اسلام بلاگ

کیا رجم ایک بھیانک سزا ہے ؟

بنیادی مسلہ رجم کا انکار نہیں ، حدیث کا انکار ہے ، اور احساس کمتری کا ہے – رجم کے معاملے میں دو طبقات ہیں جو چراغ پا رہتے ہیں – ایک تو وہ ہے جو یھاں انسانیت کا چورن بیچتے ہیں ، ان کی اخلاقیات کی دنیا ہی الگ ہے سو ان کے لیے جواب بھی الگ ہو گا – دوسرا طبقہ وہ ہے جو دین سے اپنا تعلق بھی جوڑے رکھنا چاہتا ہے ، روشن خیالی کو شعار بھی بنانا چاہتا ہے ، اور آخر میں جنت کا وارث بھی بننا چاہتا ہے – لامحالہ ان کے اعتراضات کا جواب بھی الگ ہی ہو گا –
لائے ہیں بزم ناز سے یار خبر الگ الگ
سو ہم بھی مجبور ہیں کہ "لائیں ان کے جواب الگ الگ ”

لیکن آج ان کا ذکر کہ جو آخر میں جنت میں بھی جانا چاہتے ہیں – شیخ ابو زہرہ پچھلی صدی کے معروف عالم دین تھے – ان کے حوالے سے یوسف قرضاوی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس کا مختصر جواب ہم نے دو روز قبل دیا تھا – ایک صاحب کہ جو اکثر ائمہ حدیث کے بارے میں زبان درازی کرتے رہتے ہیں کل مطلب براری کے واسطے انہی ابوزہرہ کو امام بنا کے پیش کر رہے تھے – ان کے "امام ” ابوزہرہ نے کہا ہے – "یوسف میرا دل اور ایمان نہیں مانتے کہ رحمت للعالمین رجم جیسی بھیانک سزا کو اسلام کا حصہ بنائیں گے یہ یہود کی شریعت ہو سکتی ہے میرے نبی کی نہیں ”

بظاہر کیسی دل خوش کن بات ہے ، کیسی محبت رسول میں ڈوبی ہوئی ، لیکن یہ کیسی محبت ہے کہ اسی رسول کے لائے ہوے کھلے حکم کا انکار ہے – اس سزا کے بھیانک ہونے کا فیصلہ میں یا آپ کرنے والے کون ہوتے ہیں ؟ یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ یہ سزا مناسب ہے یا نامناسب – ہم پہلے بھی لکھ چکے مکرر سوال ہے کہ قران میں چور کی کیا سزا ہے ؟
اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْآ اَیْدِیَہُمَا جَزَائً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللہِ وَاللہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمo وَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللہِ یَتُوْبُ عَلَیْہِ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (مائدہ۔ع:6)
مسلمانو! مرد چوری کرے یا عورت چوری کرے تو ان دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ حد اللہ کی جانب سے مقرر ہے اور اللہ زبردست واقف ہے تو جو اپنے قصور کے بعد توبہ کر لے اور اپنے آپ کو سنوار لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
کیا اس کے بعد کوئی ابہام باقی رہ جاتا ہے کہ چور کی سزا قطع ید ہے یعنی اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا – اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ایک ہزار روپے کی چوری کرتا ہے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے گا ؟

چلئے رقم بڑھا لیتے ہیں پانچ ہزار کر لیجئے – اب ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ جب پانچ ہزار کے لیے ایک بندے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو تمام عمر اس کو اسی معذوری کے ساتھ جینا ہو گا ، جہاں جائے گا اشتہار لگ جائے کہ یہ چور تھا – بدنامی کا طوق گلے سے مستقل لگ گیا – اب آپ کے دل میں بہت ترس پیدا ہو رہا ہے نا ؟ – ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ اس کے خالق سے بھی زیادہ ترس والے ہو گئے ؟ جس خالق کی محبت ماں سے سو گنا بڑھی ہوئی ہے آپ اس سے بھی زیادہ محبت کرنے والے کب سے ہو گئے ؟ لیکن سوال آپ کی محبت کا نہیں سوال یہ ہے کہ آپ اس سزا کو بھیانک کب کہیں گے ؟ کیا یہ جرم اس سے ہزار گنا کم نہ تھا اور سزا زیادہ ” بھیانک ” نہیں لگ رہی ؟ اور کیا آپ نہیں جانتے کہ نیک نامی بسا اوقات زندگی کی قیمت سے بھی بڑھ کے ہو جاتی ہے – اور کٹا ہوا ہاتھ جو محض بدنامی نہیں ، یہ اعلان ہے کہ یہ بندہ چور ہے – اب اس تمام منظر کشی کے بعد ہم آپ سے پوچھتے ہیں جناب کیا اس سزا کو بھی اب بھیانک کہیں گے ؟ یقینا ایک مسلمان ہونے کے ناتے آپ اللہ کی مقرر کردہ اس سزا کو تسلیم کریں گے اور اس پر کوئی لب کشائی اور حرف گیری نہ کریں گے – تو کس طرح آپ کو جرات ہو جاتی ہے کہ اسی اللہ کے بھیجے ہوے پیغام بر کی دی ہوئی سزاء کو بھیانک کہیں –
ہم یہاں قران کی یہ سورہ نجم کی یہ آیات یاد دلاتے ہیں کہ :

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْـهَـوٰى (3) اور نہ وہ اپنی خواہش سے کچھ کہتا ہے۔ اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوحٰى (4) یہ تو وحی ہے جو اس پر آتی ہے۔ ان آیات کی روشنی میں بھی ہم سوال کرتے ہیں کہ جس نبی کے بارے میں قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی مرضی کچھ نہیں کہتے اور وحی کے تابع ہو کے بولتے ہیں ، تو کیسے ممکن تھا کہ اتنا بڑا فیصلہ کر رہے ہوتے اور بقول شیخ ابو زہرہ ایسی بھیانک سزا دے رہے ہوتے اور مہربان اللہ روکتا بھی نہ – اب اس سزا کے دوسرے پہلو کی طرف آئیے کہ کیا یہ جرم ایسا سنگین تھا کہ ایسی سزا دی جاتی ؟
دیکھئے اگر اس جرم کا تعلق اس بندے کی ذات سے ہوتا تو شاید کبھی بھی ایسی سزا مقرر نہ کی جاتی – اسلام کا توحید کے نفاز کے بعد پہلا مقصد ایک صاف اور پاک معاشرہ قائم کرنا ہے اور شادی شدہ زنا کار افراد اس معاشرے کی پاکیزگی کو تباہ کرنے کے مجرم ہیں – کیونکہ کسی بھی معاشرے کی بدترین تباہی اس میں بے حیائی کا فروغ ہے -سو ایسا فرد صرف اپنی ذات کا یا اللہ کا مجرم نہیں تمام معاشرے کا بھی مجرم ہے -اگر ایسی سزا نہ دے کر اس بے حیائی کا راستہ نہ روکا جائے تو معاشرے کو بربادی سے بچایا ہی نہیں جا سکتا – اس جرم سے خانداں ، آنے والی نسل سب برباد ہو کے رہ جاتے ہیں –

اب آخری جملے کی طرف آتے ہیں کہ "یہ میرے نبی کی شریعت نہیں ہو سکتی ، یہود کی ہو گی -” تو سوال یہ ہے کہ جن کی سنت کا ماخذ ہی یہود کی شریعت ہے کہ ان کے منہ سے یہ بات سجتی نہیں – ان کو تو اس بات کو بڑھ چڑھ کے قبول کرنا چاہیے – وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جناب غامدی صاحب کے نزدیک جو چند ایک اعمال و افعال سنت ہیں ان کا نقطۂ آغاز سنت محمدی نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام ہیں – اور واضح رہے کہ یہود کی شریعت اسی شریعت ابراہیم کے سلسلے کا ایک پڑاؤ تھا محض –

اب ہمارا یہ کہنا ہے کہ بجا کہ رجم کی سزا شریعت موسی میں بھی تھی اور اس کو اسلام کے آنے کے بعد بھی جاری رکھا گیا – سوال تو ان سے ہے کہ اس کا نسخ ثابت کریں – اور ہاں ختم کرتے کرتے عرض کرتا چلوں کہ سورہ النور کی آیات سے اس کا نسخ ثابت کرنے سے پہلے یہ سوچ لیجئے گا کہ ان آیات کے نزول کے بعد کم از کم دو رجم کے واقعات مدینہ کی سرزمین پر نبی کے حکم سے ہوے تھے – لیکن اس موضوع پر پھر بات ہو گی …ان شا اللہ