کالمز

کیا کیا ہمیں یاد آیا

میرے اورمنو بھائی کے درمیان صرف دریائے چناب کا فاصلہ تھا لیکن یہ دریا توازل سے محبت کے کچے پکے گھڑوں پرتیرکرعبورکرنے والوں کا گواہ ہے. یہی وجہ ہے کہ اس کے دونوں طرف رہنے والے خواہ انگریزکی بنائی گئی ضلعی حدود کی لکیروں میں کیوں نہ بانٹ دئیے گئے ہوں، ان کے دل ایک دوسرے سے ملنے کے لیے دھڑکتے رہے. ویسے بھی منوبھائی کا توسارا خاندان چناب کی دوسری جانب گجرات میں آباد تھا۔ احمد حسن قریشی قلعہ داری میرے زمیندار ڈگری کالج میں اردو کے استاد تھے جوغالباً منوبھائی یعنی منیراحمد قریشی کے تایا تھے. قلعہ داری صاحب پرانے مخطوطات اورکتب جمع کرنے کے شیدائی تھے اورآج بھی ہیں. چھوٹے سے قد پرگہری بڑی بڑی مونچھوں اورقراقلی ٹوپی کے ساتھ جب وہ ریلوے روڈ گجرات کے عقب میں واقع اپنے گھر، لاکھوں پرانے مخطوط کے پاس بیٹھ کران کا تذکرہ کرتے تویوں لگتا کوئی قرون وسطیٰ کے کتب خانے کے انچارج ہیں جسے اپنے خزانے کی ایک ایک چیز سے شدید محبت ہے. منوبھائی کے ساتھ ان کا تذکرہ اس لیے یاد آیا کہ منو بھائی وزیرآباد میں رہتے تھے اوراحمد حسن قریشی کے پاس وزیرآباد شہرکی ملکیت کی رجسٹری تھی جوکسی مغل بادشاہ نےان کے باپ دادا کے نام کردیا تھا. منو بھائی گجرات آئے تویاردوست کہتےاپنے تایا سے وہ رجسٹری تولے لواورمنوبھائی کا ایک ہی جواب ہوتا “اودھے کول رجسٹری اے تے میرے کول وزیرآباد” (اس کے پاس رجسٹری ہے تومیرے پاس وزیرآباد). وزیرآباد کے لوگ چناب کا دریا عبورکرکے گجرات کی ادبی محفلوں میں ضرورآتے. ایک منو بھائی اوردوسرا میرا دوست شرجیل جواس وقت نظم لکھتا تھا اورآج کل محکمہ خوراک کی نوکری کرتا ہے، مختلف مشغلے پالتا ہے اورٹیلیفون پرلمبی لمبی باتیں کرتا ہے. یونان کے فلسفے سے لے کرشاعروں، ادیبوں اورفنکاروں کے پرانے اورتازہ سیکنڈل ایک ہی ٹیلی فونک گفتگومیں سنانا چاہتا ہے.

یہ ایوب خان کے آخری سال تھے اورذوالفقارعلی بھٹوسیاست کے افق پرابھررہا تھا. گجرات کئی وجہ سے بہت اہم تھا. مارکسزم پڑھانےمیں طاق اکبرعلی نے اپنے بہت سے ہمنوا بنا رکھے تھے جواس ملک میں کیمونسٹ انقلاب کا خواب دیکھتے تھے. ان میں عثمان فتح، شوکت کمال اورآفتاب مفتی نمایاں تھے. یہ سب مارکسزم کی وجہ سے پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے لیکن منو بھائی کوبھٹوسے عشق، تواسے پارٹی کی محبت میں گرفتارکرگیا. بھٹونے 1970ء کے الیکشن سے پہلے ایک سرمایہ دارمشتاق پگانوالہ کوپارٹی کا سربراہ بنایا توسارے کے سارے مارکسٹ عثمان فتح کی قیادت میں پارٹی چھوڑ گئے لیکن منوبھائی مرتے دم تک بھٹوکے سحرسے نہ نکل سکے. مجھے یاد ہے وہ دن جب ان سب نے پیپلزپارٹی چھوڑی، اس شام گجرات کے زمیندارہ بینک کی خوبصورت عمارت (جواب کھنڈربن چکی ہے) میں غلام احمد پرویزکی تقریرتھی. پرویز ان دنوں مارکسٹ ملحدوں کا ویسے ہی محبوب تھا جیسے آج کے دورمیں تمام سیکولرجاوید احمد غامدی کوپسندکرتے ہیں. یہ میرے الحاد کا زمانہ تھا. شاید تیرہ سال کی عمرہوگی. پرویز کی تقریرسننے منوبھائی بھی وزیرآباد سے آئے تھے، جہاں شاید ان کی پارٹی چھوڑنے والے مسئلے پرگفتگوبھی ہوئی تھی کیونکہ مجھے اس لیے یاد پڑتا ہے کہ بعد میں حکیم جمیل صاحب کے ڈیرے پرسب لوگ جمع ہوئے تواس کی بازگشت موجود تھی. یہ ڈیرہ بھی عجیب تھا. حکیم صاحب شاہ دولہ روڈ پرمطب کرتے. شام کے وقت مطب کے باہرکرسیاں لگا دی جاتیں اوروہاں شہرکا ہربڑا ادیب شاعریا پھران سب کا دیوانہ صلائے عام کےطورپرجمع ہوتا. کیا کیا نابغہ روزگارلوگ تھے جواس محفل کی زینت بنے رہتے. پنجابی کے مشہورشاعرپیل فضل گجراتی اورشریف کجناہی، فارسی، اردو اورپنجابی میں بیک وقت شاعری کرنے والے انورمسعود، سیف الرحمٰن سیفی، مفتی ریاض، میرے وہ استاد جوعلم کا سمندرتھے حامد حسن سید، چوہدری فضل حسین، عطاءاللہ شاہ بخاری کے فرزند ارجمند عطاء المحسن، نثری نظم کے موجد مبارک احمد، سفرنامے والے خورشید ہمایوں، ایک طویل فہرست میں سے یہ چند نام ہیں. جہلم، لالہ موسیٰ اوروزیرآباد سے کوئی آتا توان محفلوں کا حصہ ضروربنتا. کبھی کبھی منو بھائی بھی تشریف لاتے، سنجیدہ گفتگو کم کرتے اورفقرے بازی زیادہ. ویسے بھی حکیم جمیل صاحب کی محفل کا رنگ ہمیشہ سے ہلکا پھلکا ہی رہتا.

مبارک احمد نوکری مکمل کرکے گجرات واپس آئے توانہوں نے حلقہ ارباب ذوق کی بنیاد رکھی. نیا نیا نشیمن ہوٹل کھلا تھا. وہاں اجلاس ہونے لگے. منو بھائی سے ملاقاتوں کا سلسلہ وہاں بھی جاری رہا. پنجاب یونیورسٹی میں آٰیا توپاک ٹی ہاؤس کی کرسیوں پربیٹھ کرگھنٹوں گزارتا اوروائی ایم سی اے کے کمرے میں حلقہ ارباب ذوق کے ہفتہ واراجلاس میں شرکت ایک معمول بن گیا تھا. یہ وہ زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن اپنے عنفوان شباب میں تھا. اسلم اظہرکا ٹی وی اورشاہد محمود ندیم کی یونین اورذوالفقارعلی بھٹو کی وزارت عظمیٰ، پاک ٹی ہاؤس کی دوسری جانب چائنیز لنچ ہوم تھا جہاں ریاض شاہد اورحبیب جالب وغیرہ بیٹھتے تھے. حبیب جالب وہاں نہیں تھے کیونکہ بھٹونے ان پرغداری کا مقدمہ بنا کرحیدرآباد جیل میں پھینکوا دیا تھا. البتہ منو بھائی دونوں چائے خانوں کی زینت بنتے تھے. ضیاء الحق آ گیا. ٹی ہاؤس پرکیمونسٹ انقلاب پسندوں کا غلبہ تھا. یہ سب 1977ء میں بھٹو کے خلاف تحریک میں شامل تھے اورسمجھتے تھے بھٹو نے ان کے مشن کے ساتھ دھوکہ کیا لیکن ضیاءالحق کی اسلامی گفتگو سن کرسب لوگ بدک گئے. یہ سب لوگ ٹی ہاؤس میں بیٹھ کرمارشل لاء اورضیاءالحق کی برائیاں کرتے مگرٹیلی ویژن کی رونق میں انہی کے دم سے اضافہ ہوا. یہی وجہ ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن کا سنہری دورضیاء الحق کا دورتھا. منوبھائی کا عروج بھی اسی دورکی علامت ہے. امجد اسلام امجد کا وارث، حسینہ معین کا انکل عرفی اورمنوبھائی کا سونا چاندی وہ کردار ہیں جواس دورکی پہچان ہیں. کوئٹہ چلا گیا تورابطہ کٹ سا گیا. لیکن لاہورآتا توکشورناہید کے گھر سب کا اکٹھ ہوتا. ایسے میں منو بھائی کا وہاں ہونا لازم تھا۔

ٹیلی ویژن پرڈرامہ لکھنا شروع کیا توایک اوررشتہ ان سے بندھ گیا. وہ برآمدے کہ جب میں لاہورمیں تھا توخواب نظرآتے تھے. کوئٹہ سے ڈرامہ لکھا توکھل گئے. اب ان سے ملاقات کسی پروڈیوسرکے کمرے یا کسی سٹوڈیو کے سیٹ پرہوتی. کالم نگاری شروع کی توباربارداد دی. کہنے لگے، “ایہہ ٹھیک اے، تیرامولوی ہن باہرآیا” (یہ ٹھیک ہے تمہارا اصل مولوی اب باہرآیا ہے). میں منوبھائی سے کبھی بحث میں نہ پڑتا. وہ مجھے کئی وجہ سے بہت عزیزتھے. میں ان سے محبت کرتا تھا. بھرے مشاعرے میں جہاں نستعلیق اردوچل رہی ہو، پنجابی نظم انتہائی سہولت سے پڑھنا اورمشاعرہ لوٹنا انہی کا کام تھا. جب ڈرامہ چاکلیٹی ہیروزاورلہنگے غرارے اورساڑھیوں میں لپٹا ہوا تھا اسے حجام کی دکان، حلوائی کاٹھیا اورگھرگھرکام کرنے والے سونا چاندی تک لانا انہیں کا اعزاز تھا. ذوالفقارعلی بھٹوسے محبت کی اورتادم مرگ نبھائی اورایک بچی سندس کی تکلیف سے اتنے متاثر ہوئے کہ اپنے پیچھے ایک صدقہ جاریہ چھوڑگئے. میرے اوران کے نظریات میں زمیں آسمان کا فرق تھا لیکن محبت ایسی کہ کوئی یقین نہ کرسکے. ٹیلی ویژن پرپرائیویٹ ڈرامے شروع ہوئے تومنو بھائی نے دشت ڈرامے کے سلسلے میں کوئٹہ میں پڑاؤ ڈال لیا. میں اس وقت بلوچ سرداری نظام پرڈرامہ “گردباد” لکھ رہا تھا. دشت بھی بلوچ ثقافت پرتھا. دونوں میں نعمان اعجاز ہیروتھا. منو بھائی کا ایک فقرہ میری زندگی کا اثاثہ ہے. مجھے ایک دن کہنے لگے “تیرا ڈرامہ بڑا ہے”. میں نے کہا نہیں آپ حوصلہ افزائی کررہے ہیں. کہا نہیں توپی ٹی وی کے لیے لکھ رہا ہے، اس لیے کوئی کمپرومائزنہیں کررہا. دوسری طرف توکمرشل ہی کمرشل ہے. کون ہے جوآج یہ ظرف رکھے اورآج ایسا رویہ کسی کا ہو. یہ شہراورملک پہلے ہی بڑے لوگوں سے خالی ہوتا جا رہا تھا. اب تولگتا ہے زندگی کی بساط ہی لپیٹی جا چکی، سارے مہرے ایک ایک کرےکے واپس ڈبے میں بند ہوگئے.

کالم : اوریا مقبول جان

لکھاری کے بارے میں

اوریا مقبول جان

اوریا مقبول جان پاکستان کے معروف کالم نگار، شاعر، دانشور، ناٹک نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ بطور ستون نگار و دانشور ان کے ستون باقاعدگی کے ساتھ پاکستان کے معروف اردو اخبار روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور منفرد انداز تحریر کے باعث کئی ادبی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، ا

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment