اُردو صفحہ فیس بُک پیج

بلاگ صحت

کیا قد لمبا ہونا ممکن ہے؟

جب ہم نارمن شفٹ ہوئے تو اس وقت میری بیٹی کوئی نو سال کی تھی۔ ایک رات وہ مجھےٹیکسٹ کرکے کہتی ہے کہ امی آپ جلدی سو جائیں تاکہ آپ میں گروتھ ہارمون نکلے اور آپ لمبی چوڑی اور مضبوط ہوجائیں۔ اس کی بات پڑھ کر میں بہت ہنسی تھی کہ یہ بات تو ایک اینڈوکرنالوجسٹ کے بچے کو ہی پتا ہوسکتی ہے کہ گروتھ ہارمون سوتے میں اور ورزش کرنے کے دوران نکلتا ہے۔

گروتھ ہارمون پچوٹری غدود میں سے نکلتا ہے۔ چونکہ گروتھ ہارمون گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اس لیے اس کی کمی بیشی جانچنے کے لیے گروتھ ہارمون سے جگر میں بننے والے انسولین لائک گروتھ فیکٹر کو ناپتے ہیں جو نسبتا” مستقل رہتا ہے۔ گروتھ ہارمون قد لمبا کرتا ہے اور اس کا نارمل دائرے میں رہنا بہت اہم ہے۔ اگر گروتھ ہارمون کی کمی ہو یا اس کے ریسپٹر کام نہ کریں تو بونے پن کی بیماری ہوتی ہے۔ اگر گروتھ ہارمون بنانے کا پچوٹری ٹیومر بن جائے تو اس سے عالم چنا کی طرح لمبے لوگ بن جاتے ہیں۔ ان لوگوں کو گروتھ ہارمون بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے کئی بیماریاں ہوتی ہیں جن میں جوڑوں کی بیماری، مختلف طرح کے کینسر کا خطرہ اور دل کا بڑا ہوجانا شامل ہیں۔ دل بڑا ہونا فلسفے میں ایک اچھائی سجمھا جاتا ہے لیکن اگر جسمانی طور پر ہوجائے تو یہ ایک بیماری ہے۔ گروتھ ہارمون زیادہ ہونے سے یہ مریض دل کی بیماری سے کم عمری میں مرجاتے ہیں۔

لمبے قد کو خوبصورتی کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ لمبے قد کے افراد کو تنخواہ زیادہ ملتی ہے ۔ آسٹریلیا ، امریکہ اور برطانیہ میں تحقیق سے یہ سامنے آیا کہ لمبے افراد خود سے دو انچ چھوٹے افراد کے مقابلے میں ایک سال میں ایک ہزار ڈالر زیادہ کماتے ہیں۔ یہ افراد اسپورٹس میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں لمبے افراد باسکٹ بال، کرکٹ ، فٹ بال ہر گیم میں آگے ہوتے ہیں۔ بچوں کے چیک اپ کا ایک گروتھ چارٹ ہوتا ہے۔ جو بچے سال میں ایک مرتبہ ڈاکٹر سے چیک اپ کرواتے ہیں ، اگر کسی بھی وجہ سے وہ اس گروتھ چارٹ کے ساتھ ساتھ نہ چلیں تو یہ معلوم کرنا ضروری ہوتا ہے کہ ان کو کیا مسئلہ ہے۔

بچوں میں قد کی پیش گوئی کرنے کا ایک فارمولا ہے جس میں ماں اور باپ کا قد ڈالتے ہیں تو اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ بچے بڑے ہوکر کتنے لمبے ہوں گے۔ جیسا کہ قارئین واقف ہوں گے، ہڈیاں لمبی ہونے کے حصے ان کے آخری حصوں میں ہوتے ہیں جن کو گروتھ کی پلیٹ کہتے ہیں۔ بچپن سے لے کر بلوغت تک اس گروتھ پلیٹ میں ہڈیوں کے خلیے ملٹی پلائی کرتے ہیں۔ بلوغت سے گذرنے کے بعد ایسٹروجن ہارمون کی وجہ سے ہڈیاں جڑ جاتی ہیں تو قد بڑھنا رک جاتا ہے۔ اسی لیے جن لوگوں میں گروتھ ہارمون کا ٹیومر بلوغت کے بعد پیدا ہوجائے وہ اونچائی میں نہیں بلکہ چوڑائی میں بڑھنے لگتے ہیں ۔ اس بیماری کو ایکرومیگالی کہتے ہیں۔ اس ٹیومر کو سرجری کرکے پچوٹری سے نکالنا پڑ جاتا ہے ۔ کچھ کو ریڈی ایشن ٹریٹمنٹ دینا پڑتی ہے اور کچھ دوائیں بھی دے سکتے ہیں۔

کیا قد لمبا ہوسکتا ہے؟ بچوں میں کھیل کود ، مناسب غذا اور نیند پوری کرنے سے ان کا قد بہتر ہوسکتا ہے۔ ہڈیوں کی عمر ہاتھ کے ایکس رے سے ناپتے ہیں۔ قد اس صورت میں لمبا ہوسکتا ہے کہ تشخیص مناسب وقت پر ہوجائے اور گروتھ ہارمون کا استعمال وقت پر شروع کردیں یعنی بلوغت سے پہلے۔ دس سال کی عمر سے پہلے پہلے اس بات پر سوچ لینا چاہئیے۔ بلوغت میں دیری کرکے بھی قد بڑھا سکتے ہیں۔ جن بچیوں میں خاص طور پر پری کوشس پیوبرٹی یعنی کم عمری میں بلوغت ہوجائے ، ان کا قد بھی چھوٹا رہ جاتا ہے اور ان میں ذہنی طور پر اتنی سمجھ بوجھ پیدا نہیں ہوئی ہوتی کہ ماہواری سے نبٹ سکیں یا اپنا خیال رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ ان کو نامناسب جنسی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پیرو ملک سے تعلق رکھنے والی لینا می اوینا 1933 میں دنیا کی کم عمر ترین ماں بنی۔ اس کی عمر اپنے بچے کی پیدائش کے وقت پانچ سال ، سات مہینے اور 21 دن تھی۔

جن افراد کا قد مکمل ہوچکا ہو ان میں قد لمبا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے جو روس میں کچھ ہسپتالوں میں کرتے ہیں۔ ٹانگوں کی ہڈیاں توڑ کر ان کو جدا کرتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ واپس جڑ جاتی ہیں۔ اس طریقے سے کچھ انچ قد لمبا ہوجاتا ہے۔ اس میں کئی مہینے لگتے ہیں۔ بہت مہنگا ہے اور اس کی پیچیدگیاں بھی زیادہ ہیں۔

میرا اپنا فلسفہ ہے کہ جو چیز ٹوٹی ہوئی نہ ہو اس کو جوڑنے کی کوشش بے کار ہوتی ہے۔ چھوٹے قد کا ہونے سے زندگی یا صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ویسے بھی زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے، قدآور ہونے کے لیے جسمانی طور پر لمبا ہونا ضروری نہیں ہے۔ بہت سارے کامیاب افراد چھوٹے قد کے ہیں ۔ جیسے عامر خان، سلمان خان، بل ماہر، ٹام کروز، پرنس، برونو مارس اور کیون ہارٹ وغیرہ۔