بلاگ معلومات

کشمیر۔ تقریر کے بعد

منطق اور دلیل علم الکلام کی روح ہے۔ کپتان کی تقریر میں منطق اور دلیل کا فروغ تھا۔ سچائی تھی۔ سچ دھڑلے سے منہ پر بولا گیا۔ کپتان کے لہجے کی کھنک اور دلی جذبات کی مہک عرصہ دراز تک اقوامِ متحدہ میں تازہ رہے گا۔ مقدمہ کشمیر پر صورتِ حال البتہ کچھ الگ ہے۔ کپتان کی ٹیم کے کئی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ رہیں گے۔ اقوامِ متحدہ میں مستقل پاکستانی مندوب کی تبدیلی اسی حقیقت کی غماز ہے۔ ملیحہ لودھی کا جانا اور منیر اکرم کا آنا معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے کسی بھی ماضی کی حکومت کے مقابلے میں موجودہ قیادت کے سٹیریو ٹائپ انداز سے ہٹ کر کام کرنے کے آثار و قرائن صاف دکھائی دیتے ہیں۔ ماضی میں ہم رٹے رٹائے اور گھسے پٹے انداز میں معاملات چلاتے آئے۔ دفتر خارجہ اور دنیا بھر میں پھیلے پاکستانی فارن مشن بس ڈھیلے ڈھالے سے انداز میں کشمیر پالیسی کو آگے بڑھاتے رہے۔

مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کی ذمہ داری دیا جانا ماضی قریب کی نواز حکومت کی بدترین حکمتِ عملی تھی۔ پاکستان نے اس کا خمیازہ بھگتا۔ کپتان نے البتہ باؤنڈری کے اندر رہتے ہوئے آؤٹ آف بوکس اظہار کا پیرایہ اختیار کیا۔ زمین جنبد نہ جنبدگل محمد والے جمود کو توڑا۔ گو مودی کی حماقتوں نے کشمیر کے مسئلے کو نئے سرے سے دنیا بھر میں اجاگر کیا مگر کپتان نے اسے غیر معیاری بالنگ گردانتے ہوئے چھکے مارنے کا ارادہ کیا اور اس کا عملی اظہار بھی خوب کر دیا۔ مسئلہ کشمیر مگر محض تقریروں سے حل نہیں ہو گا۔ یہ امر اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری کمزور نہیں اصل میں پاکستان کمزور ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ معاشی ابتری سے معمور پاکستان کو بدقسمتی سے قیادتیں بھی ایسی میسر آئیں کہ جو مضحمل ہوتے ہوئے عضو معطل کی صورت بھی بنی رہیں۔ نہ کوئی ویژن تھا نہ استقلال۔ حمیت اور غیرت سے دامن خالی۔

اب کپتان کی موجودگی میں امید بنی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر ایک نیا تحرک پیدا ہو گا۔ ولولہ انگیز تقریر کے بعد لازم ہے کہ اب موجودہ قیادت دنیا بھر میں پھیلے اپنے فارن مشز کو متحرک کرے۔ فعال سفارت کاری سے ہم خیالوں کا نیا نیٹ ورک بنائے اور مسئلے کے حوالے سے گفت و شنید کے تسلسل کو برقرار رکھے۔ ایسا نہ ہوا تو ایسی تاریخی تقریر کے مثبت اثرات زائل ہونے میں وقت نہ لگے گا۔ نقار خانے میں ہنگامہ اور رنگا رنگی تو رہے گی مگر ہماری آواز معدوم ہو جائے گی۔ اس وقت بھارت اور مودی سرکار ذرا بیک فٹ پر ہو تو گئی ہے مگر بین الاقوامی تناظر میں وکٹ بحر حال اُن کے لئے سازگار ہے۔ اب باؤنسر، یار کر کے تسلسل اور بہترین فیلڈنگ سے ہی فریقِ مخالف کو دباؤ میں رکھ کر کشمیر کا مثبت حل نکالا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات جارحیت بھی بہترین دفاع ثابت ہوتی ہے۔

بجا کہ ہم معاشی طور پر اہم نہیں ہیں مگر جغرافیائی اعتبار سے جس حیثیت کے حامل ہیں وہ بحر حال ہمارا پلس پوائنٹ ہے۔ کپتان کو چاہئے کہ دبنگ ہو کر کہیں کہ ہم ایران پر عائد پابندیوں کو نہیں مانتے۔ گیس اور تیل فراہمی کے منصوبوں کو ہم عملی صورت دینے لگے ہیں۔ چین سے کہے کہ وہ بھارت پر لداخ سرحد کی جانب سے دباؤ بڑھائے۔ روس بھی آواز اٹھائے۔ وہ تو یوں بھی امریکی، اسرائیلی بلاک میں جانے کیوجہ سے بھارت سے نالاں ہے۔ ملائشیا اور ترکی پہلے ہی پاکستان کے حامی ہیں۔ یعنی امکانات کا ایک جہاں سامنے ہے بس ذرا قوت تسخیر ہو تو سب ممکن ہے۔ پاکستان سفارت کاری بھی تیز کرے اور مارا ماری کی دھمکی کو بھی تھوڑا تھوڑا عملی جامہ پہنائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سعودی عرب کو اُسی طرح ساتھ ملائے جیسے بھٹو نے شاہ فیصل کو اپنے شانہ بشانہ کھڑا کر لیا تھا۔ سعودی عرب کی کم مائیگی مسئلہ کشمیر سے بڑا مسئلہ ہے۔

مسلمانوں کے عالمی سربراہ ہی سوکھے پتوں کیطرح بکھر جائیں گے تو پھر یہ چمن زیادہ دیر آباد رہ نہیں پائے گا۔ قرآن نے واضح کر رکھا ہے کہ تمہیں وہی ملے گا جس کی تم سعی کرو گے۔ صد شکر کہ موجودہ پاکستانی قیادت کا قبلہ درست ہو چکا۔ اب ذرا سعی میں صدق اور نیت میں اخلاص برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ کارکردگی کو مثبت رکھنے کیلئے لازم ہے کہ کپتان اپنی ٹیم سلیکشن پر بھی از سر نو توجہ دیں۔ ورنہ بڑے اور سخت میچ میں ون مین شو زیادہ دیر نہیں چلا کرتا۔ ملکی سیاست اور فریقین مخالف کے ساتھ درپیش مسائل بھی اپنی جگہ کپتان کا راستہ روکے کھڑے ہیں۔ کچھ اِن کا تدارک بھی فوری ورنہ خوامخواہ توانیاں ضائع ہونے کا کھٹکا۔ یاد رہے کہ ہوسِ اقتدار کے مارے سیاسی جفاد ریوں کیلئے مسندِ اقتدار ملک و ملت سے بڑھ کر ہوا کرتی ہے۔ ملک اندرونی اور بیرونی سطح پر کٹھن مراحل کا شکار ہے اور کچھ لوگوں کو پھر سے اقتدار حاصل کرنے کی پڑی ہے۔ تف ہے ایسے حریصوں پر۔