بلاگ معلومات

کشمیر ایشو(حل اور سٹانس)

کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکلا نہیں ہے،کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل سکتا ہے اگر یہاں پر ذرا سی بھی ڈھیل کا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا تو۔۔۔!! میں نے اس دن جو لکھا تھا کہ یہ پہلا سٹیپ لیا گیا ہے،ارٹیکل 370 کا خاتمہ بھارتی پلان کا پہلا ادھا حصہ ہے صرف،اور اگر یہ صرف پہلے حصے تک ہی رہتا تو اسکا ہماری صحت کے اوپر ذرا برابر بھی فرق نہیں ہے،بلکہ اسی کو بھارت کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔۔

یہ بات ذہن میں رہے کی یہ ارٹیکل 370 ہی تھا جس کی بدولت مقبوضہ کشمیر بھارتی قانون کی حد تک اور دنیا کو دکھانے کے لیے ہی بھارت سے جڑتا تھا لیکن اب یہ اس آرٹیکل کو ختم کرکے خود اپنے ہی قانون کے مطابق غاصبانہ قابض ہیں،اس کے بعد بھارت کی طرف سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات،عالمی قوانین کی کیں جانے والی ساری پامالیاں،انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں،مزید بوسٹ ہونے والی تحریک آزادی، کشمیر، موجودہ صورتحال (ساری دنیا کی نظریں کشمیر پر) یعنی جب یہ ایشو آٹو میٹکلی ہائیلائٹ اور گلوبلائز ہو چکا تو ہمارے پاس بہت اچھا فرنٹ ہے ہم اس پر کھیل سکتے ہیں،یہ موقع ہے جب بھارت نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے عالمی قوانین اور انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے تو سفارتی محاذ پر ٹوٹ پڑنا چاہیئے ہمیں پوری قوت سے۔۔ اقوام متحدہ،او آئی سی،آئی سی جے،سلامتی کونسل سمیت تمام تر تنظیموں کو تمام تر مسلم ممالک سے کوآرڈینیٹ کر کے ہینگ کر کے رکھ دیا جائے۔۔۔ سفارتی محاذ پر قانونی اعتبار سے بھارت کی تاریخ کی کمزور ترین گرفت ہے یہ کشمیر پر، یہاں اگر ہم درست کھیل جاتے تو کشمیر کی آزادی کے ساتھ ساتھ بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر ائیسولیٹ بھی کر سکتے ہیں اور پاکستان کا جو گراف بہتر ہوا عالمی سطح پر اس کو بھی نقصان نہیں پہنچے گا۔۔۔۔

دوسرا طریقہ جنگ ہے ۔۔ جنگ میں بھی ہمیں کوئی نقصان نہیں ہے سواۓ اس کے عالمی برادری کیطرف سے پریشرائز ہونا پڑے گا ہمیں
بھارت ہماری ہی رسی سے ہمارے ہاتھ باندھنے کی کوشش کی ہے ہماری رسی یہ تھی کہ عالمی برادری میں ہم نے اپنا تاثر بہتر کرنے کیلئے جو گزشتہ کچھ عرصہ سے دہشت گردی کا لیبل لگایا جا چکا تھا اسکو ہٹانے کیلئے ہم نے مسلسل عالمی قوانین کی پاسداری کی ہے،ہم ہر ہر عالمی معاہدے پر کاربند رہے اور امن کے لیے تمام تر کاوشیں بروئے کار لاتے رہے ہیں،صرف اس لئے کہ پاکستان کا امیج زیادہ سے زیادہ کلیئر ہو،اسی چیز کو انڈیا نے استعمال کیا اور یہ جارحانہ قدم اٹھایا کیونکہ اسے پاکستان کی طرف سے کسی جارحیت یا کم از کم پہل کی توقع نہیں تھی۔۔۔۔

تو یہاں پر یہ ہے کہ اگر ہم جنگ کرتے ہیں تو ہم بھی عالمی قوانین کی کو پس پشت ڈال دیں گے اور میرے خیال میں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے، میں نے ایک دو دن پہلے ٹویٹ کی تھی کہ ہم عالمی قوانین کی پاسداری کے خواہاں ہیں مگر اس صورت میں اور اس وقت تک جب وہ صرف اکیلے ہمارے لیے نہ ہوں ۔۔۔!! یعنی کہ اگر تو بھارت بھی اس پر عملدرآمد کررہا ہے تو اوکے موسٹ ویلکم کشمیر کے لئے قانونی و سفارتی جنگ لڑتے ہیں لیکن جب دوسری طرف سے جارحیت ہورہی ہے اور اس پر عالمی برادری بھی خاموش ہے آنکھیں بند کیئے بیٹھی ہے تو یہاں پر ہمیں عالمی قوانین کی موم بتی بنا کر اقوام متحدہ کو واپس کر دینی چاہیئے جو وہ انسانی حقوق کی پامالی پر جلا کر بین کر سکے اور ایک کے جواب میں دو قدم آگے بڑھاتے ہوئے بزور شمشیر کشمیری مسلمان کی مدد کرنی چاہیئے۔۔۔

اور یہاں پر ایک چیز بہت واضح ہے کہ اگر جنگ ہوتی ہے اور پاکستان کشمیر یا اس کا کچھ حصہ لے لیتا ہے تو کچھ بھی نہیں ہونے والا ۔۔ پہلے بھی جو ہم نے جو حصہ آزاد کروایا وہ اب پاکستان کا حصہ مانا جاتا ہے اگر پاکستان سٹیپ فارورڈ کرتا ہے اور کشمیر پر قبضہ چھڑوا لیتا ہے تو یہ شاٹ کٹ ہوگا اور اس میں ہمیں نقصان یہ ہوگا کہ عالمی برادری میں ہمارا تھوڑا سا گراف ڈاؤن ہوگا تھوڑا سا اس کے علاؤہ ہمیں کوئی نقصان نہیں لیکن اگر اس کے بدلے ہمیں کشمیر ملتا ہو تو یہ نقصان کوئی نقصان نہیں ہے،یہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے چیمپئن جائیں بھاڑ میں۔۔۔!! خیر تو دو طریقے ہیں۔۔۔ • قانونی و سفارتی •جنگ دونوں صورتوں میں ہم نے اپنی ریاست اور اپنی فوج کیساتھ کھڑے ہیں یہ مین سٹانس ہے ۔۔۔ !

اس کریٹیکل صورت حال میں ہم نے عوام کا مورال بلند کرنا ہے،متحد کرنا ہے، عوام کو مایوسی سے نکالنا ہے ، ریاست کیساتھ کھڑا کرنا ہے عوام کو فوج کیساتھ کھڑا کرنا ہے ان کا اعتماد بحال کرنا ہے اور بتانا ہے کہ یہ دو راستے ہیں اور ان شاءاللہ ان میں سے بہتر رستہ ہی چنا جائیگا،جو بھی چنا گیا ہم فلی سپورٹ کریں گے ریاست کو بھی اداروں کو بھی جہاں ضرورت ہوگی بوسٹ بھی کریں گے حکومت،افواج اور تحریکِ آزادی کشمیر کے جوانان کو،یہ بات ذہن میں رہے کہ ہم (عوام) تیسرا ستون ہیں ریاست کا اور اس حساس صورتحال میں کسی بھی قسم کی غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا ہمیں۔۔۔سپورٹ کے علاوہ انفرادی سطح پر ہمارے کرنے کے کام کیا ہیں ان پر کل لکھوں گا ان شاءاللہ۔۔!!!