بلاگ معلومات

خراٹوں کی وجوہات اور آسان گھریلو علاج

بہت سی ایسی بیماریاں ہیں جو کہ بیماری نہیں سمجھی جاتیں، خراٹے لینا ویسے تو کوئی بیماری نہیں ہے لیکن بیماریوں کی وجہ سے ضرور ہے۔ خراٹے لینا ایک ایسا مسئلہ ہے جو کہ آدھی دنیا کے مرد و زن کو درپیش ہے۔ عام طور پر خراٹوں کو گہری نیند کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے جب تھکن زیا دہ ہو تو خرا ٹے بھی بہت گہرے اور تیز ہوتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جس کمرے میں خرا ٹے لینے والا شخص مو جو د ہو،وہاں کسی اور کو نیند آ جائے اس کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دنیا میں جتنی بھی بیماریاں ہیں وہ انسان کو خود برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ لیکن خراٹے لینا دنیا کی وہ واحداور انوکھی بیماری ہے جس میں تکلیف دوسروں کو ہوتی ہےاور بیماری میں مبتلا شخص کو پتا ہی نہیں ہوتا۔

》ہم خراٹے کیوں لیتے ہیں؟ اس کی وجہ تو ظاہر ہے کہ جب آپ کی سانس کو ناک یا گلے میں رکاوٹ کا سامنا ہو خراٹے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ یہاں کچھ اسی وجوہات ہم بیان کریں گے جو دراصل خراٹوں کا باعث بنتے ہیں – زکام وغیرہ کی وجہ سے ناک بند ہو یا پھر ناک میں موجود گندگی کی وجہ سے ہوا ان سے ٹکراتی ہو اور بغیر کسی رکاوٹ کے نہ گزر سکتی ہو۔ – خراٹوں کی ایک اور وجہ موٹاپا بھی ہے۔ زیادہ وزن خراٹوں کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔ – چت لیٹ کر سونے سے گلے کے مسلز کھچ جاتے ہیں اور نزدیک آجاتے ہیں، ایسا ہونے سے سانس لینے پر وائبریشن پیدا ہوتی ہے جو خراٹوں کا باعث بنتی ہے۔ – خراٹوں کی ایک وجہ ذہنی پریشانی بھی بتائی جاتی ہے۔ – گلے اور زبان کے مسلز کا کمزور ہونے کی وجہ سے بھی خراٹوں کا مسئلہ ہوتا ہے۔

▪خراٹوں کا علاج : خراٹوں سے نجات کے لیے دواؤں سے زیادہ آپ کو اپنے انداز کو تبدیل کرنا زیادہ ضروری ہے۔ یہاں کچھ ایسے ہی آسان طریقے بتائے جا رہے ہیں جن کو آزما کر آپ خراٹوں کی پریشانی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

▪سونے کا انداز تبدیل کریں: جب آپ سیدھا سوتے ہیں تو اس دوران آپ کی زبان اور دوسرے غدود گلے کی طرف چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سانس کی آواز کے ساتھ اور آوازیں بھی ملنے لگ جاتی ہیں ۔ اس کا آسان حل کروٹ پر سونا ہے۔ کیونکہ اس سے سانس لینے میں اور ہوا کے اندر جانے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے خراٹے بھی کم ہو جاتے ہیں۔

▪اپنی ناک کو صاف رکھیں: اپنے ناک کو صاف رکھنا خراٹوں سے نجات کا ایک سادہ حل ہے، ناک میں جمع ہونے والا کچرہ سانس کی گزرگاہ میں رکاوٹ بنتا ہے جس کے نتیجے میں منہ سے سانس لینا پڑتا ہے جو خراٹوں کا باعث بنتا ہے۔ ہوسکتا ہے کمرے کی خشک ہوا ناک سے سانس لینے میں مشکلات بڑھائے تو بھاپ کے ذریعے اسے کھول کر خراٹوں سے بچا جاسکتا ہے۔ یہ طریقہ اس وقت مددگار ثابت ہوتا ہے جب خراٹے کسی الرجی یا نزلہ زکام کے باعث ہوں۔

▪بستر کو صاف رکھیں؛ کمرے میں موجود گرد و غبار ناک میں گھس کر انفیکشن پیدا کرتی ہے اور اسی طرح تکیہ اور بستر پر موجود جراثیم گلے کے انفیکشن کا سبب بنتے ہیں خاص ان لوگوں کو زیادہ اس مسئلہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے کمرے میں پالتو جانوروں کی آمدو رفت ہوتی ہو کیونکہ اس کے جسم میں اور بالوں میں ایسے بیکٹیریا ہوتے ہیں جو کہ الرجی اور دوسری بیماریوں کو سبب بنتے ہیں اس لئے اپنے کمرے، بستر اور تکیہ کی صفائی رکھیں۔

▪وزن کم کریں؛ ایک تحقیق کے مطابق خراٹوں کے شکار افراد اگر اپنا جسمانی وزن 10 فیصد تک کم کرلیں تو ان کے منہ اور ناک کے مسائل بھی ختم ہوجاتے ہیں۔

▪پودینہ کا تیل: پودینے کا تیل یا اس کا ماﺅتھ واش ایسی چیزیں ہیں جو خراٹوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، پودینے کے تیل کو اپنے ناک کے ارگرد مل لیں تاکہ سانس کی گزرگاہ کھل جائے، جبکہ پودینے کا ماﺅتھ واش گلے کے ٹشوز کی خرابیوں کے خلاف مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

▪دیسی گھی: رات کو سونے کے قبل چند قطرے گھی ناک میں ڈال لیں مرض دور ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ گھی کے چند قطرے ناف میں لگانے سے بھی مرض دور ہوجاتا ہے۔

▪زیتون کا تیل: زیتون کا تیل خراٹوں سے نجات کے علاوہ تالو کے پٹھوں کو مضبوط بھی کرتا ہے۔ ناک میں چند قطرے زیتون کے تیل کے ڈال دیں تو کافی فائدہ ہوتا ہے ۔ زیتون کے تیل کے دو قطرے تالو میں لگانے سے مرض دور ہو جائے گا۔