اُردو صفحہ فیس بُک پیج

کالمز

کراچی سر کلر ریلوے کی بحالی ۔۔۔شہر ہوگا مثالی

بس بہت ہوگیا کراچی سر کلر ریلوے کو اب شروع کرنا ہی ہے کراچی سرکلر ریلوے پر سپریم۔کورٹ نے نوٹس لے رکھا ہےاور اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے جوکہ جوائیٹ رپورٹ سندھ حکومت اور ریلوے کی جانب سے دی جانی ہے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں اس کیس کی سماعت تین رکنی بنچ کر رہا ہے چیف جسٹس گلزار نے اس حوالے سے سخت نو ٹس لیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کراچی دوبارہ اپنی اصل حالت میں آجائےکراچی کی خوبصورتی جو اداروں نے خود اور کرپٹ مافیاز نے برباد کر دی ہے وہ لوٹ آئے اکراچی دوبارہ سے جگمگا اٹھے کراچی سرکلر ریلوے اراضی کی بحالی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جسٹس گلزار احمد کی اس جانب بھرپور توجہ مبذول ہے جسکا مقصد ہر صورت کراچی سرکلر ریلوے کی فوری طور پر بحالی کو یقینی بنانا ہے

جس کے بعد اب سرکلر ریلوے کی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا نظر آرہا ہے چیف جسٹس نے واضح احکامات دے دئیے ہیں کہ سرکلر ریلوے کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور اس میں حائل ہر طرح کی رکاوٹیں اور عمارتیں بھی ڈھا دی جائیں اب دیکھنا یہ ہے کہ سرکلر ریلوے کی بحالی میں حائل صرف یہی رکاوٹیں ہیں یا کوئی اور مفاد پرست کرپٹ عناصر بھی سرگرم عمل ہیں جو نہیں چاہتے کہ اس فیصلے پر فی الفور عملدرآمد کیا جائے جو کہ ہر بار پیشیوں کے موقع پر اس معاملے کو ٹالنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ج اور چاہتے ہیں جیسا چل رہا ہے چلنے دیا جائے عرصہ دراز سےریلوے اراضی جو کہ ریلوے کی ملکیت ہے اس پر جھگیاں آباد ہیں اور تو اور بڑی بڑی عمارتیں بھی قائم ہیں جس کی مثال مون گارڈن ہے تو سوچنے والی بات یہی ہے کہ اتنی بلند و بالا عمارتیں ایک دن میں تو تعمیر نہیں ہوئی ہونگی وقت اور کسی نہ کسی کی زیر سر رپرستی ہی تعمیر ہوئی ہونگی جس طرح وہاں لوگ آباد ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ تعمیرات بے خوف و خطر کی گئیں ہونگی تو یہی۔وہ کرپٹ ٹولہ ہے جوکہ کراچی کی بربادی کا زمہ دار ہے ۔

ایک اندازے کے مطابق سرکلر ریلوے کی بحالی کے لئے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل تو کیا گیا ہے جس کے تحت تقریبا 6500 افراد نے اپنا گھر کھوچکے ہیں جسکا شکوہ سماعت کے دوران شہریوں کے وکیل کی جانب سے کیا گیااور کہا گیا کہ حکومت غریبوں کے خلاف توفورا ایکشن لیتی ہے لیکن امیروں کی بڑی بڑی غیر قانونی عمارتیں گرائی نہیں جاتی یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا کیونکہ اعلی عدلیہ کےجج جسٹس گلزار نے کمر کس لی ہے کہ کچھ بھی ہوغیر قانونی قبضہ ختم ہر صورت کروایاجائیگا پھر چاہے امیر ہو یا غریب ایکشن لیا جائیگا جیسا کہ مون گارڈن مثال ہے جس سے واضح ہے کہ جسٹس گلزار ہر صورت کراچی کی خوبصورتی کو واپس بحال کروانا چاہتے ہیں جوکہ کراچی کا حق ہے عرصہ دراز سے کراچی کی خوبصورتی کو جس بے دردری سے تباہ کیا گیا اور جگہ جگہ قبضہ مافیا راج کرتے رہے اس سے کراچی تاریکیوں میں ڈوب گیا تھالیکن اب رونقیں لوٹتی۔ہوئی دکھائی دے رہی ہیں ہیں اب یہ غنڈہ گردی نہیں برداشت کی جائیگی انہی مافیاز اور کرپٹ عناصرکی بھینٹ کراچی سرکلر ریلوے بھی چڑھا اور۔۔ بری طرح سے متاثر ہوا جسکی بحالی کے لئے سپریم کورٹ نے گذشتہ سال نومبر میں حکام کو کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کو فوری طور پر بحال کرنے اور میٹروپولیس میں ریلوے کی اراضی پر ہونے والی تمام تجاوزات کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا..جبکہ 2017 میں کراچی سرکلر ریلوے کو تین برسوں میں یعنی ستمبر 2020 تک مکمل کیا جائے

کراچی سرکلر ریلوے کو اقتصادی راہداری کا حصہ بنایا گیا تھا اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ منصوبہ چین کے تعاون سے جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ جبکہ گزشتہ دنوں ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے کیس میں کمشنر کراچی کو حکم دیا ہے کہ ریلوے کی زمین پر بنے پلازے ایک ہفتے میں گرائیں۔سرکلر ریلوے اور لوکل ٹرین کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت کے سلسلے میں سیکریٹری ریلوے، کمشنر کراچی، میئر کراچی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ عدالت میں پیش ہوئے۔اب اگلی سماعت 12 فروری کو ہونی ہے ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اب سندھ حکومت عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑا پائنیگے یا اس کی پاسداری رکھیں گے. ضروری ہے کہ اب سنجیدگی سے اس فیصلے کو لیا جائے اور ریلوے اراضی کو اسکی اصل حالت میں لایا جائے لیکن کیا یہ ممکن بھی ہے چیف جسٹس گلزار احمد چاہتے ہیں کہ کراچی دوبارہ اپنی اصل حالت میں آجائےاور کراچی کی خوبصورتی جوکہ کرپٹ مافیاز نے برباد کر دی تھی وہ لوٹ آئے جس طرح سے اکتوبر ،2019,میں چیف جسٹس ثاقب نثار کے سخت احکامات کے بعد تجاوزات کے خاتمے کی مہم۔پر بھرپور عملدرآمد کیا گیا تھا اور ایمپریس مارکیٹ پر موجود تاریخی بازاراور اس کے خاتمے کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کا خاتمہ کردیا گیا تھا اسی طرح سے جسٹس گلزار کی سربراہی میں ہونے والی حالیہ سماعتوں سے محسوس یہی ہورہا ہے کہ سرکلر ریلوے کی بحالی کا کام بھی اب بہت جلد ہوجائیگا لیکن کیا یہ اتنا آسان ہوگا کیونکہ اس میں حائل سب سے بڑی رکاوٹیں وہاں پٹڑی کے اطراف گذشتہ 40 سالوں سے آباد جھگیاں اور 70 سالوں سے آباد علاقہ ہے جہاں کہ مکین صاف کہتے ہیں کہ ہم یہاں ستر سالوں سے آباد ہیں ہمارے آباء اجداد یہاں رہیے ہیں نسل در نسل یہ سلسلہ چلا آرہا ہے گویا کہ یہ ہماری ملکیت ہے ہم یہاں سے کہیں نہیں جانے والے اور یوں اچانک سے چند دنوں کے نوٹسز پر اپنے آباد گھر نہیں چھوڑ سکتے

جب تک کہ حکومت خود سے کوئی متبادل جگہ فراہم نہیں کرتی اب حالات کچھ یوں ہیں کہ چیف جسٹس کا کہنا کہ ریلوے اراضی کو واپس ہونا ضروری ہے اور وہاں موجود قبضہ مافیا کو فی الفور ہٹایا جائےاور ریلوے ٹریک کی بحالی میں حائل ہونے والی ہر رکاوٹ ہر عمارت کو مسمار کردیا جائے جوکہ بالکل درست فیصلہ بھی ہے لیکن کیا اب حکومت وہاں آبادی کا با آسانی سے صفایا کر پائیگی یا وہاں رہائیش پزیر افراد کومتبادل دیکر وہاں سے جانے پر قائل کر پائیگی سندھ حکومت کس قدر سنجیدہ ہے اور اس میں سندھ حکومت کس قدر عملدرآمد کرتی ہے اصل مدعہ تو یہی ہے ۔۔اس پر مکمل عملدرآمد ہوتا کب ہےآئندہ سماعت 12 فروری کو ہونی ہے جس میں ریلوے اور سندھ حکومت کو رپورٹ دینی ہے کیا جواب دیا جاتا ہے کیا رپورٹ دی جاتی ہے اور کس حد تک کام کیا جاتا سوال اب بھی یہی ہے کہ کیا عدالتی فیصلے پر فی الفور عمل ہوتا بھی یا کہ نہیں سرکلر ریلوے کی بحالی کس حد تک ممکن ہے اور کس حد نہیں اور عدالتی احکامات پر کس حد تک عمل کیا جاتا ہے یہ تو آنے والے دنوں ہی میں معلوم ہو سکے گا۔

ثنا کریم
کالم نگار اینکر

لکھاری کے بارے میں

ثنا کریم

ثنا کریم
اینکر پرسن اور کالم نگار ہیں اور بول نیوز کے لیے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Loading...