۔اس وقت جبکہ ہم کچھ ساتھی ڈاکیومینٹری بنانے میں مصروف تھے تو ہمارے دیگر ساتھیوں نے مقامی مشہور جھیل ’’کٹورا جھیل‘‘ کی طرف رخت سفر باندھ لیا۔واپسی پر جی سی ڈی پی کے ایم ایل ای سرپرست محمد نبی نے بتایا کہ جندرئی کے مقام پر انہوں نے وہاں کی مشہور شخصیت راجہ تاج سے بھی ملاقات کی۔

راجہ تاج نے جندرئی میں اپنی مدد آپ کے تحت ایک میوزیم بھی تعمیر کیا ہے جس میں مقامی طور پر استعمال ہونے والی ثقافتی اشیاء، اسلحہ، ملبوسات اور بہت سی نایاب چیزیں سجا کر رکھی ہیں۔ اس میوزیم کو قومی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی اور اب اس کا الحاق شرینگل یونیورسٹی کے ساتھ کردیا گیا ہے۔محمد نبی کہتے ہیں کہ راجہ تاج اپنے میوزیم کو دیگر ساتھیوں کے حوالے کرکے بذات خود ان کے ساتھ جہاز بانڈہ کی طرف چل پڑے جہاں خوبصورت کٹورا جھیل واقع ہے۔ ٹکی بانڈہ تک فور بائی فور گاڑی میں سفر کرنے اور پھر ڈیڑھ گھنٹہ پیدل مسافت کے بعد وہ جہاز بانڈہ پہنچ گئے۔ ان کے بقول وہاں ملک بھر سے اتنے سیاح آئے تھے کہ جہاز بانڈہ میں رات گئے تک موسیقی اور شغل میلہ سجا ہوا تھا۔ مقامی لوگوں کے بقول جہاز بانڈہ تک انہوں نے خود سڑک کی تعمیر روک لی ہے

تاکہ سیاح صرف پیدل ٹریک سے مستفید ہوتے رہیں جبکہ جہاز بانڈہ اور کٹورا جھیل کا ماحول بھی آلودہ ہونے سے بچ جائے۔ہمارے ساتھیوں نے جب جہاز بانڈہ اور کٹورا جھیل کی تصایر اپنے اسمارٹ فون پر ہمیں دکھائیں تو ہم انگشت بدنداں رہ گئے اور اپنے آپ کو کوسنے لگے کہ ڈاکیومینٹری سے تو کہیں بہتر تھا کہ ہم بھی ان خوبصورت پہاڑیوں کی آغوش میں بیٹھ کر اس کے حسن و جمال میں کھو جاتے۔ لیکن ’’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چک گئیں کھیت‘‘ کے مصداق ہمارے پاس ان کی موبائل گیلریاں ٹتولتے رہنے اور واہ واہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔اگلے دن ہم نے براستہ باڈگوئی ٹاپ واپسی کی۔ باڈگوئی ٹاپ سے ہوتے ہوئے شام کو وادی اتروڑ پہنچ گئے اور رات کو ہمارا یہ سفر کالام بازار پر ختم ہوا۔