کالمز

کیا ہمیں گورنروں کی کوئی ضرورت ہے؟

ہر صوبے میں ایک عدد لاٹ صاحب تشریف فرما ہیں ۔ غریب قوم اپنی رگوں سے لہو نکال کر لاٹ صاحب کے چہرہ تاباں کی لالی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس غریب قوم کو کسی گورنر کی کوئی ضرورت ہے؟ کیا کبھی کسی نے سوچا ایک پارلیمانی جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے گورنر کے منصب کی ضرورت اور فادیت کیا ہے؟ غلامی کی اس یادگار کو کب تک سینے سے لگا کر رکھا جائے گا ؟

کیا آپ کو کچھ علم ہے، گورنر ہاؤس نامی ان شاہی محلات میں ، ہم نے جو رجال ِ کار بٹھا رکھے ہیں ، ان کے اخراجات کتنے ہیں؟ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کو تو چھوڑیے ۔ کے پی کے کی بات کر لیتے ہیں جہاں تبدیلی کا چاند ایک الیکشن پہلے نظر آ گیا تھا اور جہاں شاہ فرمان صاحب جیسا سیدھا سادھا اور سچا انقلابی گورنر کے منصب جلیلہ پر فائز ہے اور اس کے باوجود جہاں گورنر ہاؤس کے اخراجات 46 ملین بڑھ چکے ہیں۔ مکرر عرض ہے کہ ایک ملین میں دس لاکھ ہوتے ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے، گورنر کے پاس کتنا سٹاف ہے اور ان کی خدمت پر مامور لوگوں کی تعداد کیا ہے؟ مجھے نہیں معلوم کہ پرانے زمانوں میں بادشاہوں کے محلات میں خدمت گزاروں اور درباریوں کی تعداد کیا ہوتی تھی لیکن دل تھام لیجیے، اس جدید دور میں، جب معیشت لڑکھڑا رہی ہے ہمارے لاٹ صاحب کی خدمت میں 342 مستقل ملازمین موجود ہیں۔

مستقل سے مراد یہ ہے ایسے سرکاری ملازم جو ریٹائر ہوں گے تو انہیں پنشن اور دیگر مراعات دی جائیں گی ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ لاٹ صاحب کا پرسنل سٹاف 90 افراد پر مشتمل رہاہے۔ ملٹری سیکرٹری، سیکرٹری اور چھوٹا سٹاف اس کے علاوہ ہے۔

کیا آپ جاننا چاہیں گے، لاٹ صاحب کے گورنر ہاؤس میں ڈرائیورز کی تعداد کتنی ہے؟ زیادہ نہیں صرف 20 ڈرائیورز اس محل میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ کیا آپ کو خبر ہے اس شاہی محل میں کتنے نائب قاصد ہر وقت کورنش بجا لانے کو تیار کھڑے ہوتے ہیں؟ آپ نے یہ سن کر گھبرانا نہیں ہے کہ ان کی تعداد صرف 33 ہے۔ محل میں 23 کلرک تعینات ہیں ، محل کی صفائی کے لیے 16 خاکروب موجود ہیں۔ محل میں 5 ٹیلیفون آپریٹرز کام کر رہے ہیں، نت نئے پکوان تیار کرنے کو محل میں 8 خانسامے ہیں، ایک ہاؤس سپروائزر ہے، ایک موذن ہے، ایک امام صاحب ہیں، ایک پروٹوکول اسسٹنٹ ہے، ایک جونئیر کلرک ہے، ایک ہاؤس اٹینڈنٹ ہے، ایک ہیڈ سرونٹ ہے جس کے نیچے دو لوگ کام کر رہے ہیں،ایک حجام ہے اور محل شاہی کے عالی قدر مکینوں اور معزز مہمانان گرامی کے سامنے کھانا چننے کے لیے ویٹرز کی تعداد 16 ہے۔ جی ہاں گھبرانا آپ نے بالکل نہیں، صرف سولہ ویٹرز ہی تو ہیں۔

سابقہ حکومت کے آخری سال میں گورنر ہاؤس کا صرف گیس کا بل 80 لاکھ تھا۔بجلی کا بل 3 کروڑ تھا ۔ واجب الادا ٹیلی فون بل 18 لاکھ تھا ۔ امید تھی کہ عمران خان کی حکومت آنے سے گورنر ہاؤس کے اخراجات کم ہو جائیں گے کیونکہ ایک تو عمران خان نے سادگی مہم شروع کی ہوئی ہے اور دوسرا فاٹا انضمام کے بعد اب گورنر ہاؤس میں اتنے سٹاف اور اخراجات کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہی۔ لیکن ہوا کیا؟ گورنر صاحب نے دوروں اور تحفے بانٹنے میں 20 ملین خرچ کر دیے اور اگلے بجٹ میں اس کام کے لیے 2 ملین مزید مانگ لیے۔ 2019 کے مالی سال میں گورنر ہاؤس کے لیے 270 ملین رکھے گئے تھے اور 2020 کے مالی سال میں جب سادگی عروج پر ہے اور وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں بھی بیچی جا چکیں گورنر ہاؤس کے مختص رقم بڑھ کر 316 ملین ہو چکی ہے۔آپ نے گھبرانا بالکل نہیں اور پریشان تو ہونا ہی نہیں ہے کیونکہ صرف 46 ملین ہی کا تو اضافہ ہوا ہے۔

باقی صووبوں کا کیا حال ہے؟ کیا عوام کا یہ حق نہیں کہ انہیں بتایا جائے کس صوبے کے گورنر ہاؤس کے اخراجات کتنے ہیں اور وہاں کتنے لوگوں کا سٹاف کام کر رہا ہے اور اس سب کے بعد لاٹ صاحب کی کارکردگی کیا ہے؟ سوشل میڈیا پر جو خواتین و حضرات اپنے اپنے رہنما کی قوالی گا رہے ہوتے ہیں کیا کبھی ایسا وقت بھی آ ئے گا وہ اس فکری غلامی کا طوق اتار کر اپنے اپنے حصے کے آقاؤں سے سوال کر سکیں کہ قومی خزانے کا یوں بے رحم استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ لوگ اپنے استحصال پر آواز کیوں نہیں اٹھاتے۔ یہ لاتعلقی اور اتنا سناٹا کیوں ہے؟ ان دائرکٹ ٹیکسوں کے بوجھ سے لوگوں کی کمر دہری ہو گئی ہے اور اس ٹیکس کو کیسے بے رحمی سے خرچ کیا جاتا ہے۔ سوچ کر ہی خوف آتا ہے کہ اتنی بے نیازی، کیا ان لوگوں نے قومی خزانے کو مال غنیمت سمجھ رکھا ہے۔

یہ کیسا کمال ہے کہ ایک جانب وزیر اعظم ہاؤس میں بائیس لاکھ کی بھینیسں بیچی جاتی ہیں دوسری طرف گورنر ہاؤس کے بجٹ میں چار سو ساٹھ لاکھ کا اضافہ فرما دیا جاتا ہے؟ تازہ ترین کمال یہ ہوا کہ سوشل میڈیا پر حکومت کا دفاع کرنے اور سیاسی حریفوں کی دھجیاں اڑانے کے لیے جو سوشل میڈیا سیل بنایا گیا ہے اس کا بوجھ بھی قومی خزانے پر ڈال دیا گیا ہے۔ قوم کی پشت لال اور ہری کر کے قوم ہی کے خرچ پراب قوم کو بتایا جائے گا آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ہے، ہم نے 2 ملین کی بھینسیں بیچ کر 42 کا ڈیجیٹل میڈیا ونگ قائم کر دیا ہے۔

میاں محمود الرشید جب حزب اختلاف میں تھے تو بتایا کرتے تھے پنجاب کے گورنر پر ہر روز آٹھ لاکھ خرچ آ رہا ہے۔ ان کا کیلکولیٹر شاید آج کل خراب ہو چکا ہے ورنہ وہ ضرور بتاتے کہ گورنر پنجاب پر ایک دن میں کتنے لاکھ خرچ ہو رہے ہیں؟ گورنر ہاؤس کے دروازے کھول کر ”نیکی کر سوشل میڈیا پر ڈال“ کے مشہور زمانہ فارمولے کی افادیت اپنی جگہ، سوال مگر یہ ہے قوم کو بتایا کیوں نہیں جا رہا گورنر ہاؤس پنجاب پر اس غریب قوم کوہر روز کتنے لاکھ خرچ کرنے پڑ رہے ہیں اور تمام گورنر ز مل کر اس قوم کو کتنے میں پڑ رہے ہیں۔

یہ عالی شان محلات اور یہ خدام ادب ، کمزور معیشت والا ملک کیا ان فضول خرچیوں کا متحمل ہو سکتا ہے؟ ایک رسمی سے عہدے کے لیے اتنے پیسے خرچ کرنے کا کیا جواز ہے؟ گورنر کسی بھی صوبے میں صدر کا نمائندہ ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک پارلیمانی جمہوری نظام میں اس عہدے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ لاٹ صاحبان کرتے کیا ہیں؟ کیا ہمیں واقعی ان لاٹ صاحبان کی کوئی ضرورت ہے یا ہم نے یہ منصب غلامی کی یادگار سمجھ کر سینے سے لگا کر رکھا ہے؟ چند رسمی سے امور جو گورنر صاحبان انجام دیتے ہیں، ان کی اتنی بھاری قیمت ؟ یہ کام تو صوبائی اسمبلی کے سپیکرز سے بھی لیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے لاٹ صاحبان کے اتنے ناز نخرے اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟

 

ترکش / آصف محمود

لکھاری کے بارے میں

آصف محمود

آصف محمود شبعہ صحافت سے وابستہ ہیں اور مختلف اخبارات کے ساتھ منسلک ہیں،

Loading...