معلومات

کائنات کتنی بڑی ہے

کاینات کتنی بڑی ہے اکیسوی صدی کی اس ماڈرن زمانے میں بھی اگر اپ سے پوچا جایے کہ اپ کا گھر یا اک فٹبال کا گراونڈ کتنا بڑا ہے تو اپ آسانی کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ اسکی لمبایی چوڑایی کتنی ہے لکن جب بات کاینات کی اتی ہے تو پھر یہ تصور کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔کاینات کو سمجھنے کیلیے ہم شروع کرتے ہیں ہماری زمین سے جسکا لینتھ چالیس ہزار کلو میٹر ہے جس سے اپ اندازا لگا سکتے ہیں کہ ہم عام انسانوں کیلئے یہ فاصلہ کتنا زیادہ ہے لکن جو زمین انسانوں کیلیے اتنی بڑی ہے وہ کاینات کے مقابلے میں کتنی چھوٹی ہے اس کیلیے ہم شروعات کرتے ہیں اپنے قدرتی سیٹیلاییٹ چاند سے جو زمین سے دکھنے میں بہت قریب لگتا ہے لکن اصل میں یہ اتنا بھی نزدیک نہیں ہے جتنا ہم سوچ رہیں ہے، چاند زمین سے 3 لاکھ 84 ہزار کلو میٹر دور ہے اور روشنی کو بھی وہا سے زمین پر آنے میں 1 عشاریہ 3 سیکینڈ لگتے ہی۔

روشنی اس کاینات کی سب سے تیز ترین چیز ہے جسکی رفتار کا مقابلہ کوئی نھیں کرسکتا آپ یوں سمجھ لیں کہ روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد سات چکر لگا سکتی ہے اس بات سے آپ کو اندازا ھوگیا ہوگا کہ روشنی کی رفتار کتنی زیادہ ہے۔تو اب اتے ہیں واپس چاند کی طرف جسکا فاصلہ زمین سے اتنا زیادہ ہے کہ چاند اور زمین کے درمیان میں 30 اور زمینیں فٹ ہوسکتی ہے لکن ایک منٹ یہ فاصلہ تو کچھ بھی نہیں ہے اگر ہم زمین کے پڑوسی سیارے مریخ کی بات کریں تو اسکا فاصلہ زمین سے 200 میلین اور 75 کلو میٹر ہے اور روشنی کو بھی وہا سے زمین پر آنے میں بیس منٹ لگتے ہیں۔ انسان کے ہاتھوں بنایا گیا وایجر ون نامی جہاز اب تک کاینات میں سب سے زیادہ دور ٹریول کرچکا ہے اور اسکا زمین سے فاصلہ 141 اسٹرونومیکل یونٹ ہے۔ ایک اسٹرونومیکل یونٹ زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کو کہتے ہیں جسکا مطلب یہ کہ وایجر ون زمین اور سورج کے آپسی فاصلے سے 141 گناہ زیادہ دور ہے۔ اس جہاز نے جاتے ہوئے زمین کی دور سے ایک تصویر بھی کھینچی تھی جسے آپ انٹرنیٹ سے بااسانی دیکھ سکتے ہو جس میں زمین ایک ڈاٹ یا نقطے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔

وایجر ون خلاء میں 17 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے جارہا ہے جوکہ سننے مین بہت تیز ہے لیکن اگر اسی رفتار سے یہ چلتا رہا تو آنے والے 33 ہزار سال میں بھی یہ ہماری کہکشاں سے نہیں نکل پائے گا کیونکہ ہماری کہکشاں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک روشنی کہ بھی جانے میں ایک لاکھ سال لگتے ہیں۔ ستاروں کی اگر بات کی جائے تو ہمارا سب سے قریبی ستارہ پراکسیماسینٹوری ہے جیسکا فاصلہ زمین سے 4 نوری سال ہے مطلب روشنی کو زمین سے وہاں تک پہنچنے میں 4 سال لگتے ہیں لکن اگر اسی رفتار سے وایجر ون نامی جہاز اس ستارے کی طرف بڑھتا رہاں تو تقریبا 70000 ہزار سال بعد یہ وہاں تک پہنچ جائے گا۔

یہ فاصلے تو کچھ بھی نہیں اگر ہم اپنی کہکشاں کی بات کرے تو ہماری کہکشاں میں 200 کروڑ تک ستارے ہیں اور ہر ستارے کے گرد کوئی نہ کوئی سیارہ ضرور چکر کاٹ رہاں ہے لیکن رکئے یہ تو کاینات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے اگر آپ ہماری کہکشاں سے باہر جھانکے تو اپ کو ہماری پڑوسی کہکشاں نظر آئے گی جو ہماری اپنی کہکشاں سے دگنی بڑی ہے لیکن اگر آپ مزید اس سے بھی باہر جھانکے تو آپ کو ملے گا لوکل گروپ اف گیلیکسیز جس میں ہماری کہکشاں کی طرح 54 گیلیکسیز موجود ہے لیکن اگر آپ مزید جھانک کر دیکھے گے تو اپ کو ملے گا ورگوں کلسٹر جس میں کہکشاؤں کے 100 سے زیاہ گروپ موجود ہیں اور یہ کلسٹر 11 کروڑ نوری سال تک پھیلا ہوا ہے لیکن کاینات تو اس سے بھی بڑی ہے اگر آپ کاینات کو مزید زوم آوٹ کریں گے تو آپ کو ملے گا لینکیا سپر کلسٹر جس میں ورگو کلسٹر ایک ڈسٹ پارٹیکل جتنا ہے اور یہ 55 کروڑ نوری سال تک پھیلا ہو ہے مگر رکئے ایک بار پھر کاینات کو زوم آوٹ کریں تو آپ کو ملے گا دی ابزرویبل یونیورس جس کے مقابلے میں لینکیا سپر کلسٹر ایک ریت کے دانے سے بھی چوٹا ہے اور یہ وہ کاینات کا وہ کل حصہ ہے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں جسکا ہم نے ابھی تک مشاہدہ کیا ہے یہ تو صرف وہ کاینات ہے جسکے بارے میں ہم جانتے ہیں باقی کائنات سے ہم لاعلم ہے کہ وہ کیسی ہوگی۔ کاینات کے بارے میں ہم جتنا جانتے ہیں وہ بہت کم ہے جبکہ باقی کاینات کو ہم نہیں جانتے۔

زمین جس پر میں اور آپ موجود ہے کو کاینات کا سنٹر قرار دیا جاتا ہے جوکہ حقیقت نہیں ہے لیکن زمین کو مرکز میں رکھتے ہوئے قابل مشاہدہ کاینات 9 ہزار 300 کروڑ نوری سال تک پھیلا ہوا ہے۔ جس کاینات کی ہم نے بات کی وہ صرف قابل مشاہدہ کاینات ہے اس کاینات سے آگے کیا ہے یہ ہم نہیں جانتے۔ہماری کاینات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک کو ہم ابزرویبل یونیورس کہتے ہیں یہ کاینات کا وہ حصہ ہے جسے ہم جانتے ہیں اور دوسرا نان ابزرویبل یونیورس ہے جو کاینات کا وہ حصہ ہے جسے ہم نہیں جانتے یہ بلکل ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کسی بلڈنگ پر کھڑا ہوکر اپنے آس پاس سب کچھ دیکھ سکتا ہے جو اسے نظر اتا ہے لیکن اسکا یہ مطلب بلکل نہیں کہ آگے مزید کچھ نھیں ہے بلکہ آگے بھی بہت کچھ ہے لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے وہ ہماری پہنچ سے دور ہے دوسری طرف اینفلیشن کی تھیوری کے حساب سے زمین ابزرویبل کاینات کے مقابلے میں اتنی ہی چھوتی ہے جتنی ایک وائرس ہماری کہکشاں کے مقابلے میں چھوٹا ہے۔

ہماری زمین کو قابل مشاہدہ کاینات کا مرکز قرار دیا گیا ہے اسلئے ہمارے ارد گرد موجود قابل مشاہدہ کاینات کا پھیلاوں 46 بیلین نوری سال ہے بات رہی نان ابزرویبل کاینات کی تو اسکے بارے میں ابھی تک ہم نہیں جان پائے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم کاینات کو مزید کھوجے گے اور مزید راز ہم پر آشکارا ہونگے۔ یہ بس ایک چھوٹی سی کوشش تھی آپکوں کاینات کے بارے میں بتانے کی کہ ہماری کاینات کتنی بڑی ہے امید یہی کی جاتی ہے کہ اس کوشش سے آپ کو کائنات کے بارے میں کافی کچھ سیکھنے کو ملا ہوگا۔