اُردو صفحہ فیس بُک پیج

بلاگ معلومات

کیا سائنس بہت مشکل ہے ؟

غالباً آئن سٹائن کا کہنا ہے کہ ”سائنس کے تصورات مشکل نہیں مگر کچھ لکھنے والے ان تصورات کو اُس زبان میں بیان کرتے ہیں جو عام شخص کے لئے ان تصورات کو مُشکل بنا دیتے ہیں“نیل ڈیگریس ٹائسن کی کتاب آسٹروفزکس فار پیپل ان ہری ایک ایسی چھوٹی سی کتاب ہے جو آپ کو دو سو صفحات میں پوری آسٹروفزکس حلوے کی طرح سمجھا دیتی ہے۔ اگر آپ کو سپیس کے بارے میں جاننے کا شوق ہے تو اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔

یوال نوح الحریری کی کُتب کا سیٹ ”سیپینز، ہومو ڈیس اور اکیسویں صدی کے اکیس سبق“ آپ کو ہزار بارہ سو صفحات میں انسانی تاریخ، سماجیات اور دیگر بنیادی تصورات سمجھا سکتی ہیں۔ پہلی کتاب سیپینز میں ماضی کے قصے ہیں۔ جنہیں بہت سادہ الفاظ میں سمجھایا ہے یہ پتھر کے دور کے انسان کی تاریخ سے شروع ہو کر حال کے انسان تک تمام تاریخ بتاتا ہے۔ دوسری میں حال اور تیسری میں مستقبل کا بتایا گیا ہے یہ تین کُتب آپ کے دنیا بارے بنیادی تصورات کو بہت کلئیر کر سکتی ہیں۔

ہانس روسلنگ جو کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے شائد صدر بھی رہ چُکے ہیں اُن کی کتاب حقائق یا پھر فیکٹ فُل نیس آپ کی تنگ نظری کو دور کر سکتی ہے۔ جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں دُنیا تباہی کی طرف جا رہی ہے، غُربت بڑھ رہی ہے اور لڑکیوں پہ پابندیاں لگ رہی ہیں جو کہ بالکل غلط باتیں ہیں اس کتاب میں روسلنگ آپ کو آسان الفاظ میں یہ سمجھا دے گا کہ دنیا بہتری کی طرف کیوں اور کیسے جا رہی ہے اور میڈیا آپ کو کس طرح غلط رپورٹنگ کر کے تنگ نظر بنا رہا ہے۔

ہسٹری آف سائنٹفک ریولیوشن آپ کو وہ تمام کانسپٹ دے دے گی جو سائنس کے موجودہ انقلاب کا باعث بنے۔ پوری سائنسی سٹرکچر آپ جان لیں گے۔ وائے نیشن فیلز نامی کتاب میں آپ یہ جان پائیں گے کہ قوموں کے تنزل کا راز کا کیا ہے حکومتیں عوام کو کیسے کنٹرول کرتی ہیں اس کتاب کے جواب میں ریشنل آپٹامسٹ نامی کتاب ہے جو اس کے بالکل الٹ تصور دیتی ہے اور دونوں کتب پڑھنا ضروری ہیں۔ یہ آٹھ کُتب پڑھ کر آپ کے تاریخ اور اس دنیا کے نظام کے بارے میں سیاسی اور سائنسی تصورات ایک حد تک کلئیر ہو جائیں گے۔ ان کو پڑھنا بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ ان سے حاصل شدہ تصورات روایتی سوچ سے آپ کو نکال باہر کریں گے اور دنیا کی حقیقت کو ایک حد تک سامنے لائیں گے ۔