معلومات

کیا کبھی کسی نے سوچا کہ سب سے پہلے چنے کی چاٹ کس نے ایجاد کی؟

سوال: کیا کبھی کسی نے سوچا کہ سب سے پہلے چنے کی چاٹ کس نے ایجاد کی؟ دہی بڑے بنانے والا کتنا عظیم انسان تھا؟ گول گپے بنانے والے نے دنیا پر کتنا بڑا احسان کیا؟ آلوبخارے کی چٹنی کتنی اہم ایجاد ہے؟ سموسے انسانیت پر کتنا بڑا کرم ہیں؟؟؟

جواب: آپ نے کتاب خریدنی ہے۔ اپنے پسندیدہ مصنف کی اور پسند کے موضوع پر یا پھر کچھ نیا ہو جائے؟ریسٹورنٹ جانا ہے۔ وہ جو پہلے آزمائے ہوئے ہیں یا پھر نیا ٹرائی کر لیا جائے؟موسیقی سننی ہے؟ اپنی پسندیدہ یا پھر وہ جو پہلے کبھی نہیں سنی؟کھانا پکانا ہے۔ آزمودہ ترکیب پر عمل کیا جائے یا کچھ مختلف کرنے کی کوشش ہو جائے؟

اس طرح کے سوالات کو ہم کمپیوٹر سائنس میں ایکسپلور ایکسپلائیٹ ٹریڈ آف کہتے ہیں۔ اگر آپ ایک ہی کام مسلسل کرتے رہیں گے تو پھر کچھ بھی نیا نہیں کر سکیں گے۔ اگر آپ ہر وقت کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں گے تو ایک آزمودہ چیز سے افادیت حاصل کرنے سے رہ جائیں گے۔ کیونکہ تجربات کے ناکام ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ اس کا توازن ہے جو کہ رکھنا ہوتا ہے۔

آج کچھ پکانا ہے؟ امی کی سکھائی ہوئی ترکیب کے مطابق بنایا جائے (ایکسپلائیٹ) یا کچھ اپنی طرف سے ترمیم ہو جائے (ایکسپلور)؟ اگر ترمیم کر لی تو ناکامی کا امکان زیادہ ہے لیکن کبھی کبھار کے لئے ایسا بھی۔ اگر کچھ مزیدار بن گیا تو ایک نیا طریقہ ہاتھ آ گیا۔پھر انسان ملتے ہیں، تجارت کرتے ہیں، ہجرت کرتے ہیں۔ اپنے ساتھ اپنی روایات، پکوان، اطور، لباس بھی لے جاتے ہیں، وہ اپنا لئے جاتے ہیں، ان میں علاقوں میں اسی طرح ترمیم ہوتی جاتی ہے۔

معاشرتی اطوار کیا ہیں؟ وہ بھی یہی معاملہ ہے۔ کھانے پینے اور رہن سہن، عادات، طور طریقے، اقدار و آداب، لباس کے انداز ۔۔۔ ہم وہی کرتے ہیں جو عام ہے، وہی جو سب کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کچھ نیا بھی۔ روایات اور جدت کا توازن چلتا ہے۔ غیرمحسوس طریقے سے یہ بدلتا جاتا ہے۔ کبھی کچھ دوسروں کو دیکھ کر اپنا لیا جاتا ہے، کبھی کچھ خود بدل جاتا ہے۔یہی حیاتیاتی ارتقا کا بھی طریقہ ہے۔تو یہ چنے کی چاٹ، دہی بڑے، آلو بخارے کی چٹنی اور سموسے ۔۔۔ یہ کہاں سے آئے؟ ایسا نہیں کہ ایک روز ایک شخص نے اس کو بنا لیا۔ یہ بھی بتدریج اس حالت میں پہنچے ہیں۔ ہم ان کی تاریخ تلاش کر سکتے ہیں۔

سموسے کا ذکر فارس کے مورخ ابوالفضل بیہحقی نے گیارہویں صدی میں اپنی کتاب تاریخِ بہیقی میں کیا ہے، اس کو سمبوسا کہا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ برِصغیر میں تجارت میں مشرق سے آیا۔ برِصغیر میں ابنِ بطوطہ نے محمد بن تغلق کے ساتھ اپنے کھانے کا ذکر کرتے ہوئے سموسک کا بتایا ہے جو جس میں قیمہ، بادام، پستہ اور اخروٹ بھرا گیا تھا اور پلاوٗ کے ساتھ تھا۔ آئینِ اکبری میں سنبوسہ کا ذکر ہے۔آلو برِصغیر میں انگریزوں نے متعارف کروائے۔ یہ فصل امریکہ میں یورپیوں کے پہنچنے کے بعد یورپ پہنچی اور پھر یورپ سے تجارت میں برِصغیر۔ کسی نے اس کو سنبوسے میں استعمال کیا اور روایت چل نکلی۔

برِصغیر میں یہ کئی طرح کی شکلیں اختیار کر چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں چھوٹے اور فلیٹ جن کو سموچہ کہا جاتا ہے اور اس میں پیاز زیادہ ہوتے ہیں۔ مشرقی انڈیا میں شنگارا کہا جاتا ہے جو کچھ میٹھے ہوتے ہیں۔ شمالی انڈیا میں اس میں آلو اور مٹر بھرے جاتے ہیں۔ پاکستان میں کاغذی سموسے، قیمے والے سموسے، آلو والے سموسے کھائے جاتے ہیں۔ کہیں بڑے سائز کے، کہیں زیادہ مرچوں والے، کہیں چنے کی چٹنی کے ساتھ ۔۔۔ اس کو کھانے کے بھی کئی طریقے ہیں اور یہ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔اگر سموسہ کھاتے وقت آپ کا خیال ہے کہ شاید یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے، ہر جگہ ایسا ہی ہے اور ایسا ہی رہے گا۔ تو نہیں۔ ایسا بالکل بھی نہیں۔ یہ صدیوں سے جاری ایکپلوریشن کا نتیجہ ہے جس کو آپ اس وقت ایکسپلائیٹ کر رہے ہیں۔ اور یہ ایسا ہمیشہ نہیں رہے گا۔یہی دنیا کا اصول ہے۔