ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

خلافت انسانیت کا ہم زماں

ہم مسلمانوں کے پاس خالق کائنات کا دیا ہوا ایک مستقل ضابطہ، مکمل طرز زندگی اور نظام حیات موجود ہے جو ہر قسم کی خامیوں، کوتاہیوں سے نہ صرف پاک ہے بلکہ اتنا بلند، آزمودہ اور ترقی یافتہ بھی ہے کہ جہاں انسانی عقل و دانش کی منزل ختم ہوتی ہے وہاں سے بہت آگے اس کی ابتدا ہوتی ہے۔اس کے مقابلہ میں جتنے بھی نظام بنے کسی کے بارے میں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ہر طرح کی خامیوں سے پاک ہے۔ جمہوریت کے دعویدار بھی اس بات کا برملااعتراف کرتے ہیں کہ جمہوریت خامیوں سے پُر ہے او رمسلمہ اقدار کے حصول میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے لیکن جاننے کے باوجود ہم اس کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں ، ہم نے اپنے اچھے برے اور قسمت کے فیصلے کرنے کا اختیار چند پارٹیوں اور سیاسی دوکانداروں کو سونپ رکھا ہے جنہوں نے آمریت کے رنگ کو جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر ڈھانپ رکھا ہے۔ ہمارے ہاں کوئی نام نہاد جمہوریت کے نام پر لوٹ رہا ہے تو کوئی اسلام کے نام پر۔ جس کو عوام کو بیوقوف بنانے کا زیادہ طریقہ آتا ہے وہی زیادہ لوٹ مار کر کے لے جاتا ہے۔ ابھی تک تو عوام نے اصل جمہوریت نہ ہی دیکھی ہے نہ ہی چکھی ہے۔  خلافت کا آغاز انسانی زندگی کا ہم زماں ہے ۔ بہ عبارت دیگر مشیت الٰہی نے جب پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کے وجود خاکی کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو ساتھ ہی ملائکہ کو یہ وعید سنائی  اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ط ’’میں زمین پر اپنا نائب ( خلیفہ ) مقرر کرنے والا ہوں۔‘‘

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے خلیفہ کی اصطلاح انسان کے لئے عمومی طور پر استعمال کی ہے قرآن پاک کی آیت کا مفہوم ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے جا رہا ہوں، تو اس کا ایک مفہوم تو یہ ہوا کہ ہرانسان عمومی طور پر اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اور نمائندہ ہے۔ اسے لازمی طور پر اپنے اللہ کی عبادت اور اطاعت کرنی ہے اوراس کے احکام اپنے اوپر نافذ کرنے ہیں۔ پہلے احکامِ خداوندی خود اپنی ذات پر نافذ کرے، پھر اپنے زیر کفالت بیوی بچوں پر ان کی تنفیذ کرے، پھر اپنے اہل خانہ میں، پھر اپنے قرب و جوار میں دیکھے، اپنے علاقہ میں جہاں تک اس کی رسائی اور اثر ورسوخ ممکن ہو وہ اس کا پابند ہے کہ وہاں تک اپنے رب کے احکامات پہنچائے اور انہیں نافذ العمل کروانے کی سعی کرے۔ عمومی خلیفہ اور خدا کا نمائندہ ہونے کے ناطے یہ فرداً فرداً ہر انسان کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہے۔
تخلیق آدم کے وقت حضرت انسان کو خلیفہ کا خطاب دینا انسان کیلئے ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ ابھی آدم کی تخلیق نہیں ہوئی صرف ارادہ فرمایا ہے اور اسے عبد نہیں، بشر نہیں، انسان نہیں، مخلوق نہیں بلکہ اپنے خلیفہ ، اپنے نائب ، اپنے نمائندہ کا خطاب دیاجا رہا ہے جو تکریم و اعزازِ انسانیت ہے اور یہی اعزاز انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرکے اشرف الخلق کے درجہ پر فائز کرتا ہے۔ گویا خلیفہ کے روپ میں زمین پر ایسا انسان بھیجنا مقصود تھا جو اس کی پیروی کرے اور زمین پر جا کر اس کا قانون نافذ کرے۔عمومی طور پر سب کے سب انسان زمین پر اللہ رب العزت کے خلیفہ ہیں کچھ عمومی اور کچھ خلیفہ خاص جو انبیاء و رسل کہلاتے ہیں۔ خلیفہ خاص خود خدا کی طرف سے منتخب کیے جاتے ہیں اس میں انسانیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ عمومی خلیفہ اور خلیفہ خاص میں وہی فرق ہے جو اللہ کے بندے اور بندہ خاص کا ہے۔اب عمومی طور پر تو سب کے سب انسان اللہ کے بندے ہیں اور یہاں مذہب کی بھی کوئی قید نہیں ہے، جوانسان روائے زمین پر بستے ہیں وہ سبھی اس کے بندے ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب پر ہوں، کسی بھی مسلک پر ہوں،خواہ مومن و مسلمان ہوں،خواہ کافر و مشرک ہوں، مجوسی ہوں، یہودی ہوں یا عیسائی سبھی اس کے بندے ہیں مگر اس کے محبوب اور پسندیدہ بندے وہ ہیں جو اس کے پیرو کار ہیں، جو اس کی اطاعت کرتے ہیں، جو اس کے احکام مانتے ہیں اور اس کا قانون زمین پر نافذ کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ محبوب اور پسندیدہ بندوں میں مسلمان مومن، اولیاء و صالحین و پارسا لوگ ہیں۔ اسی طرح کچھ خاص بندے ہوتے ہیں جو انبیاء و رسل کے منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ اور زمین پر اللہ کی پیروی اور اس کا قانون نافذ کرنے کے ذمہ دار و نگران ہوتے ہیں۔
اس طرح بنیاد ی مقصدِ تخلیق کے اعتبار سے سب بندے اس کے خلیفہ ہیں اور زمین پر اس کے احکام اور خلافت قائم کرنے کے پابند ہیں اگر نہیں کرتے تو اس کے باغی، مجرم و گناہگارہوں گے۔ عمومی خلافت ہر انسان کی اس کی اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال تک محدود ہے ۔ جب پہلے انسان نے خدا کے خلیفہ کے طور پر زمین پر قدم رکھاتو سوال جنم لیتا ہے کہ اس کی خلافت کس پر تھی؟ اس سے پہلے تو زمین پر کوئی انسان نہیں بستے تھے پھر وہ کس کے خلیفہ بنے؟ پہلے انسان یعنی خلیفہ کی خلافت خود اس کی اپنی ذات پر تھی اور بعد میں اس کے اہل و عیال تک بڑھتی چلی گئی۔ یہ عمومی خلافت ہے جو آدم کی وراثت ہے سبھی آدمیت کے لئے کہ وہ خود اپنی ذات پر اور اپنے اہل و عیال پر خدا کا خلیفہ ہے جبکہ خلافت خاصہ کا دارو مدار وہاں تک ہے جہاں کہیں تک زمین میں عمومی خلفاء یعنی انسان بستے ہیں۔

انفرادی معاملات کی حد تک ہر انسان اللہ کے احکامات کی بجاآوری کا خود ذمہ دار ہے مگر اجتماعی معاملات میں اس اجتماعیت، مجموعی معاشرہ کا ہر فرد اپنی عمومی خلافت کو کسی ایک فردِ خاص تک منتقل کرتا ہے تاکہ اجتماعی معاملات ایک نظم و ضبط کے ساتھ چل سکیں ۔یہ مجموعی خلافت ’’ خلافت خاصہ ‘‘ کہلائے گی یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص نمائندگی جسے عرف عام میں امیر المومنین، یا خلیفۃ المسلمین کہا جائے گا۔ ہر دور میں جو نبی و رسول آئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے خاص خلیفہ ہیں ۔ خلافتِ خاصہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خاص و منتخب نائب، خاص بندے اور نمائندے کی حیثیت سے روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تنفیذ و نگرانی کریں۔ یہ ایک بہت بڑا روحانی مرتبہ ہے جو انسانیت کا پیشوا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی حکومت و قیادت اور امورِ سلطنت کی انجام دہی تک محدود نہیں ہے۔ خدا کے نائب اور بندہ خاص حضورسید عالم ﷺ کا جو مرتبہ ہے وہ دنیا میں اس قدر بلند ہے کہ حضورﷺ کا فرمان اللہ کا فرمان ہے، حضورﷺ کا حکم اللہ کا حکم ہے حضورﷺ کی محبت اللہ کی محبت ہے ، حضورﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت، حضور ﷺ کا منع کر نا اللہ کا منع کرنا ہے، حضور ﷺ کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔یہ مرتبہ اس عمومی خلافت سے جو ہر انسان کو عطا ہوئی ہے، بہت مختلف اور ارفع و اعلیٰ ہے۔ یہ خلافت خاصہ کا بھی سب سے ممتاز و ماوراء درجہ ہے۔
حضور ﷺ کی ذات اقدس یا انبیاء کرام علیہ السلام میں جو خاص بات نوٹ کرنے کی ہے وہ یہ کہ تین بڑے بڑے سلسلے ان کی ذات مبارکہ میں ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں یعنی پہلے روحانی قیادت، جو انہیں ایک مرشد کے مقام پر فائز کرتی ہے پھر دینی قیادت یعنی دین اور شریعت لے کر آتے ہیں، اورپھر سیاسی قیادت یعنی امور سلطنت کی انجام دہی، دین کو قائم کرنا اور نافذ کرنا ۔یہ روحانی، دینی اور سیاسی قیادتیں جب ایک مرکز پر جمع ہو جاتی ہیں تو پھر وہ وجود اللہ تعالیٰ کا خلیفہ خاص بن جاتا ہے جسے عرف عام میں خلیفۃ اللہ فی الارض کہا جاتا ہے اور یہ حضور اقدس ﷺ کی شان ہے۔ آپ ﷺ زمین پر اللہ تعالیٰ کے آخری خلیفۃ اللہ ہیں ۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی اس منصب پر فائز نہیں ہو سکتا ہے۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو کچھ صحابہ کرام نے آکر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ مبارک ہو آپ اس دنیا میں خلیفۃ اللہ منتخب ہو گئے ہیں تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی تصحیح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں خلیفۃ اللہ نہیں، میں تو خلیفۃ الرسول ﷺ ہوں۔ یعنی میں نمائندہ ہوں رسول اللہ ﷺ کا ہوں۔ خلیفۃ اللہ تو صرف حضور ﷺہیں۔ یعنی اب قیامت تک جو بھی خلافت آگے چلے گئی وہ رسول اللہ ﷺ کی خلافت ہو گئی ۔ اب قیامت تک جو خلیفہ آئے گا وہ خلیفۃ اللہ نہیں بلکہ خلیفۃ الرسول ﷺ ہو گا۔
خلیفۃ الرسول ﷺ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رحلت کے بعد جب حضرت سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے توکچھ اصحاب نے آپ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ خلیفۃ الرسول ﷺ کہنا شروع کیا۔آپ کو اس سے پریشانی لاحق ہوئی کہ اگر اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہا تومیرے بعد جو آئے گا وہ خلیفہ خلیفہ خلیفۃ الرسول ﷺ کہلائے گا تو اس طرح شروع میں کتنی کتنی بار خلیفہ دہرانا پڑے گا۔ اس کے بعد صحابہ کرام نے باہمی مشاورت سے آپ رضی اللہ عنہ کو امیر المومنین اور بعض نے خلیفہ المسلمین کا خطاب دیا جسے آپ نے پسند فرمایا۔

کسی قوم کا خلیفہ کے بغیر ہونا ایسا ہی ہے جیسے بھیڑوں کا کوئی ریوڑبغیر چرواہے کے ہو۔ اس مسئلے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب حضور سید عالم ﷺ نے دنیا سے ظاہری پردہ فرمایا تو آپ ﷺ کی تدفین سے پہلے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے میٹنگ کی، پہلے اپنے آئندہ رہبر و خلیفہ کا انتخاب کیا پھر تدفین کا عمل شروع کیا۔گویا ثابت ہوا کہ یہ اتنا اہم مسئلہ ہے کہ ایک رہبر کے دنیا فانی سے رحلت کے بعد اگلے کے انتخاب میں تدفین کی بھی تخیر نہیں ہونی چاہیے۔ صحابہ کرام نے تدفین سے پہلے اپنا رہنما اور خلیفہ، امت مسلمہ کے سب سے معزز و محترم بزرگ اور افضل ترین انسان حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب کر کے اس کی اہمیت کو واضح کیا۔ یہ پہلے خلیفہ تھے جن کے کندھوں پر پوری ملت کا بوجھ تھا۔ اسلامی مملکت کے سربراہ تھے اور انہوں نے اپنے لئے کوئی محل نہیں بنوایا بلکہ عام لوگوں کی طرح گذارا کرتے تھے۔ آپ کے انتقال کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے۔ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور چوتھے خلیفہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ منتخب ہوئے۔ پانچویں خلیفہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ ہوئے۔ اس طرح خلافت راشدہ تیس سال تک ہی قائم رہی اس کے بعد ملوکیت یعنی بادشاہت شروع ہوگئی۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے مسلمان بادشاہ تھے خلیفہ نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد تیس سال تک خلافت راشدہ رہے گی اور اس کے بعد ملوکیت ہوجائیگی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ تیس سال تک خلافت رہی اور اس کے بعد جناب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے مسلمان بادشاہ بنے۔ اسلامی خلافت جس طرز پر تیس سال سے چلی آرہی تھی اس سے الگ ہوگئی۔ جس طرح باقی خلفاء کے نام پر اصحاب نے اتفاق ر ائے کرلیا تھا اس طرح ان کے نام پر نہیں کیا گیا بلکہ انہوں نے خود مختلف لوگوں سے الگ الگ طریقے سے بیعت لی اور پھر اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے یزید کے لئے بھی بیعت لے لی ۔اس طریقہ سے یہ دور خلافت سے کٹ کر ملوکیت میں چلا گیا۔ گوخود وہ ایک عرصہ تک خلیفہ ہی کہلاتے رہے اور یہ خلافت خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ ، خلافت عثمانیہ کے ناموں سے مشہور رہی مگر یہ اسلامی اصولی خلافت نہیں تھی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے طریق سے ہٹ کر تھی۔ خلافت اسلامی کی جگہ پر جو ملوکیت کی بدعت آئی اس نے پورے اسلامی نظام کی بنیاد کو درہم برہم کر کے رکھ دیا جس سے پورا اسلامی معاشرہ زوال پذیر ہوتا گیااور وہ زوال ابھی تک جاری ہے۔چودہ سو سال کا عرصہ بیت گیا مگر یہ زوال ایک لمحہ نہیں تھم سکا۔

اسلامی خلافت کا جو طریقہ تھا وہ اصل جمہوری طریقہ تھا۔ سب سے پہلا جو خلیفہ منتخب ہوا اسے چننے کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے کچھ خاص اہل علم اور باشعور حضرات جمع ہوئے اور چند ناموں پر غور کرنے کے بعد ایک نام پر اتفاق کر لیا، اس کے بعد عام لوگوں نے بھی اسے خلیفہ تسلیم کرلیا اور اس کی صورت تھی زبانی ووٹ یعنی بیعت تھی۔ دوسرا خلیفہ بھی یونہی چنا گیا۔ حالانکہ خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے نام کی سفارش کی تھی، تاہم آپ رضی اللہ عنہ پھر بھی سفارش سے نہیں چناؤ اور قابلیت کی بناء پر خلیفہ منتخب ہوئے۔ اس طرح سے باقی خلفاء بھی بیعت کے ذریعے ہی منتخب ہوئے تھے اور یہی اسلام کا جمہوری طریقہ ہے کہ کوئی خود کو اس قابل سمجھ کر پیش نہ کرے کہ میں خلیفہ بنتا ہوں ، میں امور ریاست کی ذمہ داری لیتا ہوں بلکہ معززین ریاست اچھائی اور قابلیت کی بناء پر چناؤ کر کے منتخب کریں اور اسے ذمہ دار قرار دیں ۔

اسلام میں اس بات کو پسند نہیں کیا جاتا کہ کوئی شخص خود کو حکمرانی کا امیدوار بنا کر پیش کرے، لہٰذا سبھی خلفاء کو دوسروں نے جمہوری طریقے سے منتخب کیا حالانکہ وہ اس کے خواہشمند نہ تھے اور نہ ہی امیدوار تھے۔ تخلیق آدم سے لیکر ختم نبوت و رسالت تک، ختم رسالت سے لیکر کر خلافت راشدہ تک کوئی ایسی نظیر نہیں ملتی کہ چند لوگوں نے اکٹھے ہو کر، گروہ بندی کر کے، پارٹی اور جماعت بنا کر خود کو لوگوں کی حکمرانی کیلئے پیش کیا ہو۔آج کل اسلامی ریاستوں میں تو اسلامی طریقہ کے برخلاف سیاسی دوکانداریاں لگی ہیں۔ایک ایک ریاست میں ہزاروں امیدوار اور اہل بیٹھے ہیں وہ خود کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ حکمرانی کی ذمہ داری نبھا لیں گے اور قیامت کے روز خدا کے سامنے کھڑے ہو کر سب رعایا کے حقوق کا حساب بھی دے لیں گے۔ کیا یہ آسان ہے روز قیامت خدا کے سامنے کھڑے ہو کر ریاست کے سبھی جانداروں کے حقوق کا حساب دینا؟ کیا جمہوری احمق خودکو اس قابل سمجھتے ہیں؟ لگتا ہے انہیں خدا کے حضور جواہدہی کیلئے کھڑے ہونے کا خوف نہیں ہے۔یہ اٹل اور پکی بات ہے کہ جوخود کو کسی عوامی منصب کیلئے امیدوار بنا کے پیش کرتا ہے وہ خدا سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ وہ خدا کے خوف سے بے خطر ہے، اسے یوم حساب بڑے منصب کے احتساب کا خوف نہیں ہے اور نہ خدا کے حضور کھڑے ہونے کا ڈر۔آج جتنی سیاسی جماعتیں اور امیدوار ہیں وہ خدا کا خوف رکھنے والے ہرگز نہیں ہیں اور یہ ان کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔ اسلامی شرعی اصول کے مطابق کوئی خدا سے ڈر نہ رکھنے والا کسی عوامی منصب کا اہل نہیں ہو سکتا۔
اسلامی ریاست صرف انسانوں کے نہیں بلکہ ریاست کے سبھی جاندار عناصر کے حقوق واضح کرتی ہے اور اس کی خدا کے حضور باز پرس بھی ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ امیر المومنین حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدا کے حضور جوابدہی کا سوچ کر تھر تھر کانپ جاتے تھے اور آپ کو فکر رہتی تھی کہ اگر ریاست میں کوئی کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر کو خدا کے حضور اس کا حساب دینا ہو گا۔مگر آج کے حکمران امیدوار اس ڈر سے بے خوف و خطر ہیں، یہاں جانور تو کیا انسان بھوکے پیاسے مر رہے ہیں مگر کوئی پروا نہیں ہے ، کوئی ڈر اور خوف نہیں ہے جو فرعونیت ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ فرعونی نظام کو خدا کے حضور کھڑے ہونے کا خوف نہیں تھا اور آج کا جمہوری نظام اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔

اسلامی خلافت کی بنیاد چار اصولوں پر ہے۔ 1۔ ایسا نظام جس میں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح کردہ اصولوں کے مطابق سبھی انسانوں کے اجتماعی معاملات اور سبھی جاندار وں کے حقوق کے قوانین بنائیں جائیں۔ وہاں کے معاشرہ میں تمام افراد بحیثیت انسان برا بر ہوں، کسی کوکسی پر کسی قسم کی کوئی برتری یا فضیلت حاصل نہ ہو، کسی کو کسی طبقے ، خاندان ، قوم ، قابیلے یاعلاقے سے تعلق رکھنے کی بنا پر کوئی فضیلت یا برتری حاصل نہ ہو،سب انسانوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہو خواہ امیر ہوںیا غریب ، شاہ ہوں یا گدا، بادشاہ ہوںیا فقیر، عالم ہوں یا جاہل۔ الغرض کسی انسان کو بھی دوسرے پر کوئی برتری حاصل نہ ہو۔
2۔ اسلام قانون کی بالادستی اور قانون کے سامنے افراد معاشرہ کی برابری و مساوات کا قائل ہے ۔ قانون میں جو رعائت یا سزا کسی ایک کیلئے مقرر ہے وہ سب کیلئے یکساں ہے خواہ امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہویا خلیفہ یا فقیر،گورنر ہو یا کوئی وزیر، مسلمان یا غیر مسلم۔قانون کے کٹہرے میں بحیثیت انسان سب برابر ہیں کسی کو کوئی فوقیت و برتری حاصل نہیں۔اگر ریاست کا کوئی بڑا آدمی، حکمران یا خلیفہ قانون کے کٹہرے میں آئے تو اس کے ساتھ بھی وہی برتاؤ کیا جائے جو ریاست کے کسی بھی عام آدمی کے ساتھ کیا جاتا ہے، اسے بھی وہی نرمی وہی رعایت دی جائے جو ریاست کے کسی بھی عام آدمی کو دی جاتی ہے۔

3۔ اسلام معاشر ہ میںیکساں معاشی نظام اوراقتصادی مساوات کا قائل ہے۔ ایسا نظام جہاں معاشرہ کے تمام افراد کو برابر روزگار کے مواقع و ذرائع میسر ہوں، ہر ایک کی بنیادی ضرورتیں پوری ہو رہی ہوں، ہر ایک کو اس کی صلاحیت کے مطابق کام اورکام کا معقول معاوضہ مل رہا ہو۔ کوئی شخص روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم نہ ہو ۔
4۔ اسلام ریاست میں ایسے انتظامی نظام کی حمایت کرتا ہے جس میں کوئی بھی فرد کسی بھی ذمہ داری کا کسی بھی طرح سے امیدوار نہ ہو بلکہ اجتماعیت اسکو وہ ذمہ داری لینے پر مجبور کرے کہ فلاں اس قابل ہے، فلاں یہ ذمہ داریاں احسن طریق سے نبھا سکتا ہے۔اور پھر ریاست جس پر اعتماد کر کے ذمہ دار ٹھہرائے وہ انتہائی دیانت داری سے اپنی پوری توانائی صرف کر کے اس اعتماد پر پورا اتر کر دکھائے۔

کمال یہ نہیں کہ کوئی خود کو اس قابل سمجھے اور امیدوار بنا کے پیش کرے بلکہ کمال یہ ہے کہ افراد معاشرہ تمہیں کہیں کہ تم اس قابل ہو۔لہٰذا امیدوار بننے کی بجائے خود کو اتنا بلند کر لیا جائے کہ افراد معاشرہ تمہارا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جائیں۔پھر جو حکومت بنے گی وہ یقیناًخلافت راشدہ کی مثل ہو گی اور اس طرح جو معاشرہ وجود میں آئے گا وہ یقیناًصالحین کا معاشرہ ہو گاجو خود اتنا بلند کیے ہوئے ہوں گے کہ بقول حکیم الامت ؒ ’’ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟ ‘‘

جب تک معاشرے میں ایک خاص تعداد میں لوگ اس کردار و عمل کے نہ ہو جائیں جو قرآن کے مطلوب و مقصود اور منشاء ہے تب تک نہ ہی خلافت قائم نہیں ہوسکتی ہے اور نہ ہی اسلامی معاشرہ سدھر سکتا ہے اور نہ ہی زوال تھم سکتا ہے۔ جب تک لوگ پارٹیاں اور جماعتیں بنا کر خود کو ذمہ داری کے لئے پیش کرتے رہیں گے تب تک معاشرتی بگاڑ بڑھتا چلا جائے گا اور کسی بھی صورت کم نہیں گا۔ خلافت ایک اعلی و ارفع سیاسی نظام کا نام ہے جوصرف اسی معاشرے میں چل سکتا ہے جہاں اعلی و ارفع کردار کے حامل لوگوں کی اکثریت ہوگی۔ جہاں ایسے لوگ رہتے ہوں جو صلہ رحمی کرنے والے ہوں،پیار،اخوت،برابری و مساوات ،برداشت، بھائی چارہ ،اور عالمگیر انسانیت کے علمبردار ہوں، انصاف اور ایمانداری کے لئے اپنی محبوب ترین چیز قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں، جو ایک دوسرے کی جان و مال کے محافظ و نگہبان ہوں، جو لذت نفس کی چیزیں قدرت کے باوجود چھوڑ دینے والے ہوں، جو رشوت اور ظلم کے قریب نہ جائیں، جو جانوروں پر بھی ظلم برداشت نہ کریں،جو برگ و شجر کے بھی حقوق کے محافظ ہوں، جو بدلہ لینے والے نہیں معاف کرنے والے ہوں، جو خود سے زیادہ دوسرے کی قابلیت کے معترف ہوں، جو تضحیک اور گالم گلوچ کے بجائے عقل، فراست اور دلیل کی باتیں کریں اور جو انسانیت کے درمیان مذہبی، فقہی، لسانی، نسلی، گروہی، جغرافیائی غرض ہر طرح کی تفریق مٹادینے والے ہوں۔ ایسے لوگ جب اپنے میں سے ایسے صالح ترین افراد کو جو اقتدار کی کوئی خواہش نہ رکھتے ہوں، رائے دہی کے ذریعے حکومتی ایوانوں میں بھیجیں اور وہ وہاں ایسے قوانین بنائیں جس سے عام لوگوں کا اچھائی پر چلنا آسان اور برائی پر چلنا مشکل ہو جائے اور معاشرہ امن، سکون، انصاف،انسانیت،پیار، اخوت اور مساوات و ہم آہنگی کا گہوارہ بن جائے اور ہر طرح کا ظلم، بے ایمانی، بے راہروی اور طبقاتی کشمکش کا خاتمہ ہو جائے تو پھر ریاست میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا جو خلافت کی اعلیٰ ترین مثال ہو گی۔ افراد کے کردار و عمل کی یہی بلندی خلافت کو قائم کرنے اور اسکے ثمرات سے فائدہ اٹھانے کا فطری طریقہ ہے اور اللہ تعالی کی وہ ابدی جنت حاصل کرنے کا راستہ بھی جو کہ فرداً فرداً ہر ایمان دار شخص کا مطلوب و مقصود ہے۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ نکلا کہ خلافت ہمیشہ وہاں قائم ہو سکتی ہے جہاں مسلمان مومنین و صالحین بستے ہوں گے۔

ہمارے جیسے بد عمل ، بھٹکے ہوئے نام نہاد مسلم معاشرہ میں خلافت کی بات کرتا نظام الٰہیہ کی توہین ہو گی۔یہ نظام عملی طور پر وہاں چل سکتا ہے ، وہاں کارآمد ثابت ہو سکتا جہاں کا معاشرہ نظام الٰہیہ کی منشاء و مقصود کے مطابق ہو۔ یہ اللہ رب العزت کا قرآن میں فیصلہ ہے کہ جیسے عوام ہوں گے ہم ان پر ویسے حکمران مسلط کریں گے۔ اگر عوام راستباز نہیں ہو ں گے تو حکمران بھی نہیں ہوں گے۔ اگر عوام کارجحان دجالیت کی طرف ہو تو حکمران بھی دجالی ان پر مسلط ہوں گے۔اگر عوام مکار و دغا باز، عیار و سرکش اور عیش پرست ہو ں گے تو حکمران ان سے بڑھ کر نکلیں گے۔جب عوام مغرب زدہ ہوں گے تو حکمران مغرب کو خدا ماننے والے آئیں گے۔جب عوام کی لگن شیطانیت و لہو لہب کے ساتھ ہوگی تو حکمران اس کے فروغ اور دفاع کرنے والے نکلیں گے۔ جب عوام کا رجحان، عوام کی لگن دین کی طرف ہو گی تو حکمران بھی دیندار آنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اچھے حکمران ، اچھے قوانین کیلئے ہمیں بھی اچھا ہونا ہو گا۔اس کے بغیر اچھے حکمران، فلاحی و عمدہ قوانین اور حقوق کا تحفظ محض خواب ہی رہے گا جو کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...