اسلام بلاگ

کیا حجاج بن یوسف ظالم حکمران تھا؟

kia-hijaaj-bin-yousaf-zalim-tha

دوست کا سوال ہے کہ کیا حجاج بن یوسف ایک ظالم حکمران تھا؟ جواب: یہ سوال فیس بک پر ہمارے ایک فاضل دوست فہد حارث صاحب کی حالیہ کتاب "امیر حجاج بن یوسف ثقفی” کی اشاعت کے بعد بعض حلقوں میں پیدا ہوا ہے۔ فہد حارث صاحب کی کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ حجاج بن یوسف قاتل اور ظالم حکمران نہیں تھا بلکہ مجاہد اسلام تھا اور انہی کے الفاظ میں "سبائی راویوں اور مجوسی مورخوں کی روایتی ریشہ دوانیوں کے سبب اس عظیم بطل جلیل اور مجاہد اسلام کو ایک قاتل، وحشی اور ظالم گورنر کی حیثیت سے پیش کیا گیا”۔

ہمیں فہد صاحب نے اپنی کتاب بھیجی ہے کہ جس کا ہم نے مطالعہ کیا ہے۔ ایک تو ہم ان کے اس کتاب کے ہدیے پر شکر گزار ہیں۔ دوسرا ہمیں یہ کہنا ہے کہ ہم ان کی بعض جزوی باتوں سے تو اتفاق کرتے ہیں جیسا کہ ان کا یہ کہنا کہ حدیث سفینہ صحیح نہیں ہے تو ہماری بھی اس بارے یہی تحقیق ہے اور ہم اپنی کتاب "مکالمہ” میں اس پر بحث کر چکے۔ لیکن اس کتاب کے بنیادی نقطہ نظر سے ہمیں بالکل اتفاق نہیں اور نہ ہی ہم اس طرز استدلال کو کوئی علمی اسلوب سمجھتے ہیں کہ جس پر انہوں نے اپنے مقدمے کی بنیاد رکھی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے دو تاثرات ملتے ہیں؛ پہلا تاثر یہ ہے کہ حجاج بن یوسف ایک زبردست منتظم اور ایڈمنسٹریٹر تھا تو یہ بات درست ہے لیکن اچھا منتظم ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ عادل بھی ہو کہ ایک ظالم میں بھی عمدہ انتظامی صلاحیتیں ہو سکتی ہیں۔

کتاب کا دوسرا تاثر یہ ہے کہ حجاج قاتل اور ظالم حکمران نہیں تھا۔ اس کے لیے جن واقعات کو بطور دلیل بیان کیا گیا، وہ الٹا یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ قاتل اور ظالم حکمران تھا۔ مثال کے طور پر ص 148 پر فاضل مولف نے حجاج بن یوسف کے حلم اور درگزر کو بیان کرتے ہوئے ایک واقعہ یہ بیان کیا کہ حجاج بن یوسف جب عبد اللہ بن زبیر کو شہید کر کے مدینہ آیا تو ایک بوڑھے سے حال احوال پوچھا تو اس نے عبد اللہ بن زبیر کی شہادت پر حجاج کو لعن طعن کی۔ تو حجاج نے اپنے چہرے کا نقاب الٹ کر اس بوڑھے سے کہا کہ میں ابھی تیرا خون بہاؤں گا۔ بوڑھے نے یہ دیکھ کر بہانہ بنایا کہ مجھے تو دن میں پانچ مرتبہ مرگی کا دورہ پڑتا ہے تو حجاج نے اس بوڑھے کو قتل نہ کیا۔

تو بوڑھے کے اس قتل نہ کرنے کو فاضل مولف، حجاج کا کمال عفو ودرگزر قرار دیتے ہیں۔ کمال ہے! ہمیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس قدر غیر معقول استدلال اتنے اعتماد سے کیا کیسے جا سکتا ہے؟ ایک شخص نے حجاج کو لعن طعن کی اور معقول وجہ پر کی اور وہ اسے قتل کرنے پر آمادہ ہو گیا تو یہی اس کے ظالم ہونے کے لیے کافی نہیں ہے کیا؟ اس سے تو ثابت ہو رہا ہے کہ حجاج اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو قتل کر دیا کرتا تھا، اسی لیے تو اس بوڑھے کے قتل پر بھی تیار ہو گیا تھا لیکن اس کے بہانہ بنانے پر اسے چھوڑ دیا۔ دوسرا یہ کہ کیا حجاج پر لعن طعن کرنے کی سزا قتل ہے؟ کہ اس نے اگر بوڑھے کو قتل نہ کیا تو ہم کہیں کہ وہ بڑا حلیم الطبع اور درگزر کرنے والا تھا۔ اگر حلیم الطبع ہونے کا معیار یہ ہے کہ کسی کے لعن طعن پر اسے قتل نہ کیا جائے تو ایسی حلیم الطبعی تو تاتاریوں کے واقعات میں بھی مل جاتی ہے۔ پوری کتاب ایسے ہی استدلالات سے بھری ہوئی ہے، جس پر مفصل تبصرہ مزید اقساط میں کروں گا۔

امام ابن کثیر اور امام ابن تیمیہ نے بھی حجاج کو ظالم کہا ہے اگرچہ اہل علم نے وضاحت کی ہے کہ اس کی کچھ نیکیاں بھی ہیں جن کا اعتراف کرنا چاہیے۔ اسی طرح یہ بات بھی درست ہے کہ حجاج کی طرف بہت سے ایسے ظلم بھی منسوب ہیں جو اس نے نہیں کیے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ظالم ہی نہیں تھا۔ امام ذہبی نے بہت خوبصورتی سے اس کی حسنات اور سیئات کو جمع کر دیا ہے: وَكَانَ ظَلُوْماً، جَبَّاراً، نَاصِبِيّاً، خَبِيْثاً، سَفَّاكاً لِلدِّمَاءِ، وَكَانَ ذَا شَجَاعَةٍ، وَإِقْدَامٍ، وَمَكْرٍ، وَدَهَاءٍ ، وَفَصَاحَةٍ، وَبَلاَغَةٍ، وَتعَظِيْمٍ لِلْقُرَآنِ … وَلَهُ حَسَنَاتٌ … وَأَمْرُهُ إِلَى اللهِ ، وَلَهُ تَوْحِيْدٌ فِي الجُمْلَةِ، وَنُظَرَاءُ مِنْ ظَلَمَةِ الجَبَابِرَةِ وَالأُمَرَاءِ۔ ترجمہ: حجاج ظالم، سرکش، ناصبی، خبیث، قاتل، بہادر، جرات مند، چالباز،ذہین، فصیح وبلیغ، قرآن کی تعظیم کرنے والا تھا۔۔۔ اس کی کچھ نیکیاں بھی ہیں۔۔۔ اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔۔۔ اور حجاج جابر اور ظالم حکمرانوں میں اپنی مثال آپ تھا۔

محترم فہد حارث کی کتاب "امیر حجاج بن یوسف ثقفی” پر ایک تبصرہ لگایا تھا اور جناب فہد صاحب نے ہمارے تبصرے پر کہا کہ آپ سے مزید تبصرے کی بھی امید ہے تو اسی سلسلے میں یہ اگلی قسط پیش خدمت ہے۔ واضح رہے کہ بطور محقق ہمیں کسی تحقیق میں مصنف کی ذات کی بجائے اس کی تحقیق کو بحث کا موضوع بنانا چاہیے۔ اور میں، تحقیق میں سب سے پہلے محقق کے منہج تحقیق کو پرکھتا ہوں کیونکہ میرا ذہن اصولی ہے اور مجھے اصولی اور منہجی تحقیق سے شغف ہے۔ تو پچھلی قسط میں ہم نے اس کتاب کے طرز استدلال (argumentative structure) پر گفتگو شروع کی تھی کہ اس کتاب کے منہج استدلال میں سخت مغالطات (fallacies) موجود ہیں۔

فہد صاحب کا ص 77-78 پر کہنا ہے کہ "حجاج کی ساری سختی صرف باغیوں اور سرکش لوگوں کے خلاف تھی وگرنہ عوام الناس کی طرف سے کی جانے والی ہر تنقید کو وہ نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کرتے تھے۔” اس کے لیے فہد صاحب نے جن واقعات کو دلیل بنایا ہے، وہ خود ان کے دعوے کے خلاف دلیل بن رہے ہیں، نہ کہ ان کے دعوی کے حق میں۔ اس دعوی کے حق میں یہ دلیل بیان کی گئی ہے کہ ایک شخص نے حجاج پر سخت تنقید کی تو حجاج کے محافظوں نے اسے پکڑا لیا۔ اور حجاج نے اسے کہا کہ تجھے میرے روبرو اس طرح بولنے کی جرات کیونکر ہوئی؟ تو اس شخص نے حجاج سے کہا کہ تو خدا کے سامنے ایسی جرات کر لیتا ہے اور میں تیرے سامنے نہیں کر سکتا۔ تو حجاج نے اسے چھوڑ دیا۔ عجیب بات ہے کہ حجاج، آزادی رائے کا احترام کرتا تھا، اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ لوگوں کو یہ کہہ کر چھوڑ دیتا تھا کہ تمہیں میرے سامنے بولنے کی جرات کیسے ہوئی؟

اسی طرح ایک واقعہ یہ بیان کیا ہے کہ سیدنا انس نے عبد الملک کو حجاج کے سخت گیر رویے کی شکایت لکھ بھیجی اور عبد الملک اس شکایت نامے کو پڑھ کر رونے لگ گیا اور حجاج پر سخت غصہ کر کے اسے ایک دھمکی آمیز خط لکھا۔ لیکن فاضل محقق کے نزدیک حجاج کا کارنامہ یہ ہے کہ اسے سیدنا انس کے اس فعل پر غصہ نہیں آیا۔ کمال استدلال ہے۔ حضرت انس کا خط اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سخت گیر اور ظالم حکمران تھا، عبد المک کا رونا اس بات کی دلیل ہے کہ اسے حجاج کے ظلم پر شرمندگی محسوس ہوئی، اور فاضل محقق کو اس سارے واقعے میں استدلال کے لیے صرف یہ بات نظر آئی کہ حجاج نے سیدنا انس کے اس رویے پر غصہ نہیں کیا اور ان کی ناراضگی دور کرنے کے لیے ان کے مکان پر گیا۔ تو ناراضگی دور کرنے کے لیے تو اس نے جانا ہی تھا کہ عبد الملک کا دھمکی آمیز حکم جو تھا کیونکہ خود مصنف نے ہی لکھا ہے کہ حجاج کے نزدیک اصل معیار، حکومت سے وفاداری تھی۔ اور یہ بات درست ہے کہ وہ بنو امیہ کا حد درجے وفادار تھا۔

پھر مصنف نے حجاج اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے معاملے میں حضرت عبد اللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد انہیں سولی دینے کے واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ حجاج نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر سے جس سختی سے بات کی کہ انہیں "ابن ذات النطاقین” کہا تو حجاج کا یہ فعل مناسب نہیں تھا۔ تو ہم مصنف کے اس رویے کی تحسین کرتے ہیں کہ انہوں نے حجاج کو غلط کہا لیکن پھر ساتھ ہی فاضل محقق اس معرکے میں حضرت عبد اللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد حجاج کے خطبے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس خطبے سے پتہ چلتا ہے کہ حجاج، عبد اللہ بن زبیر کو کسی قدر متقی، بلند مرتبہ اور محب اللہ جانتے تھے اور ان کا ادب واحترام کرتا تھا۔ کمال ہے! یعنی حجاج کو عبد اللہ بن زبیر کو قتل کر کے تین دن تک سولی پر لٹکا کر ان کی فضیلت یاد آئی؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قاتل اگر کسی کو قتل کر تین دن کسی کھمبے پر لٹکا دے اور چوتھے دن خطبہ دے کہ مقتول میرے نزدیک بڑا متقی اور پرہیزگار شخص تھا تو اس پر قاتل کو ہمیں داد تحسین دینی چاہیے کہ وہ کس قدر مقتول کا ادب اور احترام کرنے والا ہے؟ کمال ہے بھائی!

پھر سیدہ اسماء نے اپنے بیٹے عبد اللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد حجاج کی سخت کلامی کے جواب میں اسے جو یہ کہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میرے بعد قبیلہ ثقیف میں ایک کذاب ہو گا اور ایک خونخار۔ کذاب تو ہم نے دیکھ لیا اور خونخوار میں تجھے سمجھتی ہوں۔ تو مصنف کہتے ہیں کہ یہ سیدہ اسماء کی ذاتی رائے ہے حالانکہ بنو ثقیف میں جس "مبیر” یعنی خونخار شخص کے آنے کی پشین گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی تو اس پر اہل علم کا اتفاق ہے کہ وہ حجاج ہی تھا اور یہ امت اپنے اجتماعی فہم میں غلطی نہیں کھاتی کہ "لا یجمع امتی علی ضلالۃ” کا یہی معنی ہے کہ یہ امت کبھی غلطی پر جمع نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یہ اگر غلطی پر جمع ہو جائے تو اس کی شہادت دوسروں پر قائم نہیں ہو سکتی۔ اور یہ امت دوسروں پر دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی شاہد یعنی گواہ بنے گی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔

حجاج اور سعید بن جبیر کے معاملے میں مصنف کا کہنا ہے کہ حجاج نے سعید بن جبیر کو قتل کرنے سے ممکن حد تک احتراز کیا لیکن پھر قتل بھی کر دیا۔ اور سعید بن جبیر کے قتل کی وجہ ان کی بغاوت تھی حالانکہ خود مصنف نے ایسے واقعات اپنی کتاب میں ذکر کیے ہیں کہ جب سعید بن جبیر کو پکڑا گیا تھا تو وہ مکہ میں مقیم تھے اور باغی گروہ سے علیحدہ ہو کر عزلت کی زندگی گزار رہے تھے۔ تو حجاج کا محض اس بنیاد پر کہ سعید بن جبیر نے کسی وقت میں باغی گروہ کا ساتھ دیا تھا اور کسی دلیل کی بنیاد پر دیا تھا، انہیں قتل کرنا کیسے جائز بنتا ہے؟ اگر ہم حجاج کو امام عادل بھی مان لیں تو بھی۔ قرآن مجید اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے بھی حالت جنگ میں ہوں تو وہ بھی اگر حالت جنگ میں پکڑے جانے سے پہلے توبہ کر لیں تو ان سے کوئی باز پرس نہیں کی جائے گی۔ آج کی جدید گئی گزری ریاستیں بھی باغیوں کے ہتھیار رکھ دینے پر انہیں اعزازات سے نوازتی ہیں نہ کہ بہانے تراش کر ان پر سزائیں جاری کرتی ہیں کہ ان کے اس ایٹی چیوڈ سے معاشرے میں امن قائم ہوا۔

اسی طرح حجاج کے حلیم الطبع ہونے کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ عبد الملک نے حجاج کو کہا کہ وہ اسلم بن عبد البکری کا سر اسے بھیجے تو حجاج نے اسلم کو بلوایا۔ اسلم نے کہا کہ میں چوبیس عورتوں کا کفیل ہوں، میرے بارے غلط معلومات امیر المومنین کو پہنچائی گئی ہیں۔ حجاج نے چوبیس عورتوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔ وہ حاضر ہوئیں اور ان میں اسلم کی دس سالہ بیٹی نے حجاج کے سامنے اشعار پڑھے کہ جن کا مفہوم یہ تھا کہ تو چوبیس عورتوں میں سے کس کس کو قتل کرے گا؟ تو تو یا تو فیاض بن جا یا پھر ہم سب کو قتل کر دے۔ یہ اشعار سن کر حجاج نرم پڑ گیا اور اس نے ان پر سختی نہ کی۔ تو پہلی بات یہ ہے کہ کسی حکمران کے لیے گھر کی چوبیس عورتوں کو اپنے پاس بلوانے کی کیا تُک بنتی ہے؟ یہ خود اس کے ایک ظلم کی دلیل ہے کہ گھر کی ایک دو نہیں، چوبیس عورتیں اس کے دربار میں حاضر کی گئیں؟ پھر ان عورتوں کو حجاج کی منت سماجت ہی کیوں کرنی پڑی، اس کے غصے اور ظلم سے بچنے کے لیے۔ اگر انہیں حجاج کی طرف سے قتل کا خدشہ نہ ہوتا تو وہ ایسے اشعار کیوں پڑھتی کہ تم ہم میں سے کتنوں کو قتل کرو گے یا ہم سب کو قتل کر دو۔ تو قتل، قتل کے الفاظ کسی رحیم اور شفیق حکمران سے رحم کی اپیل کرتے وقت تو نہیں بولیں جائیں گے ناں، چاہے کوئی کتنا بڑا مجرم ہی کیوں نہ ہو؟

از حافظ محمد زُبیر