ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

کیا معذور لڑکیوں کو شادی کی ضرورت نہیں ہوتی؟

دیکھا گیا ہے کہ جب معذور افرادکی ضروریاتِ زندگی کے حوالے سے گفتگو ہو تو بات عموما تعلیم، ملازمت، استعمال کی اشیا اور عمارتوں میں داخل ہونے کی دشواری تک ہی اٹک کے رہ جاتی ہے۔ جذباتی اور جنسی آسودگی، زندگی کے ساتھی کا چناؤ اور شادی شدہ زندگی کی ضرورت کے بابت گفتگو تو کہیں دور ہی رہ جاتی ہے۔ بالخصوص اگر معاملہ معذور لڑکیوں کا ہو۔

پچھلے دنوں میرا فوزیہ لونی سے فیس بک کے توسط سے رابطہ قائم ہوا جنہوں نے مجھے یہ اعزاز بخشا کہ اس سلسلے میں اپنی تحریر کے ذریعہ بات آگے بڑھاؤں۔ خود فوزیہ لونی کا تعلق کوئٹہ کے گاؤں لونی سے ہے۔ وہ آٹھ ماہ کی عمر میں پولیو کا شکار ہوئیں۔ باوجود مالی تنگ دستی کے ان کے والدین نے ان کے علاج اور بعد میں تعلیم میں بھی کسی قسم کی کمی نہ رکھی۔ آج فوزیہ معذوری کے باوجود ایجوکیشن میں ایم فل کر رہی ہیں۔ باوجود بلوچستان جیسے روایتی اور قدامت پسند صوبے میں رہتے ہوئے وہ ایک ترقی پسند، روشن خیال تنظیم بریکنگ بیرئیرز ویمن (Breaking Barriers Women – BBW) کی فعال کارکن ہیں۔ جو معذور خواتین میں اعتماد، حوصلہ، شعور، ملازمتی تربیت اور کونسیلنگ کے ذریعہ انہیں ان کے حقوق سے آگاہ کرتی ہے۔ ساتھ ہی عمارتوں میں داخلہ کی سہولت کے انتظام کی کوششیں اور معذور افراد کے استعمال میں آنے والے سامان مثلا وھیل چئیرز، سننے اور دیکھنے میں معاونت کرنے والے آلات کے حصول کے لیئے بھی مستعدی سے کام کر رہا ہے۔ تاکہ رکاوٹوں سے آزاد معاشرہ کی تشکیل اور ترویج ہو۔

خود فوزیہ کے ذہن میں کئی سوالات معذور لڑکیوں کی شادی کے حوالے سے تھے۔ مثلا آخر کوئی اِن پڑھی لکھی قابل مگر معذور لڑکیوں کی شادی کے متعلق بات کیوں نہیں کرتا؟ آخر معاشرے کے مرد ان سے شادی کے لئے آگے کیوں نہیں بڑھتے؟ کیا ان کی ماؤں کو معذور بہو سے خدشات ہیں کہ وہ بچے نہ پال سکے گی؟ بیٹے کی جنسی ضروریات کا خیال نہیں رکھ سکے گی یا اس کا ڈر کہ دنیا کہے گی بیٹے میں ہی کوئی کمی رہی ہوگی۔ ۔ پھر کیا معذور لڑکیوں کے لیے معذور افراد ہی ہوں یا پھر کوئی نارمل صحت کا شخص بھی اپنا سکتا ہے؟

اس سلسلے میں (Braking Barriers Women – BBW) سے تعلق رکھنے والی دو خواتین نے ہمارے ان سوالات کے جوابات دیئے۔ 1۔ آپ کو زندگی کے ساتھی کے حصول میں کس قسم کی دشواریوں کا سامنا ہے؟  2۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ یہ معذوری آپ کے راستے میں حائل ہے؟آپ کے خیال میں سماجی رویہ کیا ہے اور وہ کس طرح بدل سکتا ہے؟

اس سلسلے میں تنظیم کی بانی شازیہ بتول نے خاطر خواہ جواب دیے ہیں۔ شازیہ نے فائن آرٹس میں لاہور یونیورسٹی سے ڈگری لی اور حکومتی سطح پہ ستارہ امتیاز کے علاوہ کئی انعامات آرٹ کے شعبہ ميں حاصل کیے۔ بشمول اقوامِ متحدہ سے ملنے والے ایوارڈ کے۔

شازیہ بچپن میں پولیو کا شکار ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ تھا کہ معذور افراد کو سماجی قبولیت میں دشواری کا سامنا ہے لہذا میں نے ایسے مستقبل کا سوچا جس میں خود پہ انحصار کرسکوں۔ شادی کے متعلق انہوں نے کہا، میرے خیال میں معذور افراد ایک دوسرے سے شادی کر سکتے ہیں۔ بشرطیکہ ان میں ذہنی ہم آہنگی ہو۔ یہ تو ہمارا سماج ہے جو یہ سوچتا ہے کہ دو معذور افراد مل کر صحیح طور پر زندگی نہیں گزار سکتے۔ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ صرف نارمل انسان ہی شادی کریں۔ ہمیں اس سماجی سوچ کو بدلنا ہے کہ معذوری کی دنیا مختلف ہے اور وہ شادی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرد خواہ معمولی معذوری کا شکار ہو یا کسی بڑی معذوری میں مبتلا وہ شادی کر سکتا ہے جبکہ عورتیں معذوری کی صورت میں مشکل سے ہی قبول کی جاتی ہیں۔ تاثر یہ ہے کہ شاید بچہ پیدا کرنے کے لائق نہ ہوں یا زندگی کے روزمرہ کے امور نہ انجام دے سکیں۔ سماجی سوچ میں تبدیلی کے لئے ہمیں آگہی کی اور ان حساس موضوعات پہ تربیت اور تعلیم کی ضرورت ہے جو ہمارے گھروں سے شروع ہوتی ہے۔ اور ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اس کا حصہ دار ہے۔

پی پی ڈبلیو (Braking Barriers Women – BBW) کی ایک اور فعال کارکن سدرا اجمل ہیں۔ جنہوں نے انگریزی میں ایم اے کیا اور اس وقت گھر میں ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔ سدرا کو سولہ برس کی عمر میں ایم ایس ((Multiple Sclerosis) کا حملہ ہوا اور بتدریج پہلے بینائی، پھر انگلیوں اور اب چلنے پھرنے سے معذور ہیں۔ تاہم اس تمام عرصے میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ اپنی شادی کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ دوسری لڑکیوں کی طرح میں بھی اپنی شادی شدہ زندگی کے خواب دیکھتی تھی۔ میں سوچتی تھی کہ کیسے رنگ برنگے لباس پہنوں گی۔ کیا منصوبہ بندی ہو گی۔ اپنی بیماری کا سامنا کرتے ہوئے یہ خواب گم ہونے لگے۔ میں شروع میں اس کو قبول نہیں کر پا رہی تھی۔ لہذا گھنٹوں رونے میں صرف کر دیتی کہ کیا میں وہی چلتی پھرتی ہوں جو اب قدم بھی نہیں اٹھا سکتی۔ مجھے سماج نے بھی اس بیماری کی وجہ سے قبول نہیں کیا تاہم اب میں جان گئی ہوں کہ صرف شادی شدہ زندگی ہی رنگوں سے بھری نہیں ہوتی اس میں اور بھی بہت کچھ ہے۔ مثلا دوستوں کے ساتھ بھی بہترین زندگی گزر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رویے کی تبدیلی میں ان کے والدین کا بہت ہاتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ شادی کے لئے انہیں ایسے ساتھی کی ضرورت ہو سکتی ہے جو ہر طرح ان کی مدد کرے۔ اگر وہ عملی زندگی میں فعال نہیں ہو گا تو یہ برداشت کرنا مشکل ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عموما قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ معذور خواتین گھر نہیں آباد کر سکتیں،بچے کو جنم نہیں دے سکتیں یا یہ کہ اگر معذور عورت سے شادی کریں گے تو ضروری ہے کہ بچے معذور پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت سی بے بنیاد باتیں ہیں۔ ہم گھر بھی چلا سکتے ہیں بچے بھی جنم دے سکتے ہیں جو صحت مند ہوں۔

معاشرتی سوچ کی تبدیلی کے حوالے سے انکا خیال ہے کہ ہم سب کو مشاورت کے ذریعہ معاشرے کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ ہم کو جھوٹے عقائد کو توڑنے کے معاملے میں سماجی طور پر اپنا حصہ ادا کرنا ہو گا۔ ہم کسی سے بھی کم نہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے قارئین کیا کہتے ہیں؟ بلاشبہ یہ ایک انسانی، سماجی اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور توجہ کا طالب بھی۔۔۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...