بلاگ کالمز

کیا عمران خان احتساب کر پائیں گے؟آصف محمود

کیا عمران خان احتساب کر پائیں گے ؟ ایک خواہش ہوتی ہے اور ایک زمینی حقیقت ۔ خواہش تو یہی ہے کہ عمران خان یہ کام کر گزریں لیکن زمینی حقیقت چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں ۔ یہ وہ کوہ کنی ہے جس کے تصور ہی سے فرہاد کا زہرہ آب ہو جائے ۔

یہ بات درست ہے کہ عمران حیران کر دینے کی حیران کن صلاحیت رکھتے ہیں ۔ یہ بھی غلط نہیں کہ ابھی ان کی حکومت قائم ہوئے محض چند روز ہوئے ہیں اور چند دنوں کی کارکردگی کی بنیاد پر رائے قائم کی جائے تو اس کی صحت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر رائے قائم کرنے والا اپنی رائے چند روز کی وزارت عظمی کی بجائے ان پانچ سالوں کی کارکردگی کو سامنے رکھ کر قائم کر رہا ہو جب کے پی کے میں اقتدار تحریک انصاف کے پاس تھا تو کیا اس رائے کو بھی خوش گمانیوں کی دلدل میں پھینک دیا جائے ؟

تحریک انصاف کو کے پی کے میں حکومت ملی تو اس وقت ملک میں احتساب کا ایک ادارہ ’ نیب ‘ کام کر رہا تھا ۔ تحریک انصاف نے کہا ہم اس سے مطمئن نہیں ، ہم با معنی اور ٹھوس احتساب کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم نیا ادارہ بنائیں گے ۔ چنانچہ 2014 میں کے پی اسمبلی میں قانون سازی کی گئی اور اس کے ذریعے کے پی کا اپنا احتساب کمیشن قائم کیا گیا ۔ جب جب ہم کے پی کے حکومت کے کسی عہد یدار سے پوچھتے کہ صاحب آ پ نے سیاسی مخا لفین کو کرپٹ قرار دیا تھا اب تو آپ کی حکومت ہے ذرا بتائیے تو سہی آپ نے کرپٹ عناصر کے خلاف کیا کارروائی کی ہے تو جواب ملتا دیکھیے ہم اگر کچھ کریں گے تو سیاسی انتقام کہلائے گا اس لیے ہم نے الگ سے ایک احتساب کمیشن بنا دیا ہے اور وہ ان معاملات کو دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے اس احتساب کمیشن کی کار کردگی کیا رہی؟

اگست 2017 تک ، یعنی پہلے چار سالوں میں ، اس کمیشن کی کارکردگی کا عالم یہ تھا کہ اس پر غریب قوم کے ٹیکس کے پیسوں میں سے 600 ملین خرچ کیے جا چکے تھے ۔ یاد رہے کہ ایک ملین دس لاکھ کا ہوتا ہے ۔ اتنی رقم خرچ کر دی گئی مگران چار سالوں میں کسی ایک مجرم کو بھی سزا نہیں دی جا سکی ۔ سزا تو رہی ایک طرف کسی ایک مجرم سے بھی ایک روپیہ تک نہیں نکلوایا جا سکا ۔

اور 2018 کی صورت حال آج کے روزنامہ 92 نیوز کی ایک خبر میں موجود ہے کہ 2014 سے لے کر اب تک احتساب کمیشن کے دائر کردہ صرف تین ریفرنسز پر فیصلہ سنایا جا سکا ۔ ان تین میں سے بھی ایک ریفرنس کا فیصلہ واپس لے لیا گیا کیونکہ پانچ کروڑ سے کم کی واردات احتساب کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں آتی ۔ خبر ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اس دورانیے میں صرف تنخواہوں کی مد میں اس کمیشن پر 52 کروڑ کے اخراجات غریب قوم کو برداشت کرنے پڑے ۔ دیگر اخراجات اس سے الگ ہیں ۔ یعنی گڈ کورننس کا عالم یہ تھا کہ کروڑوں روپے خرچ کر کے صرف دو ریفرنسز کا فیصلہ کیا گیا ۔

شاہ فرمان اب بڑے آرام سے فرما رہے ہیں کہ اس سے اچھا کام تو نیب کا ہے ۔ ظلم یہ ہے کہ اس پر کسی کو کوئی ندامت نہیں ۔ کل جب یہ ادارہ بنایا جا رہا تھا اس پر بھی قوم سے داد طلب کی جارہی تھی کہ دیکھیے ہم احتساب کے عمل سے کتنے مخلص ہیں اور آج جب یہ ادارہ ختم کرنے کا فیصلہ ہو رہا ہے تو ایک بار پھر قوم سے کہا جا رہا تالیاں بجاؤ دیکھو ہم فضول اخراجات کے خاتمے کے لیے کتنی محنت سے کام کر رہے ہیں ۔

وارفتگیوں کا وہ عالم خوب یاد ہے ۔ عمران خان سے میں نے پوچھا دو سوالات ہیں رہنمائی فرما دیجیے ۔ اول : نیب کے ہوتے ہوئے اس ادارے کا کیا جواز ؟ دوم : اس کے ڈی جی کا میرٹ کیا ہے ؟ جواب ملا ، نیب سے احتساب کی توقع نہیں ہے ہم ٹھوس کام کرنا چاہتے ہیں ، اس لیے نیا ادارہ ضروری تھا ۔ اب آپ دیکھیں گے احتساب کیسے ہوتا ہے ۔ دوسرے سوال کے جواب میں عمران خان نے صرف اتنا کہا : جنرل حامد کو ڈی جی بنایا گیا ہے وہ انتہائی ایماندار آدمی ہیں ۔۔۔۔ ٹھوس احتساب تو ہم دیکھ چکے، کیا آپ کو معلوم ہے اس ڈی جی کا کیا حشر کیا گیا جسے خود عمران خان انتہائی ایماندار قرار دے رہے تھے۔

ادارہ بن گیا ۔ جنرل حامد اس کے ڈی جی بن گئے ۔ جنرل حامد نے سیاسی نعروں کو سچ سمجھ لیا اور کام شروع ہو گیا ۔ جب احتساب کی آنچ حکومتی کیمپ تک پہنچی تو شور مچ گیا ۔ افسران پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی . ناکام ہو گئی ۔ چنانچہ طے ہوا اب ان افسران کو قانون سازی کے نام پر قابو کیا جائے ۔ کہا ہم تمام تعیناتیوں کا جائزہ لیں گے اور حکومت دیکھے گی کوئی تعیناتی غلط تو نہیں ہوئی ۔ مقصد واضح تھا ، اس مشق کے نام پر افسران کو فارغ کردینا مطلوب تھا ۔سراسیمگی کا یہ عالم تھا کہ برگیڈیر طارق جو پبلک کمپلینٹ سیل کے انچارج تھے ان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے جب اور کوئی راہ نہ ملی تو احتساب ایکٹ ہی میں اسمبلی سے ترمیم کروا لی گئی ۔

احتساب کی علمبردار حکومت سے آزاد احتساب کمیشن برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔ کمیشن کا سربراہ قابو میں نہیں آ رہا تھا ۔ چنانچہ احتساب ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ ترامیم کیا تھیں ذرا یہ بھی جان لیجیے ۔

پہلی ترمیم یہ کی گئی کہ ڈی جی کسی کو گرفتار کرنا چاہے تو احتساب کمیشن کے چار ممبران کی اجازت لینا ضروری ہے ۔ اگر یہ اجازت نہیں ملتی تو کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا ۔ یعنی نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی ۔ دوسری ترمیم یہ تھی کہ کسی سینیٹر کو گرفتار کرنا ہے تو پہلے چیئر مین سینیٹ کو بتایا جائے ، کسی ایم این اے کو پکڑنا ہے تو پہلے قومی اسمبلی کے سپیکر کو بتایا جائے اور کسی ایم پی اے پر ہاتھ ڈالنا ہے تو پہلے اسمبلی کے سپیکر سے بات کی جائے ۔ بیوروکریسی کے نخرے بھی اٹھانا تھے چنانچہ کہا گیا آئندہ چیف سیکرٹری سے بات کیے بغیر احتساب کمیشن کسی افسر کو گرفتار نہیں کر سکے گا ۔ جسمانی ریمانڈ کی مدت 45 دن تھی کہا اب یہ صرف 15دن ہو گی ۔ یہی نہیں وزیر اعلی خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے ، فرمایا احتساب کمیشن کی وجہ سے حکومت کے ادارے مفلوج ہو گئے ہیں ۔ ایک ترمیم یہ تھی کہ آئندہ ایسی شکایت پر کارروائی نہیں کی جائے گی جس پر شکائت کنندہ کا نام ہو ۔

ڈی جی نے یہ ترامیم دیکھیں تو سر پکڑ لیا ۔ انہوں نے وزیر اعلی کو خط لکھا ، یہ خط ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا بہت سی شکایات بغیر نام کے آئی ہیں لیکن تحقیق کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ شکایات درست ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعلی کو بتایا کہ 70 ٖفیصد شکایات نام کے بغیر ہیں کیونکہ لوگ ڈرتے ہیں لیکن ان میں وزن ہے ۔ ان پر کارروائی روک دینے کا مطلب خوفناک کرپشن کو تحفظ دینا ہے ۔ انہوں نے اپنے دیگر تحفظات کا اظہار بھی کیا لیکن کسی نے ان کی بات نہ سنی ۔ ایماندار ترین آدمی نے احتجاجا استعفی دے دیا اور سب نے گویا سکھ کا سانس لیا ۔ اس استعفی سے لے کر آخری دن تک حکومت نے قائم مقام ڈی جی سے کام چلایا ۔ ادارہ چیختا رہ گیا کہ نیا ڈی جی تو لائیں مگر یہاں اب کس کو پروا تھی ۔ احتساب کمشنر نے چار کمشنر ساتھ لیے اور بنی گالہ چلا آیا کہ عمران سے شکایت کرے ۔ عمران خان نے ملاقات کرنا بھی گوارا نہ کی ۔

کے پی میں تو مضبوط حکومت تھی اگر وہاں مجبوریوں نے اس طرح عمران کا ہاتھ پکڑ لیا کہ ان کے اپنے بنائے احتساب کمیشن کا ستیا ناس ہو گیا اور وہ یہ سب ہوتا دیکھتے رہے کچھ نہ کر پائے تو مرکز میں تو نسبتا کمزور حکومت ہے ۔ حلیف بھی دودھ کے دھلے نہیں اور اپنی صف میں بھی اب زیادہ باکمال قسم کے لوگ موجود ہیں ۔ یہاں احتساب کیسے ہو سکے گا؟