خبریں

کیا امریکی فوج واقعی عراق سے جارہی ہے؟خفیہ مکتوب کی حقیقت سامنے آگئی

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے عراق سے فوج کے انخلا کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ا نہوں نے کہا ہے کہ عراق سے امریکی فوج کو کوچ کرنے کا کوئی حکم صادر نہیں ہوا اور نہ ہی اس حوالے سے فی الحال کسی فارمولے پرغور کیا جا رہا ہے۔امریکی وزیر دفاع کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب گذشتہ روز عراق میں امریکی مشن کمانڈر جنرل ولیم سلی سوم کے دستخطوں سے ایک مکتوب سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا

کہ بغداد میں موجود امریکی فوج کو انخلا کی تیاری کے احکامات دیے گئے گئے ہیں۔ادھر عراقی فوج کے ایک ذمہ دار ذریعے نے اس خفیہ پیغام صداقت کی تصدیق کی ہے جبکہ امریکی محکمہ دفاع "پینٹاگان” کے ترجمان نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے تو دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ عراق سے فوج کے انخلا کا کوئی آرڈر جاری نہیں کیا گیا۔ایسپر کا کہنا ہے کہ عراق چھوڑنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ خفیہ مکتوب لائن پر نقطے کے مترادف ہے۔ عراق سے فوج کے انخلا کی باتیں امریکا کے موجودہ موقف سے عکاسی نہیں کرتیں۔عراق میں ایک سینئر امریکی جنرل نے صحافیوں کو بتایا کہ عراق سے فوج کے انخلا سے متعلق مبینہ مکتوب نے فوج کے مورال پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ اس طرح کی ڈرافٹنگ صرف فوج کی نقل وحرکت پر روشنی ڈالتی ہے۔جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک میلے نے مکتوب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا یہ ایک بدتر مکتوب ہے جس میں عراق سے امریکی فوج کی واپسی کی منصوبہ بندی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہ پیغام حقائق کے منافی ہے۔انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل میککنزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مکتوب جنرل میککنزی کی غلطی ہے۔