بلاگ معلومات

کس فحاشی کا رونا روتے ہیں ؟

دوستو ! بداخلاقی کی اس انتہا پر پہنچنا ہمارے ہاں کی سیاست میں کوئی نئی بات نہیں کہ آپ غم زدہ ہوے بیٹھے ہیں – ہمارے ہاں مدتوں سے یہی کچھ ہوتا آیا ہے – بس فرق یہ ہوتا ہے کہ جب مدتوں کی گرد چہروں پر پڑتی ہے تو وہ "ابر آلود ” دکھائی دینے لگ جاتے ہیں – اور گمان ہوتا ہے کہ شائد دھندلا پن عیب چھپا لے گیا ….. کل میں نے ایک جگہ "رنڈی ان منڈی ” کے الفاظ دیکھے تو محض ایک ناہنجار کی بدگوئی جان کر نظر انداز کیا ..لیکن ابھی برادر عزیز مبین احمد کا اخلاقیات کا مرثیہ پڑھا تو خبر ہوئی کہ یہ الفاظ ٹرینڈ بن چکے ہیں – مبین کہ شرما گئے اور یہ الفاظ پوسٹ میں نہ لکھ سکے لیکن جس معاشرے کی چولی اتارنے کا حق آپ برسوں پہلے فحش نگاروں کو دے چکے تو اس معاشرے کو آپ کیا کپڑے پہنائیں گے ..

ہماری سیاست بارے بہت پہلے شورش کاشمیری کہہ گئے تھے میرے د یس کی سیاست کا حال مت پوچھ طوائف گھری ہوئی تماش بینوں میں سو دوستو ! یہ مدتوں سے ہوتا آیا اور شائد اس میں اضافہ ہی ہو گا …آپ کو یاد نہیں لیکن پچاس برس پہلے کی سیاست کا بھی یہی حال تھا ، بس تب سوشل میڈیا نہ تھا اس لیے کسی متعین شخص کے کرتوت سامنے نہ آتے تھے — آپ کو یاد نہیں لیکن حقائق تو حقائق ہوتے ہیں ..قبروں کو بھی پھاڑ کے سامنے آ جاتے ہیں – بھٹو صاحب کہ اب قائد عوام ہوتے ہیں ان کے دور میں اپوزیشن کے ساتھ ان کا یہ سلوک تھا کہ ایک سفید ریش بزرگ رہنماء کو جیل میں قید کیا اور کوٹھری میں بازار حسن کی ننگی طوائفیں لا بٹھا دین ..کسی شریف آدمی کے لیے اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے ، قومی اتحاد کے ایک رہنما , کہ جو بزرگ عالم دین بھی تھے ، کے ساتھ پولیس کے جوانوں سے بد فعلی کروائی گئی ..وہ بزرگ قید سے رہائی کے چند ماہ بعد ہی اس توہین کے غم سے وفات پا گئے – کس کس کی بات کیجئے گا …..

خاتون مریم بی بی کے بارے میں یہ جو بے ہودگی کی جا رہی ہے اس سے سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے لیکن جناب یہ آپ کا کلچر ہے … قومی اسمبلی کا اجلاس تھا اور وزیر اعظم خاتون …… شیخ رشید صاحب تب ” مومن ” تھے بلکہ مجاہد اعظم …جی ہاں کیونکہ تب مسلم لیگ نون میں تھے … خاتون وزیر اعظم کی طرف منہ کر کے ایک آوازہ کسا ….. اس کو کیا نقل کیا جا سکتا ہے ..بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ کل کا منڈ ی والا ٹرینڈ اور جملہ اس سے کہیں کم تر ہے – لیکن شیخ رشید کی مذمت تو کیا الٹا تحسین کی گئی –

اور ابھی کل کی بات ہے عمران خان کی بیوی کے عمرے کے سفر پر جو بے ہودگی کی گئی وہ منظر سے محو نہیں ہوئی …. عمران خان کی بیوی ایک باپردہ خاتون ہے اس کے سابقہ نکاح کے اور شوہر کے حوالے سے جو جو باتیں کی گئیں ان کو سن پڑھ کے بدتہذیبی بھی شرما جائے – ایک مذہبی آدمی نے یہ بھی لکھ دیا کہ ……..بس کیا کہوں ، اور کیا کیا ماتم کیا جائے ..مجھے نقل کرتے بھی شرم آ گئی – اور اب منڈی بہاالدین مریم نواز کے جانے پر تحریک انصاف کے لڑکوں نے جو بے ہودگی کی ہے اس کی مذمت کیا کی جائے …کہ لکھ چکا کہ آپ کے ہاں کا سیاسی کلچر ماضی سے ہی یہی ہے ….

ایک سوال آپ سے ہے ، کیا آپ کے یہ لیڈر چاہیں تو اس سلسلے کو روک نہیں سکتے ؟ یقین کیجئے …یہ روک سکتے ہیں – لیکن روکیں گے نہیں …سبب اس کا یہی ہے کہ ان لیڈران کا اپنا ذہنی لیول ، اخلاقی معیار ، ان کی اپنی حرکتیں بھی اسی درجے کی ہیں ..بس "اتفاق ” سے یا کسی کی مہربانی سے یہ ہمارے لیڈر بن گیے ہیں ..ورنہ یہ اس قابل نہیں ہیں کہ قوم کی قیادت کر سکیں ..مجھے تو ان لوگوں پر ترس آتا ہے کہ جن کا لیڈر عمران خان ، نواز شریف اور زرداری ہے –