اسلام معلومات

کالا جادو سفلی عمل

کالا جادو ایک ایسا سفلی عمل ہے جو ارواحِ خبیثہ یا شیاطین کی استعانت اور ناجائز طریقے سے کسی کو نقصان پہنچانے کے لیئے استعمال کیا جائے۔ سحر برحق ہے اور اس کے عجیب و غریب اثرات سحر زدہ شخص میں ظاہر ہوتے ہیں۔ کالے جادو سے متاثرہ شخص شدید توہمات میں گِھر جاتا ہے، بعض صورتوں میں وہ سخت بیمار رہتا ہے اور اسے علاج معالجے سے بھی کوئی شفاء نہیں ہوتی البتہ اس کا روحانی علاج کرانا درست عمل ہے۔کالے علم کے عاملوں کو کالے علم کے لئے بعض اشیاء آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں جیسے • کالے بکرے کا سر • کالی مرغی کے انڈے • مردہ بکرے کی کلیجی • انسانی ہڈیاں • خواتین کے ایسے بال جو سر میں کنگھی کرنے کے دوران ٹوٹے ہوں • مُردوں کے کفن کا ٹکڑا • نومولود مردہ بچوں کے جسم۔

خواتین کے بال خریدنے کے لیئے جہاں اِن عاملوں کے کارندے بیوپاری موجود ہیں وہیں انسانی ہڈیاں اور کفن کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیئے قبرستان کے گورکنوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو تازہ دفن کی گئی لاشوں سے انسانی ہڈیاں اور کفن کا ٹکڑا منہ مانگی قیمت پر اِن عاملوں کے ہاتھ فروخت کرنے کے دھندہ میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

آج سے چند برس قبل تک گھر کے بوڑھے بزرگ خواتین کے سر کے بالوں اور کٹے ہوئے ناخنوں کو سرعام پھینکنا نحوست کی علامت سمجھتے تھے۔اس لیئے وہ اس بات کی سختی سے تاکید کرتے کہ بالوں اور ناخنوں کو پھینکنے کی بجائے کسی مناسب جگہ پر دفن کر دینا چاہئے۔ ماضی میں بزرگوں کی باتیں کافی اثر رکھتی تھیں یہاں تک کہ قصائی بھی بڑی ہڈی سے گوشت صاف کرکے اسے پھینکنے سے پہلے بغداد مار کر توڑ دیتے تھے۔ جب اِن سے پوچھا جاتا کہ آپ ہڈی سے گوشت صاف کرکے اسے توڑ کر کیوں پھینک دیتے ہیں تو جواب ملتا کہ باپ دادا کی روایت ہے کہ ثابت ہڈی سفلی عمل (کالا جادو) کرنے والوں کے کام آتی ہے لیکن موجودہ دور میں اِن باتوں پر بالکل بھی دھیان نہیں دیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین کی لاپرواہی کی وجہ سے اُن کے سر کے بال کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں پر پہنچ کر ایسے انسانیت دشمن لوگوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جو شیطان کے چیلے کہلاتے ہیں۔ کتنا افسوسناک امر ہے کہ ایک عورت کی لاشعوری کے باعث جب یہ بال سفلی عمل کرنے والوں کے ہاتھ لگتے ہیں تو وہ اِن بالوں کے ذریعے جادو کرکے کتنے معصوم انسانوں کو اذیت میں مبتلا کرتے ہوں گے اور یقینا اس کا اثر اُن خواتین پر بھی پڑتا ہوگا جن کے بال اس شیطانی کام میں استعمال ہوتے ہیں۔

دینِ اسلام میں جادو کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اسے سیکھنے اور سیکھانے والا دونوں دوزخی ہیں کیونکہ یہ بندے کو اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام سے دور کرتا ہے۔ جادو کی بنیاد چونکہ گندگی ہوتی ہے اس لیئے اسے سیکھنے کیلئے سب سے پہلے اپنا ایمان فروخت کرنا پڑتا ہے پھر ہر وہ کام کرنا پڑتا ہے جو بندے کو گناہ کی تاریکیوں میں گم کر دے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جادو بڑی حقیقت ہے لیکن یہ انسان کا دشمن ہوتا ہے۔اس کی کاٹ بڑی خطرناک ہوتی ہے البتہ قرآنی تعلیمات کے ذریعے اس کے اثر کو زائل کیا جا سکتا ہے۔

جادو کی حقیقت قرآن میں موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعہ میں بھی موجود ہے جبکہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی جادو ہوا اور اس کا اثر بھی ظاہر ہوا تھا۔بخاری شریف کی روایت کے اعتبار سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جادو کی اعلیٰ قسم کا شکار ہوئے۔ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام معوذتین لے کر حاضر ہوئے اور فرمایا کہ ایک یہودی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا ہے اور یہ جادو ایک کنویں میں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوایا، یہ ایک کنگھی کے دندانوں اور بالوں کے ساتھ ایک تانت کے اندر گیارہ گرہیں پڑی ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں۔جبرائیل علیہ السلام کے بتانے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معوذتین پڑھتے جاتے تو گرہ کھلتی جاتی اور سوئی نکلتی جاتی۔ معوذتین کے اختتام تک ساری گرہیں بھی کھل گئیں اور سوئیاں بھی نکل گئیں اور آپۖ اس طرح صحیح ہو گئے جیسے کوئی شخص جکڑبندی سے آزاد ہو جائے۔ دینِ اسلام نے جادو کے توڑ کیلئے جو روحانی علاج بتایا ہے وہ مْعَوِّذَتَیْن کا پڑھنا ہے۔

قرآن مجید کی آخری دو سورتوں سورة الناس اور سورة الفلق کو مشترکہ طور پر معوذتین کہا جاتا ہے۔ اگرچہ قرآن مجید کی یہ آخری دو سورتیں بجائے خود الگ الگ ہیں اور مصحف میں الگ ناموں ہی سے لکھی ہوئی ہیں لیکن ان کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق ہے اور ان کے مضامین ایک دوسرے سے اتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترک نام معوذتین (پناہ مانگنے والی سورتیں) رکھا گیا ہے۔

امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے دلائل نبوت میں لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہی ہوئی ہیں اسی وجہ سے دونوں کا مجموعی نام معوذتین ہے۔ یہ دونوں سورتیں دراصل جادو اور بعض دوسرے شرور سے خدا کی پناہ حاصل کرنے کی دعا ہیں۔ اگر پورے یقین کے ساتھ پڑھی جائیں تو ان سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں ہے۔ علمائے کرام بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی پر سحر کر دیا گیا ہو تو وہ یہ دونوں سورتیں خود بھی پڑھ سکتا ہے اور کسی مسلمان عالم باعمل سے علاج بھی کرا سکتا ہے۔ جادو ایک فریب، کھلا شرک اور اپنی ناجائز خواہشات کو شیطانی عمل کے ذریعے حاصل کرنے کا آسان اور فوری راستہ ہے۔ اس راستے پر چل کر آدمی دین اور دنیا دونوں گنواں بیٹھتا ہے۔ موجودہ دور میں تو لوگوں نے اسے پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ سادہ لوح لوگ بہت آسانی سے جعلی عاملوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں اور کئی بار اپنی قیمتی دولت اور عزت سے ہاتھ گنوا بیٹھتے ہیں البتہ ایک بڑی تعداد میں کالے علم کے ماہر بھی موجود ہیں۔ یاد رہے کہ جادو کرنے والا اور جادو کرانے والا دونوں دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں

جادو دین میں ہلاکت لانے والے کئی امور کا جامع ہے مثلا جنّوں اور شیطانوں سے مدد طلب کرنا ، غیر اللہ سے دل کا ڈرنا ، اللہ پر توکل کو چھوڑ بیٹھنا اور لوگوں کے مفادات و ذرائع معاش کو تباہ کرنے کے درپے ہونا وغیرہ۔ جادو معاشرے کی جڑیں کاٹنے اور اس کی بنیادیں گرانے والا آلہ ہے اور یہ خاندانوں میں جھگڑے و فسادات پیدا کرنے کا سبب بھی ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے :” سات مہلک چیزوں سے اجتناب کرو ” ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہ کون کونسی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : • اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرنا ۔ • جادو • اس شخص کو قتل کرنا جس کی جان کو ناحق مارنا اللہ نے حرام کر رکھا ہے ۔ • سود خوری کرنا ۔ • یتیم کا مال کھا جانا ۔ • جنگ کے دن ( میدان سے ) پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلنا ۔
• اور بھولی بھالی پاکدامن و بے قصور عورتوں پر تہمت و بہتان لگانا "۔ (متفق علیہ)

جادوگر اور شیطان: شیطان جادو گر کو بھڑکاتا ہے تاکہ وہ جادو کرے اور اللہ کے بندوں کو اذیت و تکلیف پہنچائے چنانچہ اسی سلسلہ میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے :” وہ ان سے وہ ( جادو ) سیکھتے ہیں جس کے ذریعے وہ میاں بیوی کے مابین تفریق و علیحدگی پیدا کر دیتے ہیں۔ “ البقرہ ۱۰۲ ۔۔اسی طرح ارشاد الہی ہے :” وہ ایسی چیز ( جادو ) سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان ہی پہنچاتا ہے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا "۔ البقرہ ۱۰۲

جادو اذن الہی کے تابع : ہر جادو مسحور پر اثر انداز نہیں ہوتا کتنے ہی جادو گر ہیں کہ انہوں نے اپنی طرف سے کسی پر جادو کا بھرپور وار کیا مگر اس پر ان کے جادو کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔ارشاد الہی ہے :” وہ کسی کو اس ( جادو ) کے ذریعے نقصان نہیں دے سکتے سوائے اللہ کے حکم کے۔ البقرہ ۱۰۲

ہارون مختار