معلومات

کیا کورونا ویکسین لگوانے والے دو سال کے اندر اندر مر جائیں گے۔

ہمیں چاہیے کہ جب تک ہم کسی خبر کی تصدیق نہ کرلیں اسے آگے نہ پھیلائیں۔ کیونکہ جھوٹی خبریں پھیلنے سے عوام میں بعض اوقات خوف و ہراس پھیلا جاتا ہے۔ کورونا وائرس کے حوالے سے بھی ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا پر ایک جھوٹی اور بے بنیاد خبر گردش کر رہی جس میں بتایا جا رہا ہے کہ نوبل انعام یافتہ سائنسدان لیک مونٹیگنئر نے کہا ہے کہ جو شخص بھی کووڈ ویکسین لگوائے گا وہ دو سال کے اندر مر جائے گا۔ ان کے زندہ بچنے کی بالکل بھی کوئی امید نہیں ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم اس جھوٹی اور بے بنیاد خبر کا تنقیدی جائزہ لیں گے۔
لگ مونٹیگنیر ایک فرانسیسی وائرولوجسٹ ہیں جنہوں نے ایچ آئی وی وائرس کی دریافت کی تھی۔ اس دریافت پر انہیں 2008 میں فزیالوجی اور میڈیسن کے شعبے میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ انہوں نے کافی عرصہ فرانس میں پاسچر انسٹیٹیوٹ میں بطور ایک محقق کام کیا اور اس کے علاوہ چین کی شنگھائی جیو ٹونگ یونیورسٹی میں بطور فل ٹائم پروفیسر پڑھاتے رہے ہیں۔
لک مونٹیگنیر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس ایک لیبارٹری میں تیار کردہ وائرس ہے اور یہ ایچ آئی وی ایڈز کی ویکسین بنانے کی کوشش کے دوران حادثاتی طور پر قابو سے باہر ہوگیا۔ ان کا یہ موقف اس وقت سامنے آئے جب امریکہ میں اس بارے میں تحقیق شروع ہوئی کہ آیا یہ وائرس لیبارٹری میں تو نہیں تیار کیا گیا۔
مونٹیگنیر کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 وائرس میں ایچ آئی وی اور ملیریا کے پیراسائیٹ کی جینوم کا ایک بڑا حصہ موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس فطری طور پر پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ خود تیار کیا گیا ہے۔ مونٹیگنیر کے علاوہ نیشل انسیٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزیز کے ڈائریکٹر اینتھونی فاسی کا بھی یہ کہنا ہے کہ یہ وائرس فطری طور پر پیدا نہیں ہوا۔
آج کل سوشل میڈیا پر لک مونٹیگنیر کے حوالے سے ایک میسج گردش کر رہا ہے جس میں ایک بیان ان کی جانب منسوب کیا جارہا ہے جس کے مطابق کووڈ ویکیسن لگوانے والا ہر شخص دو سال کے اندر اندر مر جائے گا۔ اس خبر کے بعد عوام میں کورونا وائرس کے حوالے سے ایک سنگین خوف و ہراس دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کے علاوہ لک مونٹیگنیر کا وڈیو کلپ بھی گردش کررہا ہے جس میں وہ کووڈ ویکسینیشن کے خلاف باتیں کررہے ہیں۔ اس کلپ میں ان کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کی وجہ کورونا وائرس میں ویکسین کے خلاف مزاحمت پیدا ہوگی جس سے وائرس مستقبل میں مزید طاقتور ہو جائے گا۔
ہم نے اس حوالے سے کافی تحقیق کی اور سوشل میڈیا کے مختلف فورمز پر سرچ بھی کیا۔ ہمیں ان کا وڈیو کلپ تو مل گیا لیکن اس بات کا کوئی سراغ نہیں ملا کہ لک مونٹیگنیر نے یہ کہا ہو کہ کورونا وائرس ویکسین لگوانے والے دو سال کے اندر اندر مرجائیں گے۔ اگر انہوں نے اس طرح کا کوئی بیان دیا ہوتا تو وہ ضرور مین سٹریم میڈیا یا سوشل میڈیا پر وڈیو کی شکل میں موجود ہوتا۔ ہم نے بہت تحقیق کی لیکن ہمیں کہیں اس بات کا سراغ نہیں ملا کہ لک مونٹیگنیر نے واقعی ایسا کہا ہے۔
تو پھر آخر لک مونٹیگنیر نے کہا کیا تھا؟ لک مونٹیگنیر نے صرف اتنا کہا ہے کہ عموماً اس طرح کی ویکسینیشن سے وائرس میں قوت مزاحمت پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مستقبل میں زیادہ طاقتور ہوگا۔ بعض اوقات ویکسینشین کی وجہ سے پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز مستقبل میں اس وائرس کے جسم کے اندر داخلے کو مزید سازگار بنادیتی ہیں۔ اسے اینٹی باڈی ڈیپینڈنٹ انہانسمنٹ کہا جاتا ہے۔
جہاں تک لک مونٹیگنیر کا بیان ہے تو کچھ کیسز میں ایسا ضرور ہوتا ہے لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی ہم بہت سے وائرسز کے خلاف ویکسینیشن لے رہے ہیں جن میں خسرہ، چیچک اور روبیلا وغیرہ عام ویکیسن ہیں جو ہر بچے کو حفاظتی ٹیکوں کی شکل میں لگتی ہیں۔ ویکسینیشن کسی بھی بیماری کے بچائو کیلئے ایک مؤثر طریقہ کار ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
جہاں تک یہ خیال ہے کہ یہ وائرس لیبارٹری میں پیدا شدہ ہے تو اگر یہ مان بھی لیا جائے تو بھی لیبارٹری میں پیدا شدہ وائرسز کے خلاف بھی ویکسین بنائی جاسکتی ہے۔
لک مونٹیگنیر نے اس سے پہلے بھی 2017 میں فرانس کی حکومت کے اس اقدام پر تنقید کی تھی جس میں فرانس کی حکومت نے کچھ بیماریوں کے خلاف ویکیسنشن کو ضروری قرار دیا تھا۔ لک مونٹیگنیر کے مطابق ویکسینشین سے وائرس مزید طاقتور ہوتا ہے۔ ان کا حالیہ بیان میں اپنی اسی سوچ کے تناظر میں تھا۔ لیکن انہوں نے ایسا کہیں نہیں کہا کہ ویکسین لگوانے والے تمام لوگ دو سال کے اندر اندر مر جائیں گے۔ اس لئے ایسی جھوٹی خبریں آگے نہ پھیلائیں اور اس جھوٹی خبر سے پریشان نہ ہوں۔

تحریر: ڈاکٹر نثار احمد

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment