ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

کسی کو پڑھنے کی فرصت ہے اور نہ ریاضت کا زمانہ

پہلے پبلشر رائٹرز کو رائلٹی دیا کرتے تھے اب رائٹر پبلشر کو رائلٹی دیتے ہیں کسی کو پڑھنے کی فرصت ہے اور نہ ریاضت کا زمانہ بدلتے ہوئے ادبی موسم اگر تخلیق اور تخلیق کار کی بنیاد معیار نہ ہو ،پی آر ہو تو ادب کی وہی صورت حال بن جاتی ہے جو ہم نے اپنے اس شعر میں عرض کی ہے ۔
”کتنا جی لیں گے وہ اشعار کے بل بوتے پر ۔سانس لیتے ہیں جو پی آر کے بل بوتے پر ”ویسے تو ہر دور میں ادب کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ نان جینوئن لوگ قطاریں پھلانگ کر آگے آجاتے ہیں اور جینوئن لوگ منہ تکتے رہ جاتے ہیں ۔ایک زمانہ تھا کہ پبلشر ز رائیٹر کو رائلٹی دیا کرتے تھے ۔اب رائیٹرز پبلشروں کو ”رائلٹی “دیتے ہیں جسے عرف عام میں اخراجات اشاعت کہا جاتا ہے ۔

چونکہ ہر پانچویں چھٹے آدمی پر شاعر یا ادیب بننے اور مشہور ہونے کا بھوت سوار ہے لہٰذا پچاس سے ایک لاکھ تک کی جمع پونچی ہے اور دھڑا دھڑ مفت کتابیں بھی بانٹ دیتا ہے ۔کچھ دیر تک یہ پتنگ ہواؤں میں رخصت کرتی رہتی ہے پھر ہواتیز چلتی ہے تو شہرت کی ڈورکٹ جاتی ہے اور پتنگ غائب ہوجاتی ہے ایسا ہم پچھلے پندرہ بیس برسوں سے دیکھ رہے ہیں اور یقین کامل ہے کہ جب تک زندہ رہیں گے یہی سب کچھ دیکھتے رہیں گے ۔
پہلے زمانے میں تلامذہ اپنے اساتذہ سے غزلوں پر اصلاح لیتے تھے ۔اساتذہ بھی ایسے ہوتے تھے کہ بلامعاوضہ خدمت فن سمجھ کر فروغِ سخن کے لئے ایک آدھ مصرعے ،ایک آدھ لفظ میں ردوبدل کرکے شعر یا غزل کو اس لائق بنا دیتے تھے کہ وہ سنی یا پڑھی جا سکے اور شاگردکی مناسب حوصلہ افزائی کر سکے ۔اب چونکہ استاد پیدائشی ہوتے ہیں ۔لہٰذا کوئی شاگرد نظر نہیں آتا یا شاگرد کہلوانے میں جھجک محسوس کرتا ہے چنانچہ جورطب دیا بس اس کے دماغ میں آتا ہے لکھ ڈالتا ہے ۔جب داد نہیں ملتی تو تعلقات بڑھاتا ہے اپنے جیسے دوست تلاش کرتا ہے ۔

اچھل اچھل کر ان کے بے تکے اور مہمل شعار پر داد دیتا ہے اور جوابی رسید کے طور پر ان سے داد وصول کرتا ہے ۔ایک محفل میں اگر بیس افراد ہیں تو بیس کے بیس شاعر ہوں گے ۔سنا ہے کسی زمانے میں سامعین بھی ہواکرتے تھے ۔اب تو چائے پلانے ،اسٹیج سجانے اور بینرز لگانے والے بھی شاعر بن جاتے ہیں۔ ایزی کم ،ایزی گوکازمانہ ہے ۔کسی کو مطالعے کی فرصت ہے نہ ریاضت کا وقت ہے ۔اور نہ اس کی ضرورت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ادبی منظر نامہ گدلی جھیل بن کررہ گیا ہے ۔
جتنی قیمتی اور سنہری مچھلیاں ہیں وہ اس جھیل کی تہہ میں چھپ گئی ہیں یا ”حشرات الآب “سطح آب پر ابھرآئے ہیں ۔پھر بھی ایسے قیمتی گوہرا بھی تک موجود ہیں جن کی چمک دمک ہر چند کے وقت کے گردوغار میں ماند پڑگئی ہے مگر ان کی قدروقیمت میں کوئی کمی نہیں آئے ۔جب منظر صاف ہو گا تو یہی لوگ چھپتے دکھائی دیں گے ۔لیکن منظر کب صاف ہو گا اس کے لئے کوئی تاریخ نہیں دی جا سکتی ۔جب اللہ چاہے گا تو ایسا ہو گا لیکن اللہ کب چاہے گا ۔
یہ ہم نہیں کہہ سکتے ۔ایک رواج یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کل جو چوزے چوں چوں کرکے دانہ چگتے تھے اب وہ اصیل مرغ کی طرح بانگیں دینے لگے ہیں ۔مگر چونکہ اصیل مرغ نہیں ہیں پولٹری فارم کی پیدا وار ہیں اس لئے بہت جلد ان کی آواز بیٹھ جاتی ہے اور یہ اصیل مرغ برائیلر کے داموں پر بھی نہیں بک پاتے ۔کیا زمانہ تھا جب ناشرین ادیبوں سے کہا کرتے تھے ۔”مسودہ رکھ جائیے ،پڑھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ قابل اشاعت ہے یا نہیں ۔“اب زمانہ آگیا ہے کہ ہر ناقابل اشاعت ”چیز “قابل اشاعت ہے ۔اور یہی اس دور کا المیہ ہے کہ ناقابل اشاعت کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے ۔

پھر بھی یہ غنیمت ہے کہ کچھ ایسے لوگ ابھی زندہ ہیں جو کھرے کھوٹے کی پہچان رکھتے ہیں ۔اور ہراوٹ پٹانگ تحریر کو فوراً قابل اشاعت نہیں سمجھتے۔وہ جانتے ہیں کہ کیا چیز قابپ اشاعت ہے اور کیا چیز قابل اشاعت نہیں ہے۔خدا کا شکر ہے کہ ساری دنیا اندھی نہیں ہے ابھی کچھ دیدہ ور موجود ہیں ۔ جن کے بارے میں ہی اقبال رحمتہ اللہ نے فرمایا تھا ”ہزاروں سال نرگس اپنے بے نوری پہ روتی ہے ، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ پیدا “
افسوس ان لوگوں پر ہے جنہوں نے غیر موزوں طبع افراد کے جم غفیر کو شاعر بنانا شروع کر دیا ہے ۔غزلیں لکھ لکھ کر دیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں ۔حالانکہ ماتم کرنا چاہئے ۔اگر ان کی خوشی اسی میں ہے تو ہم یا آپ کیا کر سکتے ہیں ۔زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ جناب غزل تو لکھ دی ہے شاگرد کو ادائیگی کا طریقہ بھی سمجھا دیں تا کہ اس کی بھری محفل میں قلعی نہ کھل جائے کہ جہاں زیر پڑھنی تھی اس نے زبر پڑھ دیا ،جہاں مصرعہ وزن میں تھا وہاں اس نے ادائیگی سے بے وزن کر دیا ۔چونکہ سننے والے سبھی شاعر ہوتے ہیں لہٰذا وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں ، یہ کلام ہے کسی اور کا ،اسے پڑھ رہا کوئی اور ہے

بات صرف شاعری تک محدود نہیں ،اب تو ایسی ایسی کتابیں ،مضامین اور مقالے سامنے آچکے ہیں جنہیں لکھا کسی اور نے ہے نام کسی اور کا ہے ۔ہمارے بچپن میں ایک صاحب ہوا کرتے تھے ڈاک خانے کے باہر بیٹھے ہوئے منشی سائلین کی درخواستیں اور جہلاء کے خطوط لکھا کرتے تھے ۔بعد میں معلوم ہوا کہ صرف اسی کام سے ان کی روٹی نہیں چلتی تھی وہ بعض لوگوں کو کتابیں ،ناول اور افسانے بھی لکھ کر دیتے تھے اور معمولی معاوضہ لے کر ،جو آج کے حساب سے معمولی ہے مگر اس زمانے کے لحاظ سے معقول بلکہ بہت معقول ہو ا کرتا تھا ۔

اب وہ ڈاک خانے تو نہیں رہے البتہ کچھ لوگوں نے گھروں میں اس قسم کی منشی گیری کے ڈاک خانے کھول لئے ہیں ۔ہم اگلے کسی کالم میں بتائیں گے کہ پچھلے زمانے ادب منظر کیا تھا اور اب کا ادب منظر کیا ہے ۔پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے اور کیوں ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں ؟نقطہ ونظر قطعاً اصلاحی ہو گا ۔لہٰذا کسی کو تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ! ہمیں اگر دکھ ہے تو صرف یہ ہے کہ اب ادب کا منظر نامہ اتنا گد لا ہو گیا ہے کہ کسی شکل کے خدوخال یا تو پوری طرح اُبھر کر سامنے آتے ہیں نہ دیر تک قائم رہتے ہیں ۔نہ ان کے خدوخال میں زندگی کی رمق نظر آتی ہے ۔یہ بہت تشویشناک بات ہے ۔لیکن جنہوں نے مطالعہ ،مشق ،ریاضت اور رت جگہوں کے ذریعے تھوڑا بہت جو نام کمایا ہے۔ یہ لوگ بلاشبہ قیمتی اور قابل قدر ہیں ۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...