معلومات

خواتین عموماً مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تازہ ترین سروے کے مطابق اس وقت دنیا بھر کی خواتین کی اوسط عمر تقریباً 74 سال ہے جبکہ دنیا بھر کے مردوں کی اوسط عمر تقریباً 70 سال ہے- ہم ایک عرصے سے یہ جانتے ہین کہ قریب قریب ہر معاشرے میں خواتین کی اوسط عمر مردوں سے زیادہ ہوتی ہے- صرف یہی نہیں بلکہ نوزائیدہ بچوں میں بھی اموات کی شرح لڑکیوں کی نسبت لڑکوں میں زیادہ ہوتی ہے- پیدائش کے لحاظ سے لڑکوں کی پیدائش کی شرح لڑکیوں کی پیدائش کی شرح سے پانچ فیصد زیادہ ہوتی ہے (یعنی دنیا بھر پر اوسطاً لڑکیوں کی نسبت لڑکے زیادہ پیدا ہوتے ہیں) لیکن اوائل عمر میں وفات پانے والے بچوں میں اکثریت لڑکوں کی ہوتی ہے- اس طرح بلوغت کے وقت دنیا بھر میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد تقریباً برابر ہو جاتی ہے

ابھی تک ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ اموات کی شرح مردوں میں کیوں زیادہ ہوتی ہے- لیکن اب سائنس دانوں نے بہت بڑی سٹڈی کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اموات کی شرح میں اس فرق کی وجہ جنسی کروموسومز (یعنی ایکس اور وائے کروموسوم) کے سائز کا فرق ہے- خواتین کے بیضے میں صرف ایکس جنسی کروموسوز ہی پائے جاتے ہیں جبکہ مردوں کے سپرمز میں 50 فیصد سپرمز ایکس کروموسومز اور 50 فیصد وائے کروموسومز کے حامل ہوتے ہیں- ایکس کروموسوم جسامت میں بہت بڑا ہوتا ہے اور اس میں تقریباً ساڑھے پندرہ کروڑ بیس پیئرز (base pairs) ہوتے ہیں- اس کے برعکس وائے کرومووسم بہت چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں صرف لگ بھگ چھ کروڑ بیس پیئرز ہوتے ہیں-

اگر بیضے کو فرٹیلائز کرنے والے سپرم میں بھی ایکس کروموسوم ہو تو فرٹیلائزڈ بیضے میں دو ایکس کروموسوم ہوتے ہیں اور لڑکی پیدا ہوتی ہے- اس صورت میں دونوں کروموسومز (یعنی ماں سے ملنے والے ایکس کروموسوم اور باپ سے ملنے والے ایکس کروموسوم) میں بیس پیئرز کی تعداد برابر ہوتی ہے اور اگر ان میں سے ایک کروموسوم میں کوئی جینیاتی خرابی ہو لیکن دوسرا کروموسوم درست ہو تو یہ جینیاتی خرابی چھپ جاتی ہے اور عموماً ایکسپریس نہیں ہوتی-

اس کے برعکس اگر فرٹیلائز کرنے والے سپرم میں وائے کروموسوم ہو تو فرٹیلایزڈ بیضے میں ایک ایکس اور ایک وائے کروموسوم مل کر ایکس-وائے کروموسوم بناتے ہیں اور لڑکا پیدا ہوتا ہے- چونکہ وائے کروموسوم بہت چھوٹا ہوتا ہے اس لیے ایکس کروموسوم کے بہت سے بیس پیئرز exposed ہوتے ہیں (یعنی وائے کروموسوم میں ان کو میچ کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی) اور اگر ان ایکسپوزڈ پیئرز میں کوئی جینیاتی خرابی موجود ہو تو وہ جینز ایکسپریس ہو جاتے ہیں- اس وجہ سے لڑکوں میں جینیاتی خرابیوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے- اس کا ایک نتیجہ تو یہ ہوتا ہے کہ لڑکوں میں infant mortality زیادہ ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ ادھیڑ عمر میں مردوں میں بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس وجہ سے مردوں کی اوسط عمر خواتین سے کم رہتی ہے

جنسی افزائش کا طریقہ صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بہت سے دوسرے میملز میں بھی جنس کا تعین ایکس اور وائے کروموسومز یا پھر W اور Z کروموسوز سے ہوتا ہے- اگر یہ مفروضہ درست ہے تو دوسرے جانوروں میں بھی نر کی اوسط عمر کو مادہ کی اوسط عمر سے کم ہونا چاہیے- چنانچہ سائنس دانوں نے 229 مختلف سپیشیز میں نر اور مادہ کی اوسط عمر کو سٹڈی کیا اور یہ دریافت کیا کہ ان تمام سپیشیز میں ہوموگیمیٹک جنس (یعنی جس جنس میں دونوں جنسی کروموسوم ایک جیسے ہوں) کی اوسط عمر ہیٹروگیمیٹک جنس (یعنی جس جنس میں دونوں جنسی کروموسومز مختلف ہوں) سے ہمیشہ زیادہ ہی ہوتی ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے ایسے جانوروں میں جو ارتقائی طور پر انسانوں سے بہت دور کا تعلق رکھتے ہیں، جنس کا تعین ایکس اور وائے کروموسوم سے نہیں ہوتا بلکہ W اور Z کروموسوم سے ہوتا ہے- ان سپیشیز میں اگر دونوں کروموسوم ZZ ہوں تو نر پیدا ہوتا ہے اور اگر کروموسوم ZW ہو تو مادہ پیدا ہوتی ہے- گویا ان سپیشیز میں نر ہوموگیمیٹک جنس ہے جبکہ مادہ ہیٹروگیمیٹک جنس ہے- ایسے جانوروں میں نر کی اوسط عمر مادہ کی اوسط عمر سے زیادہ ہوتی ہے- اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی ہیٹروگیمیٹک جنس (یعنی جس جنس میں جنسی کروموسومز دو مختلف قسم کے ہوں) کی اوسط عمر کی ہوتی ہے جس کی وجہ جنسی کروموسومز کے سائز کا مختلف ہونا ہے

ترجمہ و تلخیص: قدیر قریشی