بلاگ معلومات

کامیابی کے لیے بس۔۔ 14مہینے

میلکم گلیڈ ویل کی ایک کتاب جس کا نام Tipping pointہے ۔یہ ایسی کتاب ہے جو پچھلے چند سالوں سے مارکیٹ میں بیسٹ سیلر ہے اور ہر لکھنے پڑھنے والے کی میز پر تبادلۂ خیال کے لیے موجود ہے۔بڑی دنیا نے اس پر بحث کی اور بہت سارے لوگ اس کتاب کے الفاظ اور فلسفے کو مختلف پروگراموں میں نقل کرتے ہیں ۔اس کتاب کی اصل وجہ ،کامیابی کا وہ انوکھا تصور اور معیار ہے جو فاضل مصنف نے اس کتاب میں پیش کیا ہے۔میلکم گلیڈویل کا کہنا ہے میں نے ہزاروں سال کی سوانح حیات اور آپ بیتیوں کو پڑھا ۔کاروبار ، سیاست ، کھیل اور لیڈرشپ کے شعبوں پر تحقیق کی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ دنیا میں کوئی بھی انسان اپنے شعبے میں10 ہزار خالص گھنٹے خرچ کئے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔

آپ کو سینکڑوں لوگ ایسے ملیں گے جو پچیس ، تیس سال کی نوکری کے بعد ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں لیکن اپنے کام میں برینڈ نہیں بنے ہوتے،حالانکہ یہ ایک لمبا عرصہ ہے۔ دس ہزار گھنٹوں کو اگر ہم سالوں پر تقسیم کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ 13.9 یعنی چودہ مہینے بنتے ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ زندگی کے 14مہینے اگر آپ نے خالصتاً ایک کام پر لگائے ہیں تو آپ کامیاب او ر قابل شخصیت ہیں ۔میلکم گلڈ ویل بھی کہتا ہے کہ غیر معمولی بننے کے لیے آپ کو سوا سال کا عرصہ چاہیے ۔

پچیس ،تیس سال کی نوکری میں انسان نے اگر چودہ مہینے خالصتاً اسی کام پر نہیں لگائے تو وہ غیر معمولی نہیں بن سکتااور آپ کو ایسے سینکڑوں ہزاروں لوگ ملیں گے جو کسی ایک شعبے کے ماہر نہیں ہیں ۔انسان روز 8گھنٹے ڈیوٹی کرتا ہے اور اس میں اگرایک گھنٹہ بھی اپنے اوپر لگاکر محنت شروع کرے تو یہ محنت جمع ہوتی جائے گی اور جس دن دس ہزار گھنٹے پورے ہو جائیں گے، اسی دِن وہ غیر معمولی بن جائے گا۔

گلیڈ ویل کے بارے میں اگر آپ تحقیق کریں تو آپ کومعلوم ہوگا کہ اس کی شہرت کی وجہ ہی ’’ڈیٹا‘‘ ہے ۔وہ کہتا ہے کہ دنیا میں آج کسی بھی چیز کو ڈھونڈنااور اس کے بارے میں ریسرچ کرنا بہت آسان ہوگیا ہے کیونکہ ساری چیزیں ڈیٹا پر چلی گئی ہیں ۔وہ کہتا ہے کہ یہ دنیا کا واحددور ہے جس میں ہم انفارمیشن اور معلومات کی گہرائیوں میں جاچکے ہیں ۔ہمیں یہاں تک معلوم ہوگیا ہے کہ سب سے زیادہ بچے اگست میں جبکہ سب سے کم فروری میں پیدا ہوتے ہیں .اسی طرح یہ بھی تحقیق ہوچکی ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ قاتل نومبر کے مہینے میں پیدا ہوئے ہیں ۔

میلکم گلیڈویل کی اس تمام تر تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ آج کے دور میں جب ہمیں ہر ایک چیز کے بارے میں اتنی واضح او ر کثیر معلوما ت مل چکی ہیں تو پھریہ بات ڈھونڈنا کہ’’ انسان کامیاب اور غیر معمولی کب بنتا ہے ؟‘‘ کوئی مشکل بات نہیں رہی ۔یہ تب مشکل تھا جب دنیا ہر چیز کو ’’قسمت کا چکر ‘‘ سمجھتی تھی جبکہ آج ہم نمبروں ، ڈیٹا اوردرست تجزیوں تک پہنچ چکے ہیں اور ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جو کسی عام سے انسان کو اٹھاتی ہے اور اس کو’’ خاص‘‘ بنادیتی ہے ،جو ایک شخص کو دوسروں سے منفرد کردیتی ہے ، جو آپ کو آج سے دس سال بعد ایک برینڈ کے نام سے مشہور کرواسکتی ہے ۔

ہم نے برینڈ فقط مادی چیزوں یعنی کھانے پینے ،کپڑوں اور جوتوں کو سمجھ لیاہے حالانکہ چیزیں برینڈ نہیں ہوتی بلکہ انسان برینڈ ہوتے ہیں ۔عبد الستار ایدھی کا نام کون نہیں جانتا ، وہ کون تھے ؟ایک برینڈ تھے ۔نیلسن منڈیلا ،ایک برینڈ تھے ۔ٹیپو سلطان ، ایک برینڈ تھے۔حضرت عمر فاروق ؓ ایک برینڈ تھے کہ دنیا کا سارا عدل ایک طرف اور آپ کا عدل و انصاف ایک طرف ۔

انسان جب اپنی قابلیت اور اہلیت کے بل بوتے پر برینڈ بن جائے تو یہ اصل کامیابی ہے۔ شہرت کو ہم برینڈ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ قابلیت یا اہلیت کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ ہوسکتا ہے کہ ایک انسان مشہور بہت ہو لیکن لوگ دِل سے اس کی عزت نہ کرتے ہوں۔برینڈ کا مطلب ہے کہ آپ کا نام سن کر لوگوں کے دِلوں میں آپ کے لیے اچھے احساسات بھی آتے ہوں۔ اسٹیوجابز ،ایک برینڈ ہے اور اس کی قابلیت اور اہلیت کا معیار یہ تھا کہ جب اس کی ٹیم اس کے پاس ایپل موبائل بنا کر لائی تو اس نے موبائل کو سامنے رکھے پانی کے گلاس میں ڈال دیا۔پانی سے بلبلے نکلے تو اس نے کہا یہ لے جاؤ ،اس کو مزید بھی سمارٹ کرواور بہتر کرو ،کیونکہ اس میں بہتری کی بہت گنجائش اب بھی موجود ہے ۔یہ وہ اعتماد ہوتا ہے جو فقط قابلیت میں دکھائی دیتا ہے کہ ایک لمبا عرصا تحقیق کے بعد بننے والے پراڈکٹ کووہ پانی کے گلاس میں پھینک رہا ہے ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ایپل موبائل دنیا کا سب سے اسمارٹ اور شاندار موبائل ہے۔

ہمارا ٹارگٹ اور مقصد بھی یہ ہونا چاہیے کہ اپنے کام اور شعبے میں خود کو برینڈ بنائیں کہ کل کو جو بھی انسان اس شعبے کا نام لے تو فقط آپ کا ہی نام لوگوں کے ذہن میں آئے۔یہ چیز ہمیں تعلیمی اداروں میں نہیں سکھائی جاتی مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ۔ہم میں سے ہر شخص کامیاب بننا چاہتا ہے لیکن یہ بات یادرکھیں کہ کا میابی راتوں رات نہیں ملتی بلکہ اس پہاڑی کو سر کرنے کے لیے آپ کو ایک منظم راستے اورطریقہ کار کے مطابق سفر شروع کرنا ہوگااور وہ طریقہ کار یہ ہے کہ آپ جس کسی بھی شعبے یا کام میں خود کو برینڈ منوانا چاہتے ہیں اس کو اپنی محنت کے ایک ہزار گھنٹے دیجیے ۔جلدبازی کی کوئی ضرورت نہیں ،آج ہی سے شروع کریں اور صرف ایک چیز کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں ،استقامت ،کیونکہ استقامت میں کرامت ہے اور یہ کرامت کامیابی کی رُوپ میں آپ کے قدم چوم سکتی ہے ۔بس ۔۔ہمت کرنے کی دیر ہے!