اسلام اے کعبہ کو جانے والے

اے کعبہ کو جانے والے .. (دوسری قسط)

عمرے کیلئے روانگی کا دن آن پہنچا. میں ‘برٹش ایئر ویز’ سے سفر کرنے والا تھا. مجھے بتایا گیا کہ سعودی ایئر ویز میں تو ‘میقات’ (احرام پہننے کیلئے مقررہ حد) کے بارے میں آگاہ کردیا جاتا ہے اور لوگ جہاز ہی میں احرام پہن لیتے ہیں. مگر برٹش ایئر ویز والے اکثر نہیں بتاتے. لہٰذا میرے پاس دو ممکنہ اختیارات ہیں. پہلا یہ کہ میں مکہ میں ہوٹل پہنچ کر سامان رکھوں اور وہاں سے سیدھا مسجد عائشہ جاؤں. پھر ادھر سے احرام پہن کر عمرے کی عبادت ادا کروں. دوسرا یہ کہ میں لندن ائیرپورٹ پر ہی احرام باندھ لوں. میں نے اس دوسرے آپشن ہی کو اختیار کرنا پسند کیا اور ہیتھرو ائیرپورٹ لندن پر احرام باندھ لیا. اب جو میں احرام باندھ کر ائیرپورٹ لاؤنج میں داخل ہوا تو سب کی نظریں مجھ پر تھیں. جیسے کہہ رہی ہوں کہ یہ کیا نمونہ ہے؟

بڑے کوشش کرکے اپنی نظر ہٹا لیتے تھے مگر بچے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اپنے ممی پپا سے میرے بارے میں پوچھ رہے تھے. کچھ نے مجھ سے اس حلیئے کے بارے میں پوچھ بھی لیا اور ایک نوجوان گروہ نے ساتھ کھڑے ہوکر تصویر بھی بنوائی. اس موقع پر میں نے جھجھک کو دور رکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھنے والو کو بتایا کہ احرام کیوں اور کب پہنا جاتا ہے؟ میری زبان بدستور تسبیح الہی میں مشغول تھی کہ جہاز میں داخل ہونے کا اعلان ہوا. پورے جہاز میں مجھے اپنے سوا کوئی شخص احرام باندھے نظر نہیں آیا. اکثر غیرمسلم مسافر تھے. میں اپنی سیٹ پر براجمان ہوگیا. جہاز نے پرواز بھری تو ساتھ ہی دل میں خیال ابھرا کہ میں بیت اللہ جارہا ہوں. یہ سوچتے ہی کیفیت طاری ہوئی، اپنے ان گنت گناہ ایک ایک کرکے سامنے آنے لگے، اپنا آپ جیسے آئینے میں دیکھ رہا ہوں. میں دل ہی دل میں گڑگڑانے لگا. آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے. میں نہیں چاہتا تھا کہ ساتھ بیٹھے دیگر مسافروں کو میرے رونے کا معلوم ہو. لہذا کبھی منہ پھیر لیا تو کبھی ڈھانپ لیا. سسکیاں روکتے روکتے جانے کب نیند کی وادی میں چلا گیا. شائد خواب میں بھی بلکتا رہا. جب آنکھ کھلتی تو تسبیحات پڑھنے لگتا، دعائیں مانگنے لگتا، یہاں تک کہ ہم جدہ ائیرپورٹ جا پہنچے.

واجبی سی کاروائی کے بعد میں ائیرپورٹ لاؤنج سے باہر ایک کاؤنٹر پر بھیج دیا گیا. میری نظریں اس ایجنٹ کی متلاشی تھیں، جس کا کام مجھے جدہ سے مکہ لے جانا تھا. اسی اثنا میں ایک گہری رنگت، پستہ قد اور فربہ جسامت کا حامل عربی میرے پاس آیا اور گرمجوشی سے ٹوٹی پھوٹی اردو میں مخاطب ہوا. اس کے پیچھے اور بھی بہت سے زائرین موجود تھے. میں اس کے ساتھ ساتھ کار پارک میں داخل ہوا تو وہ میری جانب مڑ کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ بولا "تمھارے خیال سے یہاں کھڑی گاڑیوں میں سے کون سی گاڑی ہماری ہے؟” میں نے بیچارگی سے یہاں وہاں دیکھ کر ایک گاڑی کی جانب اشارہ کیا تو اس نے کہا نہیں. اب دیکھو کون سی گاڑی ہے؟ یہ کہہ کر اس نے ہاتھ میں تھامی گاڑی کی چابی سے لاک آن کیا تو ایک زبردست نئے ماڈل کی ھمر جیپ کی لائٹس کھل گئیں. اس نے فخر سے میری جانب دیکھا، میں نے واقعی ایسی زبردست سواری کا گمان تک نہیں کیا تھا. اب مسئلہ یہ تھا کہ لوگ کافی زیادہ تھے اور اس جیپ میں آدھے بھی نہیں آسکتے تھے. اتنے میں ایک موٹا تازہ پٹھان بھائی پرانی سی کوسٹر لے آیا. گویا کچھ لوگ جیپ میں جائیں گے اور باقی اس پرانی سی کوسٹر میں. لوگوں میں عورتیں بوڑھے سب تھے. میں خاموشی سے کوسٹر کی جانب بڑھ گیا، جہاں ڈرائیور شاید سامان رکھنے کی تیاری کررہا تھا. میں نے بھی اپنا سامان اس کے ساتھ ہی زمین پر رکھ دیا. ایسے میں کوسٹر کا یہ ڈرائیور نہایت درشت لہجے میں مخاطب ہوا ‘میں تمہارا نوکر نہیں ہوں .. اپنا سامان خود رکھو’ .. ایک لمحے کو غصے کی لہر نے ذہن میں ابھرنا چاہا مگر فوری یاد آیا کہ "حضوری اہم ہے … باقی سب غیراہم ہے”. یہ خیال آتے ہی میں نے اس سے مسکراتے ہوئے کہا کہ کیوں نہیں ؟ ابھی رکھ دیتا ہوں بلکہ باقی سامان بھی رکھنے میں مدد کرتا ہوں. میرے اس ردعمل سے اسے شائد کچھ ندامت سی ہوئی، لہٰذا اس نے میرا سامان مجھ سے لیتے ہوئے پوچھا کہ کس ملک سے ہو؟ میں نے کہا پاکستان سے. کہنے لگا پھر ٹھیک ہے، میں بنگالیوں کا کوئی کام نہیں کرتا. میں نے مزید اسے کریدنا مناسب نہ سمجھا.

سب لوگ کوسٹر میں بیٹھنے لگے تو ڈرائیور صاحب نے مجھ سے اس کے ساتھ آگے بیٹھنے کی درخواست کی تاکہ گپ شپ ہوسکے. میں بیٹھ گیا اور پھر ایک نہ رکنے والی گفتگو اس نے شروع کی. جس میں پاکستان سے لے کر انگلینڈ تک کے حالات کے بارے میں سوالات و خیالات تھے. پوری کوسٹر میں لوگ "لبیک اللھم لبیک” کی ایمان افروز گردان کررہے تھے اور میں چاہ کر بھی یہ نہیں کرپارہا تھا. اسے مختصر جوابات دیتا اور جب جب موقع ملتا تو میں بھی لبیک کے اس ذکر میں شامل ہو جاتا. یہ ڈرائیور غصے اور لہجے کا خاصہ تیز تھا، یہاں تک کہ وہ دوران گفتگو موٹی سی گالی بھی دے جاتا. (اللہ پاک میرے اس بھائی کو معاف فرمادے اور اسکی اصلاح فرمادے آمین) ظاہر ہے کہ اس بابرکت شہر کی جانب جاتے ہوئے یہ سب سننا طبیعت پر بہت بھاری تھا مگر اسے روکنے کا مطلب جھگڑا تھا. لہٰذا میں پرسکون اس سے مختصر ترین گفتگو کرتا رہا اور ذکر ساتھ ساتھ قلب و لسان پر جاری رکھا. میں جانتا تھا کہ "حضوری اہم ہے … باقی سب غیر اہم ہے”. آخر کار شہر مکہ کی پہاڑیاں اور معروف کلاک ٹاور نظر آنے لگا. لبیک کی صدا مزید بلند ہونے لگی اور اب میں بھی تسلسل سے اس والہانہ ذکر میں دھڑکتے دل کے ساتھ شامل تھا. کوسٹر ہمارے ہوٹل پر جا رکی. میں نے جلدی سے اپنا سامان کمرے میں رکھا اور عمرے کی سعادت حاصل کرنے مسجد الحرام کی جانب روانہ ہوگیا.۔

سامان ہوٹل پر رکھنے کے بعد میں فوری عمرے کی نیت سے مسجد الحرام کی جانب چل پڑا. میرا ہوٹل کوئی پچیس منٹ کے پیدل راستے پر واقع تھا. گرمی ان دنوں اتنی شدید تھی جیسے گویا آگ برس رہی ہو. منہ اتنا خشک ہونے لگتا تھا کہ زبان تالو سے جا چپکتی اور پھر باقاعدہ جان لگا کر چھڑانی پڑتی. میں تیز قدموں سے خانہ کعبہ کی جانب پیش قدمی کررہا تھا. ہر طرف سے لوگ میری ہی طرف سفید احرام میں ملبوس چلے آرہے تھے. گویا ایک پانی کا ریلا ہو جو ہر سمت سے کعبہ کی جانب بہہ رہا تھا. جیسے اس کی منزل اس سمندر میں جا گرنا ہو. عجیب پرہیبت منظر تھا. ہر رنگ و نسل اور ہر عمر و جنس کے انسان سفید کفن نما دو کپڑوں میں ملبوس والہانہ انداز میں یک زبان ہو کر پکار رہے تھے کہ ‘حاضر ہوں میرے اللہ .. میں حاضر ہوں ! میں حاضر ہوں آپ کا تو کوئی شریک نہیں .. میں حاضر ہوں !! ۔ بے شک تمام تعریف و شکر آپ ہی کیلئے ہے ! .. ساری نعمتیں آپ ہی کی تو دی ہوئی ہیں ! بادشاہی آپ ہی کی ہے ! اور آپ کا ہرگز کوئی شریک نہیں !!’ .. مجھے مرکزی لندن کے ان مصروف ترین علاقوں کا خیال آیا جہاں لوگوں کا ایک اژدھام تیزی سے آجا رہا ہوتا ہے. کلمات سے نہ سہی مگر ان میں سے اکثر زبان حال سے دنیا کیلئے یہی پکار رہے ہوتے ہیں کہ ‘حاضر ہوں اے دنیا .. میں حاضر ہوں !’ .

دین کا عمومی مزاج ہمیں ہر وقت بنے سنورے رہنے اور صفائی کا آخری درجے میں اہتمام کرنے پر ابھارتا ہے. مگر عمرے اور حج کی عبادات کیلئے احکامات بڑے عجیب ہیں. میری نظر سے دیکھیں تو یہ محبت و وارفتگی کے احکامات ہیں. جیسے ناخن بڑھے بھی ہوں تو نہیں کاٹنے، سر یا جسم کے بال تک نہیں کاٹنے، خوشبو نہیں لگانی، احرام کے ان دو کپڑوں کو نہیں بدلنا وغیرہ. یہ ١٨٠ کے زاویئے کی تبدیلی کیوں ہے؟ شائد اسلئے کہ یہ مقام دیوانہ وار محبت کا ہے. اللہ اور فقط اللہ پر توجہ مرکوز رکھنے کا ہے. دیوانے کو کہاں اپنے حلیئے، ماحول کی پرواہ ہوتی ہے؟ وہ تو ہمہ وقت بس اپنے محبوب کے تصور میں ہی غوطہ ذن رہتا ہے. یہاں مرد و زن کا پردہ بھی ویسا نہیں ہے جیسا تقاضہ عام زندگی میں ہوتا ہے. عین خانہ کعبہ میں مرد و عورت ساتھ ساتھ آگے پیچھے شانہ بشانہ نماز ادا کررہے ہوتے ہیں، ساتھ ساتھ کھلے چہروں کے ساتھ طواف کررہے ہوتے ہیں. نمازی کے سامنے طواف ہورہا ہوتا ہے اور کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ نمازی کے سامنے سے کیوں گزرے؟ حیرت انگیز طور پر کچھ صاحبان تقویٰ وہاں بھی اس بات پر ناراض ہوتے ہیں کہ یہ عورتیں اور مرد اتنے اختلاط کیساتھ کیوں طواف کررہے ہیں؟ احباب میں نے تو بہت ڈھونڈھا مگر مجھے دوران طواف نہ کوئی ایک عورت نظر آئی اور نہ کوئی ایک مرد .. وہاں تو ہر سو بس عبد اللہ ہی عبد اللہ تھے. شائد مجھے ان باتوں پر غور کی وہاں فرصت ہی نہ تھی یا پھر شائد کسی نے مجھے بتادیا تھا کہ "حضوری اہم ہے … باقی سب غیر اہم ہے”. جیسے احادیث میں صراحت آئی ہے کہ حشر کے میدان میں مام مرد و عورت برہنہ اٹھائے جائیں گے مگر اس وقت اس کا کسی کو ہوش نہ ہوگا بلکہ ساری فکر اپنے حساب کی ہوگی. مجھے لگتا ہے کہ دوران عمرہ یا دوران حج حاضرین کو فکر حاضری کی ہونی چاہیئے، نہ کے ان معاملات میں الجھے رہنے کی نہیں. ان احکامات کی تبدیلی سے شائد ہمیں یہ سکھانا بھی مقصود ہے کہ اصل تعمیل اللہ کے حکم کی ہے، اس حکم کی حکمت کی نہیں.جب کسی حکم کا من جانب اللہ ہونا ثابت ہوگیا تو اب ایک مسلمان کی عقل اپنے بنانے والے کی نازل کردہ وحی کی پابند ہوگئی. اب یہ احکامات کی پوشیدہ حکمت تو ضرور کھوج سکتی ہے، طالبعلمانہ سوالات تو کرسکتی ہے مگر ان احکامات کے قبول و رد کا میعار ہرگز نہیں بن سکتی. حکمت کا جاننا یا نہ جاننا اب احکام پر عمل کرنے یا نہ کرنے کی دلیل نہیں بن سکتا. اب تو بس سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا اصول لاگو ہوگا یعنی ‘ہم نے سنا اور اطاعت کی’ چاہے وہ حکم ہمیں سمجھ آئے یا نہ سمجھ آئے. اگر اس حکم کا معبود کی جانب سے ہونا ثابت ہے تو بس عبد پر تعمیل لازم ہے.

خیر اسی ‘لبیک اللھم لبیک’ کی پرنور صداؤں میں بلآخر میں اس بیرونی علاقے میں جاپہنچا جہاں مسجد الحرام کے عین سامنے دیوقامت بلڈنگ "کلاک ٹاور” موجود ہے اور جو اپنے غیر معمولی قد کے سبب مکہ کی حدود کے باہر سے ہی نظر آنے لگتا ہے. اس قد آور ‘کلاک ٹاور’ کے سامنے لندن کا ‘بگ بین ٹاور’ کھلونا سا محسوس ہوتا ہے. مسجد کے بیرونی دالان میں قدم رکھے تو سامنے ہی پیاس بجھانے کیلئے نلکے لگے ہوئے تھے جن میں سے زم زم کا شفاف پانی جاری تھا. مختلف ٹکڑیوں میں لوگ بیٹھے ہوئے تھے، کوئی کچھ کھا رہا ہے، کوئی آرام کر رہا ہے اور کوئی نوافل کی ادائیگی میں مشغول ہے. میں بناء رکے سب کو دیکھا ان دیکھا کرتا ہوا آگے بڑھتا گیا. مسجد کے اندرونی حصے میں داخل ہونے کیلئے بہت سے دروازے ہیں، جو سب آپ کو مسجد کے اندرون سے نکالتے ہوئے اس مبارک صحن میں پہنچا دیتے ہیں جس کے بیچ و بیچ خانہ کعبہ جلوہ گر ہے. میرے دل کی دھڑکن تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی. اور اس گرمی میں بھی شائد ایک مسلسل کپکپاہٹ طاری تھی. اسی خوف و جستجو کی حالت میں، ایک بڑے دروازے سے میں بھی داخل ہونے لگا. اففف وہ وقت آپہنچا تھا ! میں کیسے؟ میں کیسے؟ میں کیسے کعبہ کا سامنا کرسکوں گا !

خانہ کعبہ کی جانب لے جانے والے اس دروازے کا نام غالباً ‘باب السلام’ تھا. میں لرزتے قدموں سے مسجد کو پار کرتے ہوئے اس صحن کی جانب بڑھ رہا تھا جہاں ہمارا قبلہ یعنی خانہ کعبہ واقع ہے. میں نے ایسی کوئی آیت یا حدیث تو نہیں پائی مگر ان گنت لوگ مجھے بتاتے رہے تھے کہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو بھی مانگو وہ لازمی عطا کردیا جاتا ہے. اسی لئے میں سامنے یا اردگرد دیکھنے کی بجائے نگاہیں زمین میں گاڑے چل رہا تھا. اس میں ادب کا پہلو تو یقیناً موجود تھا مگر سچ پوچھیئے تو دل کے نہاں خانے میں کہیں یہ لالچ بھی پنہاں تھی کہ نظر اٹھاتے ہی کعبہ کو دیکھ کر جو دعا مانگوں گا وہ ان شاء اللہ رد نہیں جائے گی. اس پہلی نظر کی دعا کے بارے میں عوام سے لے کر علماء تک تلقین کرتے آئے ہیں. ایسی ایسی دعائیں ایجاد کی جاتی ہیں جس سے دنیا و آخرت کی ہر نعمت مانگ لی جائے. مگر مجھ سے یہ چالاکی نہیں ہو پائی. میرا حال تو یہ ہے کہ روزمرہ کی دعا میں بھی مغفرت کے سوا کچھ مانگ پانا بہت مشکل محسوس ہوتا ہے. نوکری، مال، اولاد وغیرہ سب مانگنا جائز ہے. مگر میری زبان ہمیشہ یہ سب مانگتے ہوئے لڑکھڑائی ہے. دل سے جو آواز اٹھی ہے وہ فقط اپنی معافی کی ہے. لہٰذا کعبہ کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے بھی بس یہی ایک تمنا میرے وجود کا احاطہ کیئے ہوئے تھی. بلآخر مجھے محسوس ہوا کہ منزل آگئی ہے. میں تیار تھا کہ اب کعبہ کو دیکھتے ہی یا تو میرا دم نکل جانا ہے یا پھر رو رو کر بے حال و نڈھال ہوجانا ہے. ڈرتے ڈرتے میں نے آخرکار نظر اٹھائی. میری آنکھوں کے عین سامنے سفید صحن کے بالکل بیچ میں کعبہ اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ مسکرا رہا تھا. مگر یہ کیا؟ میرا دم نکلنا تو دور آنکھ سے ایک قطرہ آنسو کا بھی نہ گرا. میں نے گھبرا کر بہت چاہا کہ میں روؤں مگر نہیں. مجھ پر تو جیسے کوئی سحر سا طاری تھا یا جیسے کسی نے اچانک مجھے ھپناٹائز کردیا ہو. میرا وجود سن ہوچکا تھا. ایسے جیسے خون کی گردش نہ ہونے پر بعض اوقات ہمارا ہاتھ یا پیر سن ہوجایا کرتا ہے. یوں لگا جیسے کائنات رک سی گئی ہو. اگر کوئی ہے اس وقت جو اپنے ہونے کا اعلان کرسکے تو وہ اس کالی پوشاک میں ملبوس یہی کعبہ ہے. جسے بیت اللہ کہلانے کا اعزاز حاصل ہے.

عام چلن ہے کہ عمرہ یا حج پر پہلی بار جانے والے احباب کو دیگر مسلمان اپنے واقعات سنا کر بتاتے ہیں کہ انہیں خانہ کعبہ دیکھ کر یا حرم پاک جا کر یا روضہ مبارک کی جالیاں دیکھ کر کیسا محسوس ہوگا؟ دوسرے الفاظ میں وہ اپنے ذاتی تجربات کو بنیاد بناکر اپنےمخاطب کی سوچ سے کچھ توقعات وابستہ کردیتے ہیں. راقم کی دانست میں ایسا کرنا درست روش نہیں. ہر انسان اپنا ایک جداگانہ شعوری وجود رکھتا ہے اور قطعی لازمی نہیں کہ ایک انسان کا تجربہ دوسرے انسان کے تجربے کے مماثل ہی ہو. لہٰذا اگر کوئی انسان، دوسروں کے تجربات کی بناء پر پہلے سے اپنے لاشعور میں کچھ توقعات سجا لے اور بوقت عمرہ و حج اس کا ذاتی تجربہ ان توقعات سے مختلف نکلے تو فطری نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایک روحانی صدمے یا نفسیاتی ہیجان سے دوچار ہو جائے گا. ظاہر ہے کہ ایسی کسی ناخوشگوار کیفیت کا طاری ہونا اس انسان کی حالت عبادت کے پورے تجربے کو متاثر کرے گا. مثال لیجئے کہ کوئی قریبی دوست آپ کو بتاتا ہے کہ جب اس نے خانہ کعبہ کو پہلی بار دیکھا تو بے اختیار زمین پر گرگیا یا بیہوش ہوگیا یا زار و قطار رونے لگا. ساتھ ہی وہ آپ کو یقین دلاتا ہے کہ آپ کے ساتھ بھی کم و بیش یہی کیفیت ہونے والی ہے. اب آپ اسی توقع کو سینے سے لگائے خانہ کعبہ کو ادب و خوف سے پہلی بار دیکھتے ہیں مگر اس دوست جیسی کیفیت سے محروم رہتے ہیں. نہ بیہوش ہوتے ہیں، نہ فرش بوس ہوتے ہیں اور نہ ہی آنکھیں فوری بھیگتی ہیں. یہ وہ لمحہ ہے کہ جب توقعات کے ٹوٹنے سے ایک شدید اضطراب آپ کو گھیر سکتا ہے اور آپ اس لمحے میں موجود اپنی انفرادی روحانی کیفیت کو محسوس کرنے سے محروم ہوسکتے ہیں. وجہ یہی ہے کہ آپ کی نظر تو اپنی حقیقی کیفیت پر تھی ہی نہیں بلکہ آپ کی ساری تلاش اپنی کیفیت میں دوسرے کی کیفیت ڈھونڈھنے میں تھی. کسی دوسرے کا آپ سے پہلے یا آپ سے زیادہ رونا ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کا تجربہ کامل ہے اور آپ کا ناقص. سچ یہ ہے کہ اس بارگاہ میں ہر مخلص عبد روحانی تجربات سے گزرتا ہے مگر ان تجربات کی کیفیت یکساں نہیں ہے بلکہ ہر فرد کے مزاج و ضرورت کے مطابق ہے. لہٰذا ضروری ہے کہ نہ تو آپ کسی دوسرے کے کہنے پر توقعات کا محل تعمیر کریں اور نہ ہی کسی نئے جانے والے کو اپنے واقعات اس انداز میں سنائیں کہ اس کا انفرادی تجربہ متاثر ہو. اپنی کیفیات بتانے میں حرج نہیں مگر اس تلقین کے ساتھ کہ ہر فرد کا تجربہ مختلف ہے.

میرے ساتھ بھی غالباً کچھ ایسا ہی ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کے واقعات سن سن کر پہلے سے بہت سی توقعات کا بوجھ اپنے سر پر لاد رکھا تھا. بہرحال میں نے نوافل ادا کیئے اور اپنے رب سے گوش گزار ہوا کہ یا میرے مولا کیا میں اتنا گنہگار اتنا غلیظ ہوں؟ میرا دل اتنا سخت اور گناہوں سے اتنا آلودہ ہے؟ کہ تیرے در پر پہنچ کر بھی آج میری آنکھ خشک ہے؟ آہستہ آہستہ جیسے دل سے غبار اٹھنے لگا، وہ سن ہوجانا رخصت ہونے لگا اور آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو جاری ہوئے. اب بس ہچکیاں تھیں. ایسے عاشق کی مانند جو فراق کی وادیوں میں بھٹکے پھرتا ہو. طبیعت کچھ سنبھلی اور میں نے سیدھا کندھا برہنہ کرکے قدم طواف کیلئے بڑھائے. چاہا کہ وہی مستحب دعائیں مانگوں جنہیں میں ہر طواف کیلئے رٹ چکا تھا. لیکن پھر جانے کب میں دعائیں پڑھنے کی بجائے اپنے رب سے گفتگو کرنے لگا. اب میں مخاطب تھا اپنے رب سے اور وارفتگی میں اس سے حال دل بیان کررہا تھا. میں چاہتا تھا کہ وہ ان ہزاروں زائرین میں سب سے پہلے مجھے سنے. بلکہ میں شائد خودغرض ہوکر متمنی تھا کہ میرا پالنہار صرف مجھ ہی کو سنے. میں اسے اپنے کیس کی ‘سیرئیس نیس’ بتانا چاہتا تھا . لہٰذا میں بلکا ، میں گڑگڑایا، میں کبھی عطر کی تیز خوشبو سے معمور سیاہ مخمل میں ملبوس کعبہ کی دیوار سے اور کبھی کعبہ کی چوکھٹ ملتزم سے چمٹا یوں روتا جاتا تھا جیسے کوئی ماں اپنے بچھڑے ہوے لخت جگر کو واپس پاکر اسے چھاتی سے لگا کر روتی ہے. دوران طواف لوگوں کو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ وہ نیچے گر کر کچلے نہ جائیں مگر مجھے اپنے لمبے چوڑے وجود کے سبب خدشہ یہ تھا کہ کوئی میرے نیچے آکر نہ کچلا نہ جائے. یوں تو میری بھی یہ خواہش تھی کہ میں حجر اسود کو بوسہ دے سکوں اور چاہتا تو ایسا باآسانی کرسکتا تھا مگر اسکے لئے مجھے کئی کمزور لوگوں کو دھکیلنا پڑتا، جو میری طبیعت نے گوارا نہیں کیا. لہٰذا میں نے دور ہی سے استلام کیا. سات طواف کے اختتام پر میں نے مقام ابراہیم کی زیارت کی اور اسی کے سامنے دو رکعت نفل ادا کی. سوچتا ہوں کہ یہ مقام ابراہیم ان ہی جلیل القدر رسول ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے، جنہوں نے اس عظیم الشان کعبہ کی بنیاد اٹھائی تھی، جن کی نسبت سے ہمارا دین آج بھی دین ابراہیمی کہلاتا ہے، جن کی دعا کی قبولیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں بعثت کی صورت میں ہوئی، جن کی یاد میں ہم ہر عید الاضحی سنت ابراہیمی ادا کرتے ہیں. یہاں تک کہ اپنے نبی پر جو درود ہم ہر نماز میں بھیجتے ہیں اسے بھی درور ابراہیمی کہا جاتا ہے. یہی سب سوچتا رہا اور پھر اسی عالم میں زم زم پینے کیلئے احاطے کی جانب چل پڑا.(جاری ہے ..)؎