بلاگ

کیا “ڈاکٹر شاہد مسعود “ خود دھبڑدوس ہو گئے؟

جناب عالی آپ نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو سڑک چھاپ مبصر سمجھ رکھا ہے یا سوشل میڈیا کا منچلا جو جس وقت جو چاہتا ہے لکھ دیتا ہے میرا تجزیہ ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے ایک زبردست چال چلی اور اسکی لپیٹ میں وہ تمام آئے جن کی داڑھی میں تنکا تھا اور جنکی اس وقت چیخیں نکل رہی ہیں ۰۰۰بس اسے آنکھ کی بجائے دماغی بصیرت سے سمجھیے ملحظہ فرمائیں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے الزام کیا لگایا کہ“ آٹھ بچیوں سے زیادتی اور انکا قتل کرنے والے عمران کی پشت پناہی مافیا کر رہا ہے” اور شور وغوغاایسے ہو رہا ہے جیسے کسی شریف النفس انسان پر بھیانک الزام دھر دیا گیا ہو ۰۰۰ یعنی واقعی چور کی داڑھی میں تنکا ہے

یاد کیجئیے “ قصور ویڈیوز اسکینڈل “ جس میں تین سو سے زائد متاثرین سامنے آئے مگر کیا ہوا ۰۰۰ متاثرین کو بے رحم سسٹم کی نظر کر دیا گیا حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جاتا اور پس پردہ بااثر عناصر کو بے نقاب کیا جاتا مگر اتنے بڑے کیس میں کیا حکومتی بےاعتنائی معنی خیز نہیں اور اگر رانا ثناءاللہ کے اس وقت کے بیان کو اس تناظر میں رکھیں جب انہوں نے اس ویڈیو اسکینڈل کو جھوٹا قرار دے کر اسے زمین کے لین دین کا آپسی جھگڑا قرار دے دیا اب ان واقعات کو ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے سے منسلک کر کے دیکھیں

اب ڈاکٹر صاحب کے دعوے کو زینب زیادتی و قتل کیس سے بھی جوڑ کر دیکھیں پھر وزیر اعلی کی ہڑبونگ سی پریس کانفرنس یاد رکھیں جہاں مظلوم کے ہی بولنے پر پابندی لگا دی گئی ۰ایسی کیا مجبوری تھی جو والدِ زینب کو لب کشائی کی اجازت نہ دی گئی کیا کسی راز کے افشا ہونے کا ڈر تھا ؟اور یاد کیجئیے جب ایک سال پہلے تین نوجوانوں کو گینگ ریپ گروہ کا حصہ قرار دے کر جعلی پولیس مقابلے میں مار کر مظلوم والدین کو مطمئن کر دیا گیا ۔جبکہ ان کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کا اعتراف گرفتار ملزم عمران نے بھی کر لیا ہے

میں نہیں جانتا کہ ڈاکٹر صاحب کے پاس اپنے دعووں کو سچ ثابت کرنے کے لیے کیا کیا ثبوت موجود ہیں مگر بطور صحافی میں ایک دوسری تکینک سے واقف ہوں جس میں مطلوبہ جواب حاصل کرنے کے لیے براہ راست سوالات کی بجائے کچھ غیر متعلقہ اور غیر اہم سوالات کے ذریعے مطلوبہ جواب و مواد حاصل کیا جاتا ہے ۰۰۰ قوی امکان ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے اسی تکنیک کا استعمال کیا ہے اور فریقین کو دوسری جانب متوجہ کرکے اپنا کام کیے جا رہے ہیں۰چائلڈ وائلنٹ پورنوگرا فی سمیت کئی خفیہ دھندے بے نقاب ہوں ،ذرا تفیش کو آگے بڑھنے دیجئیے ہم سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تین سو بچوں کا ویڈیو اسکینڈل اور اس کے بعد زینب سمیت گیارہ بچیوں کا گینگ ریپ سمیت قتل اور دیگر ان گنت ایسے مکروہ واقعات کسی جنونی پاگل کا انفرادی فعل ہر گز نہیں ہو سکتا جبکہ اس قیامت کا عرصہ لگ بھگ تین سال ہے ۰

ڈاکٹر شاہد مسعود وہی ہیں جنہوں نے ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری سرفرازمرچنٹ کیس کراچی آپریشن پنجاب آپریشن کی پیشگی خبر اور ماڈل ایان علی منی لانڈرنگ کے پیچھے زرداری مافیا کو بے نقاب کیا۔ ہمارے یہاں پڑھے لکھے سوچنے والے صحافی ناپید ہوتے جا رہے ہیں ڈاکٹر صاحب کا ساتھ دیتے ہوئے ان کو داد اور حوصلہ دینا چاہیے جنہوں نے تن تنہا اس مافیا کے خلاف اعلان جنگ کیا ،کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑی بس اتنا یاد رکھیے تمام تفتیشی ادارے حکومت کے ماتحت ہیں۰جن کے سربراہ میرٹ پر نہیں بلکہ ذاتی تعلقات کی بنا پر لائے گئے ہیں ۰

از شہباز بدّر

 

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment