بلاگ

"خدا مرچکا ہے” کہنے والے کے پست افکار

درج بالا مشہور و معروف جملہ نطشے کا ہے۔ نطشے کو پوسٹ ماڈرن ازم کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عموما لوگ اس کے خیالات سے واقفیت نہیں رکھتے، آئیے اس کا ایک خلاصہ ملاحظہ فرمائیے کہ ایسی گھٹیا بات کیسے پست خیالات کا نتیجہ تھا:- کسی معروضی حقیقت کا کوئی وجود نہیں۔ انسان ایک ایسی کائنات کا باسی ہے جو بے مقصد حادثاتی طور پر وجود میں آئی اور جہاں لامعنویت کا راج ہے- ہیومن بینگ جس کلی تناظر پر یقین رکھتا ہے اس کے مفروضات لازماً خود اختیاری اور حادثاتی ہوتے ہیں۔ یہ تاریخ سے اخذ نہیں کیے جاتے بلکہ تاریخی مطالعہ اور تجربہ کا مقصد ان حادثاتی تناظراتی مفروضات کا جواز فراہم کرنا ہوتا ہے (نطشے ھیگل کے تاریخی نظرئیے کا ناقد تھا)۔- ہیومن بینگ پیہم وہ بنتا رہتا ہے جو وہ بنتا رہنا چاہتا ہے۔ اسی معنی میں وہ اپنا وجود خود تخلیق کرتا ہے

– حق اور زندگی میں تصادم ہے۔ حق یہ ہے کہ حقیقت مطلق کا کوئی وجود نہیں ہے اور ہر تناظر لغو، لایعنی اور حادثاتی ہوتا ہے۔ لیکن ہیومن بینگ اس حقیقت کو قبول کر کے زندہ نہیں رہ سکتا، وہ لازماً اپنے تناظر اور اس کے بنیادی مفروضات کو معروضی حق تصور کرکے معنی دینے پر مجبور ہے۔ لہٰذا ہیومن بینگ کے لیے لازم ہے کہ لامحالہ لایعنی تناظر کو حقیقت مطلق تصور کرے- ہر تناظر لازماً دیومالائی ہوتا ہے لیکن اپنے دیومالائی تناظر کو حق تسلیم کر کے ہیومن بینگ شرف حاصل کرتا ہے۔ تاریخ ساز وہی عظیم ہیرو ہوتے ہیں جو کسی دیومالائی حادثاتی تناظر کے استحکام اور فروغ کے لیے عظیم قربانیاں دیتے ہیں اور کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں

– نطشے عیسائیت کا سخت دشمن تھا، اسکے خیال میں عیسائیت غلامانہ اخلاقیات کا اظہار ہے کیونکہ وہ حاکمانہ اخلاقیات یعنی قوت کے اظہار کو اچھا نہیں سمجھتی۔ نطشے سفاکانہ اخلاقیات کا مداح تھا اور مذھبی اخلاقیات کو انسانیت پر بے کار کا بوجھ قرار دیتا ہے (اخلاقیات کو وہ اونٹ پر لدا ہوا بوجھ قرار دیتا ہے)- عیسائیت کی آفاقی حق کے بیان کی جستجو سے جمہوریت اور سوشل ازم نے جنم لیا اور یہ دونوں بھی غلامانہ اخلاقیات کا مظہر ہیں کیوں کہ ان کی بنیادی تعلیمات بھی معاشرتی مساوات کو فروغ دینے والی ہے۔ نطشے کے خیال میں اس کے دورکی معاشرت ایک ذلیل اور پس ماندہ ہجومی انفرادیت تعمیر کرکے اعلیٰ اور ارفع جذبات اور ان کے اظہار کو ناممکن بنا دیتی ہے۔

– اس کے خیال میں سائنس بھی انسانی عظمت اور شوکت کو فروغ دینے کا ذریعہ نہیں بن رہی کیوں کہ وہ ایسے آفاقی اصولوں کے ادراک کی جستجو کر رہی ہے جو واقعتاً حق ہوں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حق کا کوئی معروضی وجود نہیں ہے اور بقول نطشے خدا مر گیا ہے۔ خدا کی ذات پر اب یقین نہیں کیا جا سکتا۔ انسان نے خدا کا تصور آفاقی معنی کی تلاش میں وضع کیا تھا مگر اب اس کے بغیر بھی انسان یہ کام اس سے بہتر طریقے پر کرسکتا ہے- شیر کی صحرا نوردی بے مقصد ہوتی ہے اور بقول نطشے یہی دورحاضر کا المیہ ہے۔ اس دور میں انسان کسی حقیقت پر ایمان و یقین نہیں رکھ سکتا۔ دورِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ انسان ایک بے مقصد اور لامعنوی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

– اس لامعنویت سے نجات نظریہ قوم پرستی فراہم کرتی ہے جو قوم پرستی شوکت اور عظمت کی پرستش سکھاتی ہے۔ وہ ایک نئی اشرافیہ تخلیق کرتی ہے جو انسان کے لیے ممکن بناتی ہے کہ وہ بے راہ روی اور گمراہی کی ایک کے بعد دوسری حد پھلانگتا چلا جائے۔ یہی نطشے کا تصور ارتقا ہے۔ ضلالت میں ترقی کرتے چلے جانے کی جدوجہد اور تکبر کی مسلسل جستجو انسان کو فوق البشر (Ubermensh) بنا دیتی ہے اور یہی Ubermensh (سپرمین) یورپی قوم پرستی کی تجسیم ہے- خدا کی موت کے نتیجے میں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ انسان تمام جستجو اور کاوش کو ترک کر دیں۔ وہ تمام اقدار اور مقاصد کے حصول کی جدوجہد کو ترک کر کے محض ایک آرام دہ زندگی گزارنے پر اکتفا کریں۔ موجودہ معاشرے میں اکثریت یہی رویہ اختیار کرتی ہے اور نطشے ایسے افراد کو آخری یا اختتامی آدمی کہتا ہے۔ عوام اسی اختتامی آدمی کو اپنا مثالیہ تصور کرنے لگے ہیں

– اس المیہ سے ابدی نجات تو ممکن نہیں لیکن اگر انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ خدا کی موت کے ذریعے وہ حقیقی آزادی حاصل کر گیا ہے تو وہ مستقبل کے اقدار تخلیق کر سکتا ہے۔ وہ ایک ایسا سنہرا حیوان بن سکتا ہے جو پوری معصومیت کے ساتھ تسخیر کائنات کا عمل جاری رکھے۔ انسان جان گیا ہے کہ کوئی حقیقت وجود نہیں رکھتی اور چوں کہ کوئی حقیقت موجود نہیں لہٰذا ہر وہ چیز ممکن ہے جس کی انسان خواہش رکھتا ہے۔ احساس گناہ سے آزاد ہو کر انسان خود خدا بن گیا ہے یا بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عیسائیت کی جگہ نطشے نے جس آفاقی نظریے کی وکالت کی ہے اس کو "Will to Power” یعنی قوت کی پرستش کا نام دیا ہے۔

اس نظریہ کے مطابق:۔ انسان کی فطرت حیوانی ہے۔۔ وہ فطرتاً تسخیر کائنات اور تخریب کائنات کا خواہش مند ہے۔۔ چوں کہ کوئی آفاقی حقیقت موجود نہیں، انسان مکمل طور پر آزاد ہے کہ وہ تخلیق اور تسخیر کائنات کا جو طریقہ اختیار کرنا چاہے کرے۔ انسان قادرمطلق ہے اور قائم بالذات ہے۔ اس کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے دعوائے الوہیت کا مستقل اظہار کرتا رہے۔ اس اظہار الوہیت کا کوئی اور مقصد نہیں اور وہ خود اپنا مقصد ہے۔- فوق البشر اس اظہار الوہیت کی شخصیت کاری ہے جو شعوری طور پر اقدار تخلیق کرتا ہے۔ وہ کبھی خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا اور وہ تمام قوانین سے بالاتر ہوتا ہے۔

زاہد مُغل