اُردو صفحہ فیس بُک پیج

بلاگ

کراچی کی چٹورگاہیں

کراچی میں تقسیمِ ہندو پاکستان سے قبل عوامی طعام گاہیں ریسٹورینٹس کی شکل میں موجود تھیں ۔یہ عام طور پر دو قسم کی تھیں جو ہوٹل کہلاتی تھیں،شہری کاروباری علاقوں میں ’’ایرانی ہوٹل‘‘ اور دیہی علاقوں میں ’’سندھی ہوٹل ‘‘۔یہ چائے خانے تھے ،مگر یہیں بسکٹ،کیک اور کھانےپینے کا سامان بھی مل جاتا تھا۔ایرانی ہوٹل ہر خاص کاروباری بلڈنگ کے نکّڑ پر لکڑی کی ہلکی کرسیاںاور چوکور میزیں جن پر کپڑا اور شیشہ منڈھا ہوتا تھا ،ان ایرانی ہوٹلوں میں پایا جاتا تھا ۔

برتن صاف سُتھرے،چائے کے ساتھ ایک کئی منزلہ پلیٹوں والی ٹرے میں کئی قسم کے بسکٹ اور کیک پیسٹری۔زیادہ تر یہ رواج ختم ہوگیا ہے لیکن اب بھی کہیں کہیں نظر آجاتا ہے ،ایرانی ہوٹلوں کی تعداد بھی اب خال خال ہے،یہ کونے کی جگہیں ،جہاں ایرانی ہوٹل ہوا کرتے تھے ،اب بڑے بڑے پلازوں میں بدل گئے ہیں۔ایرانی لوگ بر صغیر ہندو پاکستان میں اُنیسویں صدی کے آخر میں اور بیسویں صدی کے شروع میں ہی بمبئی اور کراچی کی طرف ہجرت کرچکے تھے اور ان شہروں کی ایک کاروباری کمیونٹی بن چکے تھے ۔

اب ان کے زیادہ تر لوگ بمبئی یا دیگر ممالک میں بس گئے ہیں ،اسی لیے اب ان ہوٹلوں کی تعداد بھی بہت کم رہ گئی ہے۔فریڈرک کافی ہائوس،کراچی کیفے ٹیریا،زیلن کافی ہائوس،کیفے جارج،پریسیان بیکری ریسٹورینٹ،کے والیٹی،پف ریسٹورینٹ،بندر روڈ کا اسٹوڈینٹ کیفے اور شیزان کیفے سب قدیم مراکز تھے، جن میں سے اب بھی کچھ باقی ہیں ۔ کیپیٹل سنیما صدر کی گلی میں کیفے گلوریہ اپنے ’’بن مکھن‘‘ کی وجہ سے بہت مشہور تھا ۔

عوامی ہوٹلوں کی دوسری قسم سندھی ہوٹل ہیں جو آج بھی زیادہ تر دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں ،ان میں چائے اور فلمی گانوں کی ریکارڈنگ سے تواضع خصوصیت رکھتی ہے،ان ہوٹلوں میں کھانے کا بھی انتظام پایا جاتا ہے ،مگر کم کم ۔فلمی گانوں کی اس رسم کو بوہری بازار کے ’’پنچ کول‘‘ نے نئے زمانے میں بھی جدیدیت کے ساتھ جاری رکھا ،یعنی بہت صاف ستھرا ہوٹل، جس میں جدید ریکارڈ پلیئر کا انتظام،ہر گاہک صرف چار آنے دے کر اپنا گانا فرمائشی طور پر سُن سکتا تھا ۔اسی کیفے میں چائے ،کافی کے علاوہ آئس کریم بھی ملتی تھی۔

تقسیم کے فوراََ بعد کراچی کے ،جس علاقے میں چٹور گاہیں قائم ہوئیں وہ برنس روڈ کا علاقہ ہے، یہاں ہندووں کی ایک کثیر آبادی اپنے فلیٹس چھوڑ کر ہندوستان ہجرت کرگئی تھی اور ان فلیٹوں کو زیادہ تر آباد کرنے والے دہلی کے پنجابی سوداگران یا کرخنداری طبقہ تھا ۔ان کے مرد حضرات اپنی اپنی دوکانوں اور کارخانوں میں چلے جاتے تھے،گھر میں عورتیں اور بچے رہ جاتے، جنہیں کھانے پینے کی تکلیف اس مسئلے سے نمٹنے کا لوگوں نے یہ حل نکالا کہ طرح طرح کے کھانوں کی دوکانیں یہاں کھل گئیں اور ان میں دلّی کے چٹخاروں کا خاص لحاظ رکھا گیا ، اسی لیے ا ن دوکانوں کو بڑی سُرعت سے شہرت حاصل ہوگئی،قورمہ،نان ،کباب، ربڑی، لسّی، کچوریاں، شیرمال، پراٹھے، قلچے، نہاری، بوٹیوں کی سیخیں غرض کیا نہیں تھا ،جس کی دوکانیں یہاں قائم نہیں ہوئیں۔عید گاہ بندر روڈ پر صابری کی نہاری اور برنس روڈ کے کبابوں نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی جن کی دیکھا دیکھی دوسرے علاقوں میں بھی کباب فروخت ہونے شروع ہوگئے۔پیر کالونی اور لالو کھیت ڈاک خانہ والے کباب بھی خوب مشہور ہوئے۔

عزیز آباد میں جاوید کی نہاری نے زور باندھا ۔بندو خان جو بعد میں حاجی بندو خان،اور اس کے بعد الحاج بندوخان بنے اُن کا کباب پراٹھا لوگوں نے بہت پسند کیا اور شہر کے دیگر مراکز میں اس کی شاخیں کھلیں۔کباب پراٹھے کی سب سے قدیم دوکان صدر میں اُس جگہ تھی ،جہاں اب محبوب مارکیٹ ہے،یہ ’’کیفے فردوس‘‘ کے نام سے بڑی مشہور چٹور گاہ تھی ،جس کے سامنے پیراڈائز سنیما تھا۔کراچی کے چٹوروں کا شہرہ سُن کر لاہور سے’’پھجّا پائے والا ‘‘ بھی کراچی آیا ،مگر اُس کا ذائقہ کراچی والوں کے منہ نہیں لگا ۔حالانکہ ناظم آباد گول مارکیٹ میں پائے خوب مشہور تھے ۔

نیو ٹائون جامع مسجد کی طرف جاتے ہوئے شروع ہی میں ’’کوئٹہ سجّی ‘‘ کی ایک دوکان میں ایک خاص لکڑی میں پروئی ہوئی چھوٹے بکرے کی رانیں بھوبل(راکھ اور آگ کی چنگاریاں) میں دباکر ہلکی آنچ پر سجّی بنائی جاتی ہے ،اس ذائقے کو بھی اب عام کردیا گیا ہے، مگر بجائے بکرے کی رانوں کے ،زیادہ تر سالم چکن استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ قیمت کنٹرول اور گاہکوں کی پہنچ میں رہے۔گرو مندر(اب سبیل والی مسجد) کے علاقے میں ’’میرٹھ کباب پراٹھا ‘‘ کے نام سے دوکان نے جب شہرت حاصل کی تو شہر کے بہت سے علاقوں میں لوگوں نے اسے سابقہ اور لاحقہ بنا کر دوکانیں قائم کرلیں اور خوب فائدہ اُٹھا یا ،میرٹھ کا نام اب بھی ان دوکانوں پررو پے پیسے کی بارش کررہا ہے۔کیٹرک ہال صدر میں اسٹوڈینٹ بریانی بھی خوب مشہور ہوئی اور لوگوں نے لائنیں لگا کر خریدی۔

سمن آباد فیڈرل بی ایریا میں ’’مزیدار حلیم‘‘ کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے یہ کاروبار اپنا لیا ہے۔سعید منزل کی ’’کھیر‘‘ بھی ایک مشہور چٹور گاہ رہی ،یہ اب بھی ہے مگر سُکڑ کر اب ایک چھوٹی سی دوکان رہ گئی ہے، کسی زمانے میں اس کا طوطی بولتا تھا اور کراچی والوں کی کوئی دعوت اس کے بغیر مکمل نہ ہوتی تھی ۔یہ واحد ایک ایسا آئٹم ہے ،جس کی کوئی نقل نہ کر سکا ۔ فریسکو کی مٹھائیاں بھی کراچی والے پسند کرتے ہیں اور چوراہا برنس روڈ کا نام اسی نام سے مشہور ہوا۔

ایک رواج کچھ زیادہ ہی زور پکڑتا جارہا ہے وہ ٹھیلوں پر تازہ تازہ کٹے ہوئے مسالے دار پھل اور سبزیاں ہیں،جنہیں بڑے خوبصورت انداز اور ڈیزائنوں میں کاٹ کر پلیٹوں میں گاہکوں کو پیش کیا جاتا ہے،مثلاََ کھیرا ککڑی مولی یا سیب امرود کیلے نارنگی وغیرہ، یہ ٹھیلے زیادہ تر بڑے دفاتر کے قریب لگائے جاتے ہیں ،بجلی کے کھمبوں کے نیچے گننے کے رس کی مشینیں بھی لگتی ہیں تاکہ بجلی کا انتظام آسانی سے ہوجائے۔

ٹھیلوں پر سبزی پھل کی طرح بڑے بڑے پتیلوں پر ’’نان چھولے‘‘ بھی اپنے عروج پر ہے،یہ در اصل پنجاب کے لوگوں نے شروع کیا ،یہ کم قیمت میں لنچ ہے ،چھولےانڈہ،چھولے کوفتہ، چھولے مرغ بڑی مرغوب غذائیں ہیں جو بڑے بڑے پتیلوں میں چند گھنٹوں کی محنت سے فروخت ہوجاتی ہیں۔

پانی کے بتاشوں کا نام بھی اب بدل گیا ہے اور احمد رشدی کے گانے کی اتباع کرتے ہوئے ’’گول گپّے‘‘ کہا جاتا ہے ،یہ بھی ٹھیلوں پر ہی بکتے ہیں ۔پہلے دوکاندار ان کو گھروں میں بنایا کرتے تھے، مگراب یہ فیکٹریوں میں بنتے ہیں، جی ہاں فیکٹریوں میں ،آپ تعجب نہ کریں،کچھ لوگوں نے پانی کے بتاشے (گول گپّے) بنانے کے کارخانے قائم کر لیے ہیں،یعنی ان کو صنعتی طریقوں سے بڑی مقدار میں بنایا جاتا ہے، ٹھیلے،سونٹھ کے پانی کے مٹکے(سونٹھ اب بہت مہنگی ہوگئی ہے ،اس کی جگہ کارخانے دار اب ٹاٹری استعمال کرنے لگے ہیں ،یہ صحتکے لیے بہت مضر چیز ہے)۔

ان چٹور گاہوں کی جدید ترین شکل ’’فوڈ اسٹریٹ ‘‘ ہے جو تیزی سے ترقی کررہی ہے،برنس روڈ تو ہے ہی ایک فوڈ اسٹریٹ،اب بہادر آباد،ناظم آباد ،ناظم آباد چورنگی، سوک سینٹر گلشنِ اقبال،حیدرآباد کالونی،کلفٹن بوٹ بیسن، فیڈرل بی ایریا،کے علاوہ کراچی کے تمام دیگر علاقوں میں یہ فوڈ اسٹریٹس قائم ہوچکی ہیں اور کراچی والے اب شام کا کھانا کھانے کے لیے زیادہ تر انہی مراکزکا رخ کرتے ہیں ۔

غیر ملکی پیزا اور برگر کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔نئی فوڈ اسٹریٹ مائی کولاچی برج کے نیچے نیٹی جیٹی پُل کے قریب وجود میں آئی ہے، جہاں انواع و اقسام کا کھانا دنیا بھر کے برانڈز کے ساتھ آپ کو حاصل ہو جاتا ہے ،قیمت ذرا زیادہ ہوتی ہے مگر جو سامان پیش کیا جاتا ہے اس کے مقابلے میں زیادہ نہیں۔انہوں نے کار پارکنگ کے مسئلے کو بھی بڑی خوبصورتی سے حل کردیا ہے جو واقعی کراچی والوں کے لیے سب سے بڑا دردِ سر ہے۔