ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

کیلاش کہانی

یہ میری آوارہ گردی کی چاہ اور کیلاش کی پریاں دیکھنے کی شدید خواہش ہی تھی جو مُجھے مئی کی تپتی گرمی میں لاہور سے اُٹھا کر ھِندوکش کے دامن میں آباد کافروں کے دیس وادئ کیلاش تک لے گئ۔ وہ کہتے ہیں نا کہ کبھی کبھی منزِل سے بہتر راستے لگتےھیں بس سمجھو کہ ہمارا حال بِھی کُچھ ایسا ھی تھا۔

لاہور سے راولپِنڈی/اِسلام آباد تک ہمارارات کا سفر موٹروے M2 پہ تھا، جو سب نے اُونچے سُرلگا کر گُزار دیا۔ بِھر شروع ھوئ M1 جِس کے خُوب صورت مناظِر نے سارے گروپ کو چُپ کروا دیا۔ صوابی، مردان اور مالاکنڈ کے اضلاع سے ہوتے ہُوۓ ہم لوئر دیر میں داخِل ہُوۓ۔ریاست دیر ایک نوابی ریاست ہوتی تھی جو اب دیر زیریں اور دیر بالا میں تقسیم ہو چُکی ہے۔اس پر نوابوں کا راج ہوا کرتا تھا ۔ برطانوی راج کے وقت اسے اس کے وارثوں کے سپرد کیا گیا تھا اور قریب ایک صدی سے زیادہ نوابوں کا محکوم رہا۔ پھر جب یہ پاکستان کے ساتھ مل گئ تو اسے 1970ء ميں مالاکنڈ ڈويژن ميں ضم کر دياگيا۔ لوئرديرکو اگست 1996ء ميں اپر دیر سے علیحدہ کر کہ مالاکنڈ ڈويژن کے ايک عليحدہ ضلع کی حيثيت دی گئ۔

دیر لوئر اور دیر بالا دونوں کا شُمار پاکِستان کے حسین ترین قُدرتی عِلاقوں میں ہوتا ہے۔ دیر لوئر میں ہم چکدرہ، تیمرگرہ، خال اور رباط سے ہو کر دیر بالا کی حدود میں داخِل ہُوۓ۔ یہاں ہم واڑی سے ہوتے ہُوے دیر شہر پہنچے۔ دیر کی ساری وادی میں ہمارا ساتھی “دریاۓ پنجکوڑہ” تھا۔ یہ دریا اِس وادی کی شاہ رگ ہے۔ دریا کے ساتھ ساتھ چلتی سڑک صاف سُتھری اور پُختہ ہے۔ دیر پہنچ کر سب نے کھانا کھایا اور کُچھ دیر بعد ایک خُوبصورت پہاڑ کی چوٹی پہ بنے پارک کا رُخ کیا۔ اِس پارک سے ہِندوکش کے پہاڑوں کا ایسا “وحشی” نٖظارہ تھا کہ جِس کے لیۓ فیضؔ کا یہ شعر ہی کافی ہے۔۔۔

؏ اِک نام کی اُڑتی خوشبو میں اِک خواب سفر میں رہتا ہے
اِک بستی آنکھیں ملتی ہے اِک شہر نٖظر میں رہتا ہے

گروپ لیڈر مسٹرعلی کی طرف سے یہ آرڈر تھا کہ صُبح 5 بجے ہم نے دیر سے کُوچ کرنا ہے کیونکہ آگے “لواری ٹاپ” ہمارا مُنتظر ہے۔ دور افتادہ پہاڑی ضلعے چترال کے عوام کے لیے موسم سرما میں ’لائف لائن‘ کی حیثیت رکھنے والی ملک کے سب سے بڑی سُرنگ “لواری ٹںل” پر کام کا آغاز 2005 میں پرویز مُشرف کے دور میں ہُوا۔ یہ سُرنگ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال اور ضلع دیر کے درمیان درہ لواری میں پہاڑوں کے نیچے سے گذرتی ہے اور پاکستان کی سب سے بڑی لیکن ادھوری سُرنگ ہے۔
لواری ٹنل سے گُزرنے کی تو حسرت ہی رہ گٰئ لیکن اسی بہانے دیر چترال روڈ کے ذریعے لواری پاس دیکھ لیا۔ دیر چِترال روڑ پہ سفر میری زِندگی کا ایک یادگار تجُربہ تھا۔کسی لمبے اژدہے کی طرح بل کھاتی یہ روڈ دُنیا کی 5 مشکل ترین سڑک ہے۔ اور کیوں نا ہو، ہِندوکش کے سخت اور گرینائٹ کے پہاڑوں ک درمیان پیچ و خم کھاتی یہ سڑک آپ کا تعلُق اپنے رَب سے قائم رکھتی ہے۔ اِس کے لیے ایک شعر عرض ہے

تیرے پنڈ دی کچی سڑکاں توں
میں موٹروے قُربان کراں

لواری ٹاپ سے ہو کہ ہم ضلع چترال میں داخل یوتے ہیں جہاں کا سب سے پہلا شہر یا قصبہ “میرکھنی”ہے، یہ ہی وہ شہر ہے جہاں سے دریائے کُنار( اِسے کُنہار مت سمجھیئے گا) ہمارا اِستقبال کرتا ہے۔ دریائے کنار کو دریائے چترال یا کاما بھی کہا جاتا یے اور “گولن گول پاور پروجیکٹ” اِسی دریا پر بنایا جا رہا ہے۔ اِس سے آگے “دروش” ہے اور اِس جگہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ واحد سیٹ جو مشرف کی جماعت “آل پاکِستان مُسلم لیگ” نے جیتی ہے(32-NA) وہ اِسی علاقے کی ہے۔ اِس سے آگے “ایون” نامی شیر ہے جہاں سے ہمیں بس سے ایک چھوٹی ویگن میں ٹھونسا گیا۔ پِھر انش، بتریک اور کراکل سے ہوتے ہُوئے ہم اپنی منزِل “بمبوریت” پینچے۔ کیلاش اصل میں ایک وادی ہے جِس میں بپبوریت کے علاوہ بریر اور رومبر شامِل ہیں۔

ایون سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ہم بمبوریت پہنچے۔ “بمبوریت”،جہاں کہ ایک ہوٹل کے سرسبز لان میں ہم نے اپنے خیمے گاڑے تھے، کیلاش وادی کا سب سے بڑا گائوں ہے اور چِلم جوشی کا مرکزی تہوار یہیں پہ یوتا ہے۔کافرستان کی بارہ ہزار کی آبادی میں “کالاش قبیلے” کی آبادی صِرف تین سے ساڑھے تین ہزار ہے۔اِن لوگوں کا کوئی مزہب یا دین نہیں ہے تبھی یہ “کافِر: کہلاتے ہیں۔

شام کو ایک جگہ سے گزرتے ہوُئے ایک خوبصورت پُل پہ نظر پڑی،سوچا کے آگے جا کہ دیکھ لیا جائے۔ پُل کے بیچ میں پہنچ کہ مُجھے محسوس ہُوا کے اِس سے آگے درختوں کے جُھنڈ میں جو خوفناک سی جگہ ہے، ہو نا ہو ضرور یہ کیلاش کا قبرستان ہے۔ میں فاروق بھائی کو لے کہ چل پڑا۔ پُل سے آگے ایک چھوٹا سا تنگ سا راستہ تھا جیسے ہی وہ راستہ ختم ہُوا ایک پُراِسرار سا فِلمی سین ہمارا مُنتظِر تھا۔ میرا شک ٹھیک تھا یہ کیلاش قبائل کا قدیم و مشہور قبرستان تھا۔
کیلاش قوم اپنے مردوں کو دفناتی نہیں تھی بلکہ یہ لوگ اُسےایک کھلے تابوت کی صورت میں قبرستان میں رکھ آتے تھے،اور بعد میں اُسے جانور نوچ کھاتے تھے، میں نے بھی ان تابوتوں کو دیکھا، بعض میں تو اس وقت بھی ٹانگ، کُولہے اور بازو کی ہڈیاں پڑی نظر آئیں، قبرستان میں ہر طرف تابوت ہی تابوت نظر آتے ہیں ۔
رُوح پیاسی کہاں سے آتی ہے

یہ اُداسی کہاں سے آتی ہے

حلیم بابا(بمبوریت میں ایک چھوٹا سا ہوٹل چلاتےہیں، اِنھوں نے مُجھے بہت سی نایاب معلومات فراہم کیں  کے مُطابق پِچھلے کئی سالوں سے کیلاشی اپنے مُردے دفن کرتے آ رہے ہیں۔ جی ہاں، مُردے تابوت میں چھوڑ کہ رکھ آنے کا رِواج اب نہیں رہا۔ ہم نے اسی قبرستان میں(اور ایک دوسرے میں بھی) ایک تازہ بنی ہوئی قبر بھی دیکھی جس پر سرخ جھنڈا سا لگا ہوا تھا اور چارپائی اس کے اوپر الٹی کرکے چھوڑدی گئی تھی۔ یہ وہ چارپائی ہوتی ہے جس پہ مُردے کو رکھ کہ لایا جاتا ہے۔

کافرستان ایک مبہوت کردینے والی، منفرد اور خداداد حسن سے مالامال اور پراِسراریت کے پردوں میں لپٹی ہوئی وادی ہے، یہاں کی سب سے اچھی بات جو مُجھے لگی وہ یہ کہ یہاں کہ مُسلمان اور کافِر مِل جُل کہ رہتے ہیں، ایک دوسرے کی خوشی غمی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ یہاں کے سبز پوش پہاڑ ، بل کھاتے پانی، مکئی کے لہلاتے کھیت، خوشبوبکھیرتی فضاؤں نے مُجھے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔اور زرق برق لباس میں ملبوس کیلاشی حسینائیں، روایتی ٹوپیاں پہنی نوعمر بچیاں، دوکانوں پر کھڑی بوڑھی کیلاشی خواتین، سیاحوں کے منتظر کیلاشی مردوں کا ادھر ادھر گھومنا پھرنا یقینا دلکشی سے خالی نہیں تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے میں تن تنہا یورپ کے کسی دور افتادہ خِطے کی سیاحت کر رہا ہوں۔ مجھے کیلاش کی سڑکوں اور گلیوں سے گزرتے ہوئے کہیں پرانی طرز کے لکڑی کے گھروں کی کھڑکیوں ، کہیں دو منزلوں ،کہیں بالکونیوں سے جھانکتی سروں پر سیپیوں اور تاج والی ٹوپیاں اور گلوں میں پیلے اور نیلے کلر کی موتیوں کی مالائیں پہنے حسین دوشیزائیں دکھائی دیتی تھیں۔یہ کیلاشی زبان میں بات کرتے تھے۔ حلیم بابا سے میں نے اِن کا مخصوص سلام “اِشپاتا” سیکھ لیا تھا(اسکا مطلب ہے آپ کیسے ھیں) جو میں ہر گزرتی خاتون ، بچے اور بوڑھے کو کرتا تھا۔

پاکِستان کے ہر خِطے میں اُس کی جُغرافیائی،لِسانی اور ثقافتی رِوایات کے مُطابق الگ الگ تہوار منائے جاتے ہیں۔ چترال کی وادی کیلاش میں بہار کی آمد پر منایا جانے والا مشہورتہوار چلم جوشی بھی انہی میں سے ایک ہے۔

موسم بہار کے آتے ہی تینوں وادیوں میں چلم جوش کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں لیکن تہوار کے خاص تین دن تمام مرد و خواتین وادی بمبوریت میں جمع ہوجاتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے ” چلم جوشٹ“ بھی کہتے ہیں۔ چلم جوشی کےپہلے دن ’بیشاہ ‘ یعنی پھولوں سے گھروں کی سجاوٹ،دوسرے دن’چیرک پی پی ‘ یعنی د ودھ تقسیم کرنے کی رسم کی ادائیگی اور’گل پریک‘ یعنی نو مولود بچوں کے والدین پربعض مقامات پرجانے کی مذہبی پابندی اُٹھانے اور سوگ کے خاتمے کا اعلان کیا جاتا ہے۔

یہاں کے سادہ لوح افرادآج بھی صدیوں پرانی روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے پرانی روایات کو مذہب کی طرح اپنایا ہواہے۔اسی سبب سیاحوں کے لئے ان کی شادیاں، اموات، مہمان نوازی، میل جول، محبت مذہبی رسومات اور سالانہ تقاریب وغیرہ انتہائی دلچسی کا باعث ہیں۔ اِنہی دلچسپیوں کے باعث یہ عِلاقہ سیاحوں کے لیئے ایک جنت ہے۔چلم جوش جشن بہار اں کی تقریب ہے ۔ مقامی افراد اس تہوار کیلئے کافی پہلے سے اوربہت سی تیاریاں کرکے رکھتے ہیں۔ مئی کا مہینہ شروع ہوتے ہوتے یہاں ہر طرف سبزہ اگ آتا ہے اور چاروں طرف خُوشبو پھیل جاتی ہے۔ خوبصورت لڑکیاں رنگ برنگ لباسوں میں تِتلیاں لگ رہی ہوتی ہیں۔میں نے کیلاش جیسا حُسن پورے پاکستان میں اور کہییں نہیں دیکھا۔ گورا چٹا رنگ، لمبے گھنے بال اور غزال آنکھیں، جیسے کہہ رہی ھوں

میری آنکھیں اگر شعر سنانے لگ جائیں
تُم جوغزلیں لیئے پِھرتے ہو ٹھکانے لگ جائیں

اب آتے ہیں اِس علاقے کی ثقافت، رسم و رِواج اور رہن سہن کی طرف۔

٭کیلاشی تہزہب:
کیلاش دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے، جو بیک وقت ایک مذہب بھی ہے اور ثقافت بھی۔ اس تہذیب کے کی زبان کو کلاشہ کہا جاتا ہے۔ چترال کے پر امن ماحول میں یہ تہذیب آج بھی اپنی تمام تر رنگا رنگی کے ساتھ موجود ہے۔کیلاش کی ابتداء سے متعلق کوئی حتمی رائے نہیں یے۔کچھ انہیں آریائی اور کچھ یونانی نسل کہتے ہیں۔بعض مورخین کا خیال ہے کہ کافروں کا تعلق قدیم یونانیوں سے ہے۔ ان کی بعض عادات قدیم یونانیوں سے ملتی جلتی ہیں۔

٭ایامِ زچگی اور “بشالینی”:
حکومتِ یونان کے تعاون سے بنائی گئی یہ جگہ :بشالینی” عورتوں کے لیئے ہے۔ حلیم بابا نے بتایا کہ عورتوں کو مخصوص ایام اور زچگی کے دوران کئی کئی ہفتوں کے لئے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے۔’انہیں ناپاک مانا جاتا ہے۔ انہیں کسی چیز یا انسان کو چھونے تک کی اجازت نہیں ہوتی۔ انہیں ان ایام میں ایک مخصوص مکان میں( بشالینی) میں رکھا جاتا ہے۔ کھانا وغیرہ گھر والے ایک کھڑکی کے ذریعے اندر پہنچا دیتے ہیں۔

٭کھانا پینا:
دوردراز ممالک سے آنے والے سیاحوں کو یہاں سب سے بڑا مسئلہ کھانے پینے کا ہوتا ہے۔۔۔۔کیونکہ کیلاش کے کئی باشندے مردہ جانوروں کو بھی کھاجاتے ہیں۔۔جن میں کتے اور بلیاں بھی شامل ہیں۔۔۔اور کچھ تو ایسے بھی ہیں جو جانوروں کا کچا گوشت انتہائی رغبت سے کھاتے ہیں۔ لیک یہاں کے سب سے مشہور خوراک “لوبیا” ہے۔
کیلاش میں بسنے والوں کابنیادی ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور مویشی پالنا ہے۔۔۔اس کے علاوہ سیاحوں کے لئے رہائش گاہیں بھی کرائے پر دی جاتی ہیں۔

٭لِباس:
خواتین کے لباس میں کالے رنگ کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ کالے رنگ ک لباس پہ مختلف رنگوں سے کڑھائی کی جاتی ہے۔ چھوٹی بچیاں بھی یہی لباس پہنتی ہیں۔ یہ لباس جہاں شوخ رنگوں سے سجایا جاتا ہے وہیں سیاح اس لباس کو منہ مانگے داموں خرید ؛یتے ہیں۔ سیاحوں کے لئے یہ لباس ایسا خزانہ ہوتا ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
سر پہ “کھوپسی” پہنی جاتی ہے۔ کھو پسی کیلاش خواتین کی ایسی ٹوپی ہے جو غمی اورخوشی میں پہنی جاتی ہے، اسی ٹوپی میں پیشانی کے عین اوپر کیلاش خواتین پرندے کا رنگدار پر لگاتی ہیں۔ یہی روایت سکندر اعظم کے فوجیوں کی تھی۔ مرد شلوار قمیض کے ساتھ ایک رنگ برنگی پٹی پہنتے ہیں جو ایک شانے سے نیچے کی طرف جاتی ہے۔

٭رہن سہن:
کیلاشیوں کے گھر بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ میں انتہائی شکرگزار ہوں ڈاکٹرقُدسیہ کا جن کی بدولت میں یہ گھر اندر سے دیکھ سکا۔ لکڑی اور پتھر سے بنے یہ گھر 2 سے3 کمروں پہ محیط ہوتے ہیں۔گھر کے سب افراد ایک بڑے کمرے میں ساتھ رہتے ہیں۔کُچھ گھروں میں کچن بھی بڑے ہال نما کمرے کے بیچ میں ھاتا ہے تاکہ کمرہ گرم رہ سکے۔ کیلاش کی وادی جتنی اجلی اور روشن دکھائی دیتی ہے،یہاں کے لکڑی کے گھر اتنے ہی ملگجی اندھیرے میں ڈوبے دکھائی دیتے ہیں۔اور ان گھروں میں شیشے جیسی انگلیوں سے شوخ رنگ کپڑے بنتی کیلاشی خواتین۔کیلاش کے باشندے اپنے گھر کا ایک کونہ مخصوص کرتے ہیں اور فرض کرتے ہیں کہ یہاں پیور نامی ایک فرشتہ یا دیوتا موجود ہے۔۔۔۔جواس وقت تک خوش نہیں ہوتا۔۔جب تک اسے بھینٹ نہیں دی جاتی۔۔۔۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس کونے میں دیوتا یا فرشتے کے لئے جگہ مخصوص کی جاتی ہے وہاں صرف مرد ہی جاسکتے ہیں۔۔عورتوں اور بچوں کو جانے کی وہاں اجازت نہیں ہے۔

٭تجہیز و تکفین:
دنیا کی انوکھی ثقافت اور روایات والے قبیلے کیلاش کے باشندوں کی ایک اور عجیب و غریب روایت اس وقت سامنے آتی ہے۔۔۔جب کیلاش میں کسی کا انتقال ہوجائے۔۔۔کسی کے انتقال پر کیلاش کے باسی اپنا گھرتک لٹا دیتے ہیں۔کی تدفین میں تاخیر کرتے ہیں ۔ ان کی تمام رسومات میں سب سے زیادہ دلچسپ اور عجیب رسم ان کے مردوں کی تجہیز و تکفین ہوتی ہے ۔ چنانچہ جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو یہ لوگ اس کی لاش کے سامنے کھڑے ہوکر اس خیال سے بندوق سے فائر کرتے ہیں تاکہ کہیں لاش میں اس کی روح واپس ہی نہ لوٹ آئے ۔ اور جس گھر میں کوئی مر جائے اس گھر سے عورت ایک مہینہ تک باہر نہیں نکلتی ،اس دوران لوگ تعزیت کرنے کے لئے آتے اور جاتے ہیں ۔کیلاش کا سوگ عجیب خوشیوں اور مسرتوں کا سوگ ہوتا ہے میت کو اجتماعی ناچ گاہ “جستگھان” میں رکھ دیا جاتا ہے۔ مالدار کی وفات پر میت کو چار دن تک کمرے میں رکھ کر اس کے گرد ناچنا، گانا، ڈھول بجانا اور کھلی آزادی کے ساتھ سگریٹ وغیرہ پینا کیلاش قبیلہ کا سوگ ہے۔ رغریب کیلاش کی موت پر سوگ کا خرچہ اس کی اپنی برادری اجتماعی امداد سے برداشت کرتی ہے۔ عورت کی وفات پر مذہب کا حکم چوبیس گھنٹے کے اندر اندر لاش کی تدفین کا ہے۔
زمانۂ قدیم میں یہ لوگ اپنے مردے کی لاش کو صندوق میں ڈال کر وہاں قبرستان میں پھینک آتے تھے ، جس کی وجہ سے پوری فضا بدبودار ہوجاتی تھی اور سانس لینا انسان کے لئے دوبھر ہوجاتا تھا اور ان صندوقوں کے سرہانوں پرمرنے والوں کے مجسمے ایستادہ ہوتے تھے ، اس لئے کہ کچھ سال پہلے تک یہاں مردوں کو دفن نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی نذر آتش کیا جاتا تھا ، بلکہ جب کوئی شخص مرجاتا تو اس کی لاش ایک چار پائی پر ڈال کر قبرستان لے جاتے تھے ، جہاں پہلے سے ہی ایک صندوق تیار ہوتا تھا ، لاش کو اس صندوق میں رکھ کر اور چند ایک رسومات ادا کرلینے کے بعد اس کا ڈھکن بند کردیتے تھے اور پھر اس صندوق اورچارپائی کو وہیں چھوڑ کر تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس ہوجاتے تھے ، البتہ اب وہاں باقاعدہ مردوں کو دفن کیا جاتا ہے تاہم باقی رسمیں وہی پرانی ہیں۔

زبان، رقص:
کیلاش کے باسی کیلاشی زبان بولتے ہیں۔ یہ زبان ’’دری‘‘ زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ جس طرح کیلاش کے قبیلے کے تانے بانے مختلف اقوام سے جوڑے جاتے ہیں اسی طرح کیلاشی زبان کے بارے میں بھی آج تک کوئی حتمی رائے سامنے نہیں آئی ہے۔لسانیات کے ماہر رچرڈ اسٹرانڈ کا کہنا ہے کہ کیلاش کے باسیوں نے یہ نام قدیم کافرستان سے مستعار لیا ہے۔
ایک اور حوالے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کیلاش کا نام دراصل ’’کاسوو‘‘ تھا ۔۔جو کہ بعد میں ’’کاسیو‘‘ استعمال ہونے لگا۔۔۔’’کاسیو ‘‘ نام نورستان کے قبائل نے یہاں آباد قبائل کے لئے مخصوص کر رکھا تھا۔۔۔آنے والے ادوار میں یہ ’’کاسیو‘‘ نام ’’کالاسایو‘‘ بنا اور پھررفتہ رفتہ ’’کالاسہ ‘‘ اور پھر ’’کالاشہ‘‘ اور اب ’’کیلاش‘‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔
رقص کو یہاں خاص اہمیت حاصل یے۔ نہ صرف خوشی بلکہ کیلاشی غم کے موقع پہ بھی رقص کرتے ھیں، یہ بہار کا استقبال بھی رقص اور روایتی گیتوں سے کرتے ہیں۔ وہ میلا دیکھنے والو ں کو بھی رقص کرنے کے لیے کھینچ لیتے ہیں۔ یہ مشرقی یورپ کا روایتی رقص لگتا ہے، جس میں رقص کرنے والے ساتھیوں کو کندھوں یا کمر سے پکڑ کر صرف پیروں کو ہلایا جاتا ہے۔ رقص اور موسیقی کا

کالاش تور:
کالاش تور یا دور کیلاش کے نام سے یہاں ایک خوبصورت میوزیم ہے۔ میوزیم کیا ہے ایک محل ہے۔ یہاں اندر وادی کی ثقافت کو نمایاں کیا گیا ہے۔

پتھریلے اور اونچے پہاڑوں کے درمیان گھری ہوئی وادی کیلاش اپنی خوبصورتی اور رعنائی کے سبب دنیا بھر میں ایک مقام رکھتی ہے۔یہاں کی ثقافت اور تہذیب رنگوں اور جولانیوں سے بھرپور ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ اب یہ مٹنے کے قریب ہے ۔ یہاں کے لوگوں کو بہت سے خدشات ہیں۔ مُمکن ہے کل کو یہ وادی اور اسکے تہوار رہیں یا ناں۔پڑھنے والوں کو یہ جگہ زندگی میں ایک بار ضرور دیکھنی چاہیئے۔

ہے تو بُری بات مگر، آباد گھروں سے
ھم خانہ خرابوں کی طبیعت نہیں مِلتی

تحریر : محمد عظیم شاہ

تبصرے
Loading...