اُردو صفحہ فیس بُک پیج

اسلام اے کعبہ کو جانے والے

اے کعبہ کو جانے والے .. (پہلی قسط)

کافی سالوں قبل جب ایک ماہ کیلئے انگلینڈ سے پاکستان جانے کا ارادہ کیا تو بیک وقت دو خواہشیں دل میں پیدا ہوئیں. پہلی یہ کہ عمرہ ادا کرتے ہوئے پاکستان جاؤں اور دوسری یہ کہ گیارہ برس بعد بقرعید وطن میں مناسکوں. اب ظاہر ہے کہ ان دونوں خواہشات کا ساتھ پورا ہونا ناممکن ہے کیونکہ بقرعید کے وقت تو حج ہورہا ہوتا ہے لہٰذا اس سے پہلے عمرہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. کافی مخمصے میں پھنسا رہا پھر دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کیا کہ عمرہ کروں گا بقرعید پھر کبھی سہی. یہ سوچ کر چھٹی کی درخوست دے دی. یہ درخوست مینجر نے مسترد کردی اور ساتھ ہی کہا کہ فلاں مہینے پاکستان جانا چاہو تو چلے جاؤ. پہلے تو میں ذرا تلملایا مگر اب جو غور کیا تو اس کا بتایا ہوا مہینہ وہی تھا جس میں بقر عید آرہی تھی. میں نے اسے غیب کا اشارہ سمجھا، لہٰذا حامی بھر لی. مقررہ دنوں میں پاکستان گیا اور اپنے خاندان کے ساتھ مل کر بقرعید کا بھرپور لطف لیا الحمدللہ. تقریباً گیارہ برس بعد پاکستان میں عید قربان منانا نصیب ہوا تھا. دل میں ٹھان لیا تھا کہ خوشی منانے کے ساتھ ساتھ اس بار قربانی کے عمل کو قریب سے محسوس کرنے کی سعی کروں گا. ایک ماہ پہلے ہی گھر والوں کو یہ بتا دیا کہ اس دفعہ میں خود جاکر جانور (گائے) لاؤں گا، اسکا خیال رکھوں گا اور پھر اپنے ہاتھ سے چھری پھیروں گا. اب یہ بول تو دیا مگر سارا وقت ذہن پر دباؤ رہا. آج تک کسی جانور کو ذبح نہ کیا تھا، کسی کی ایسے جان نہ لی تھی ، سوچ کر بھی ہاتھ شل ہونے لگتے. طبیعت کی نرمی اور مہذب بننے کی کوشش نے میرا دل کسی سہمی ہوئی چڑیا جیسا کردیا تھا. کئی بار خیال آیا کہ یہ چھری پھیرنے والا ارادہ ترک کردوں مگر پھر کوئی کان میں ہلکے سے سرگوشی کرتا ..”قربانی کی روح کو محسوس کرنا ذبح کے بناء ممکن نہیں”.. خود کو بار بار ڈھارس دیتا کہ میاں اگر ایسا نازک دل رکھو گے تو بوقت ضرورت اللہ کے حکم پر جہاد و قتال کیسے کرو گے؟

خیر جناب وقت گزرتا گیا اور قربانی کا دن سامنے آگیا. میں نے خاص تاکید کی کہ چھری پھیرتے ہوئے کوئی تصویر نہ لی جائے. مجھے انٹرنیٹ پر ذبیحہ کی خون سے لت پت تصاویر دیکھ کر ہمیشہ کوفت ہوتی ہے. میں حیران ہوتا ہوں کہ کوئی کیسے کسی جاندار کو موت دیتے ہوئے پوز مار کے تصویریں بنا سکتا ہے یا تصویر اتار سکتا ہے؟ میری گزارش یہی ہوا کرتی ہے کہ ایسی تصویر لگا کر اپنے حیوان ہونے کا ثبوت نہ دیں. بہرحال وہ وقت آگیا جب جانور کو زمین پر لٹا دیا گیا اور میرے ہاتھ میں ایک نہایت تیز چھری دے دی گئی. میں اللہ کا نام لے کر مقبول دعائیں پڑھتا ہوا اسکی گردن پر آیا. لوگ حیران تھے کہ اتنا بڑا جانور بناء کسی مزاحمت کے زمین پر بناء تنگ کئے گرگیا اور اب بناء کسی احتجاج کے سکون سے لیٹا ہوا ہے. جیسے زبان حال سے کہہ رہا ہو .. "میرے آقا جلدی سے مجھے ذبح کردیجیۓ”. میں نے کانپتے ہاتھوں سے چھری گردن پر رکھ دی. یہ وہ لمحہ تھا جب میرے ذہن میں ایک جھماکا ہوا ، پہلی بار یہ محسوس ہوا کہ ذبح کرنے والا بھی میں ہوں اور ذبح ہونے والا بھی میں ہی ہوں. پہلی بار حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سنت نظر آئی. ایک طرف وہ باپ ہے جو اللہ کے حکم کی تعمیل میں اپنے لخت جگر کی گردن پر چھری رکھتا ہے تو دوسری جانب وہ بیٹا ہے جو مشیت الہی کے لئے اپنی گردن پیش کردیتا ہے. یہ تسلیم و رضا کا وہ اعلی مقام تھا ٰجہاں شعور و ادراک کے پر جل جاتے ہیں. اس ایک لمحے میں اس حوالگی کا عکس اپنے سینے میں محسوس کیا اور پورے اطمینان و سکون سے چھری چلا دی. کوئی پھر میرے کان میں کہہ رہا تھا : "اللہ اکبر. اللہ اکبر. لا الہ الا اللہ. واللہ اکبر. اللہ اکبر. وللہ الحمد.”

بقرعید بھرپور طریق سے منانے کے بعد جب واپس انگلینڈ آیا تو جہاں دل میں خوشی کا ایک سمندر موجزن تھا، وہاں ایک خلش سی بھی محسوس ہوتی رہی کہ یا میرے رب میرا عمرہ نہیں ہوسکا ! … بیت اللہ اور روضہ مبارک پر حاضری سے تو میں محروم ہی رہا۔ اب تو مالک نہ جیب میں مال ہے نہ ہی درکار اسباب کہ اس سعادت کو حاصل کرسکوں. اسی مغموم دل سے زندگی کے بکھیڑے دوبارہ شروع ہوگئے. مگر ابھی واپس آئے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ اچانک ایک روز گھر کی گھنٹی بجی. دروازہ کھولا تو ڈاکیہ میرے نام کی رجسٹرڈ پوسٹ لئے موجود تھا. حیرت سے لفافہ کھولا تو اس میں میرے نام پر ایک آفیشیل لیٹر موجود تھا. اب جو اسے پڑھا تو خوشی و حیرت سے حالت عجیب ہوگئی. لکھا تھا کہ آپ جس کمپنی کے ذریعے پاکستان رقم بھیجتے ہیں انہوں نے اپنے صارفین کے مابین انگلینڈ بھر میں قرعہ اندازی کی ہے جس کے نتیجے میں ایک نام کا انتخاب ہوا ہے جو آپ کا ہے. چانچہ آپ کو انعام کے طور پر عمرہ کا فری ٹکٹ دیا جاتا ہے. میں اس لیٹر میں درج مضمون کو بار بار بے یقینی سے پڑھتا جاتا اور سوچتا شائد انگریزی سمجھنے میں مجھ سے غلطی ہورہی ہے. جب دوسروں کو پڑھوا کر سو فیصد اطمینان ہوگیا تو سوچنے لگا کہ شائد مجھے بیوقوف بنایا جارہا ہے اور یہ پیسے اینٹھنے کا کوئی نیا حربہ ہے. مشکوک ذہن سے اس کمپنی کو فون کیا، جنہوں نے بھرپور انداز میں مبارکباد دی اور کہا کہ جلد آپ کو ٹکٹ بھیج دیا جائے گا. مجھے پھر بھی یقین نہ ہوتا تھا مگر یہ کیا ؟ انہوں نے تو واقعی مجھے ٹکٹ بھیج دیا.

بے حساب خوشی ہونے کے باوجود اب مجھے ایک نئی فکر یہ لاحق تھی کہ نوکری سے چھٹی کیسے ملے گی؟ سال بھر کی چھٹیاں تو میں پہلے ہی لے چکا تھا. مگر میرے رب کی شان دیکھیئے، کچھ ہی دنوں میں ایک دوسری نوکری جو ہر حوالے سے بہتر تھی مجھے آفر کی گئی اور جسے میں نے خوش دلی سے قبول کرلیا. پہلی نوکری چھوڑنے اور دوسری نوکری جوائن کرنے کے مابین کچھ دنوں کا خالی وقت باآسانی حاصل ہوگیا جس میں عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کا موقع مل گیا. آج سوچتا ہوں کہ اس کا کتنا فیصد امکان ہوسکتا تھا کہ ایک غیر اسلامی ملک میں، لاکھوں لوگوں کے مابین کئے جانے والی قرعہ اندازی میں میرا نام نکلے اور پھر انعام میں مجھے وہی حاصل ہو جس کی تمنا میرے دل میں تھی؟. بلاشبہ یہ میرے رب کا بلاوہ تھا، الحمد اللہ ثم الحمد اللہ .. میرا رب پاک ہے، مسبب الاسباب ہے، قادر المطلق ہے، احکم الحاکمین ہے. قلب و ذہن پر ایک وارفتگی طاری تھی. ایک پرہیبت اور سحر انگیز صدا میرے لاشعور میں گونج رہی تھ

لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك ترجمہ : حاضر ہوں میرے اللہ .. میں حاضر ہوں ! میں حاضر ہوں آپ کا تو کوئی شریک نہیں .. میں حاضر ہوں !! ۔ بے شک تمام تعریف و شکر آپ ہی کیلئے ہے ! .. ساری نعمتیں آپ ہی کی تو دی ہوئی ہیں ! بادشاہی آپ ہی کی ہے ! اور آپ کا ہرگز کوئی شریک نہیں !!)

رب کریم کی جانب سے عمرے کا ٹکٹ کیا نصیب ہوا؟ سمجھو کہ دل کی دنیا ہی بدل گئی. وجود میں شادمانی اور چہرے پر فرحت ایک مسلسل کیفیت کے طور پر میرے ساتھ تھے. مجھ گنہگار اور سیاہ کار کو بیت اللہ میں حاضری کیلئے بلایا گیا ہے؟ یہ احساس ہی عجیب تھا. بار بار خود پر نازاں ہونے کا من کرتا. خوف آتا کہ شائد میں گھمنڈی ہورہا ہوں کہ لوگو دیکھو !! مجھے سرکار اور محبوب سرکار نے بلایا ہے. پھر الحمدللہ الحمدللہ کہہ کر خود کو شکرگزاری کی جانب کھینچ لاتا. اسی ناز اور انکساری کے بیچ بیچ وقت گزر رہا تھا. اس حاضری کی گھڑی کو سوچتا تو عجیب ہیبت طاری ہوتی، سانس رکنے لگتی. مجھے یقین ہونے لگا تھا کہ کعبہ دیکھتے ہی مجھے ہارٹ اٹیک ہوجائے گا. اور یہ خیال میرے لئے ڈراؤنا نہیں تھا بلکہ سہانا تھا. کیا ہی خوب ہو کہ کعبہ دیکھ کر میری دھڑکن بند ہوجائے؟ اور اسی حال میں اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں؟ ایک عجیب معاملہ یہ بھی ہوا کہ مجھے لاشعوری طور پر اپنے پیروں تلے حرم کے فرش کی ٹھنڈک یا حرارت محسوس ہونے لگی. یوں لگتا تھا کہ میرے قدم لندن کی سڑکوں پر نہیں بلکہ حرم کے فرش پر پڑ رہے ہوں. جیسے جیسے جانے کا وقت قریب آرہا تھا، یہ کیفیات اور بیقراری شدید تر ہوتی جارہی تھی. ہر شخص اپنا تجربہ بیان کررہا تھا. احرام خریدنے کی باری آئی تو معلوم ہوا کہ اسکی دو اقسام ہیں. پہلا کپڑے کا اور دوسرا تولیئے کا. کچھ سوچ کر میں نے تولیئے کا انتخاب کیا. یوٹیوب سے دیکھ کر احرام باندھنا سیکھا. انکشاف ہوا کہ مظبوط گرفت کیلئے اسے تولیئے کی طرح اندر نہیں کھوسنا بلکہ باہر کھوس کر بل دینا ہے. رہائش کیلئے ہوٹل بک کروانا لازمی تھا. مجھے نظر آیا کہ لوگوں میں فائیو اسٹار، سیون اسٹار پیکیج بک کرانے کی ایک دوڑ سی ہے. وہ فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کا ہوٹل کتنا آرام دہ اور آرائش سے بھرپور تھا یا پھر کیسے اسکی کھڑکی سے حرم نظر آتا تھا وغیرہ. میں ان کی نیت یا جذبے پر ہرگز شک نہیں کررہا مگر میرا مزاج مجھے کسی ایسی بات کی اجازت نہیں دے رہا تھا. میں تو چاہتا تھا کہ میں زیادہ سے زیادہ مشقت اور سادگی سے حاضر ہوں. میرے دل میں تو یہ بات تھی کہ میں حرم ہی کے احاطے میں پڑا رہوں یا حرم ہی کیوں؟ مکہ مکرمہ کی کسی بھی سڑک کے کونےمیں کسی مسافر کسی فقیر کی مانند جا بیٹھوں. بہرحال یہ ممکن نہ تھا تو میں نے ایک واجبی سا کمرہ بک کروا لیا جو حرم سے کچھ فاصلے پر بھی تھا اور اس میں میرے ساتھ کئی اجنبی لوگوں نے بھی قیام کرنا تھا.

میں نے عمرے کا طریقہ اور اس سے متعلق کتب کا مطالعہ کیا. ہر کتاب مجھے فقہی و قانونی مسائل کا بیان معلوم ہوئی. سارا زور یہ سمجھانے میں لگا دیا جاتا ہے کہ کون سا رکن کیسے ادا کرنا ہے؟ اسکی باریک سے باریک ترین تفصیلات بیان کی جاتی ہیں. کیسے کھڑا ہونا ہے؟ کہاں کھڑا ہونا ہے؟ کتنا فاصلہ رکھنا ہے؟ نفل کون سے مقام پر پڑھنی ہے؟ طواف کہاں سے شروع کرنا ہے؟ طواف کے ہر چکر میں کون کون سی دعا پڑھنی ہے؟ سعی کرتے ہوئے کیسے چلنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ. مانا کہ ان سب باتوں کا بیان بھی اچھا ہے مگر میں تو یہ چاہتا تھا کہ کوئی مجھے یہ سیکھائے کہ عظیم اس دربار میں دل کی دنیا کیسے بدلنی چاہیئے؟ ان مقامات کی روح کو اپنے اندر کیسے جذب کرنا چاہیئے؟ اللہ اور محبوب اللہ کے سامنے اپنا دل سینے سے نکال کر کیسے پیش کرنا ہے؟ طواف و سعی سمیت دیگر مظاہر عبادت کے روحانی پہلو کیا ہیں؟ ان کیفیات کا حصول کیسے ہو؟.. ایسے میں جو واحد کتاب میری دادرسی کسی حد تک کرپائی تو وہ ممتاز مفتی صاحب کی تصنیف "لبیک” تھی.

ایک بات جو میں نے دل میں ٹھان لی تھی وہ یہ تھی کہ "حضوری اہم ہے .. باقی سب غیر اہم ہے” ..کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دوران حج و عمرہ آپ ہر وقت خود کو یاد دلاتے رہیں کہ "حضوری اہم ہے … باقی سب غیر اہم ہے”. اصل حاصل یہی ہے کہ آپ وہاں ہمہ وقت اللہ کے سامنے حضوری کی کیفیت میں رہیں. یقین مانیئے کہ درجہ احسان میں بیان کردہ حضوری کی اس کیفیت کا حصول مکہ و مدینہ میں جتنا ممکن ہے، اتنی کہیں اور ممکن و آسان نہیں. شرط فقط اتنی ہے کہ بندہ حصول کی کوشش کرے. افسوسناک امر یہ ہے کہ عین حج و عمرہ کے درمیان اور عین مکہ و مدینہ کے بیچ آپ کو لوگ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہوئے بھی ملیں گے. کسی کو شدید غصہ ہے کہ قطار میں بدنظمی کیوں ہے؟ کوئی سخت ناراض ہے کہ اسے اس کا مطلوبہ کمرہ کیوں نہیں ملا؟ کسی کو شکایت ہے کہ ٹیکسی والے نے پیسے زیادہ کیوں مانگ لئے؟ اور کسی کو شکوہ ہے کہ اسے صحیح سے کھانا کیوں نہ ملا؟ ایسے مواقع بھی ہوتے ہیں جب لوگ دست و گریبان ہونے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور میری گنہگار سماعت نے تو غلیظ گالیاں بھی دیتے ہوئے کسی اللہ کے بندے کو سنا ہے. ان سب کی یہ شکایات یکلخت ختم ہوجائیں اگر یہ اس حقیقت کو جان لیں کہ یہاں تو بس "حضوری اہم ہے … باقی سب غیر اہم ہے”.اچھا بستر نہیں ملا؟ غیر اہم ہے.مناسب کھانا نہیں ملا؟ غیر اہم ہےکسی نے دھکا مار دیا؟ غیر اہم ہے.کوئی آپ کا جوتا پہن گیا؟ غیر اہم ہے.اگر کچھ اہم ہے تو صرف حضوری اہم ہے.

کچھ صاحبان تقویٰ تو حضوری بھلا کر اس بات پر گفتگو کرتے رہتے ہیں کہ یہ عورتیں اور مرد اتنے اختلاط کیساتھ کیوں طواف کررہے ہیں؟ میں نے تو حضوری کے ساتھ بہت ڈھونڈھا مگر مجھے دوران طواف نہ کوئی ایک عورت نظر آئی اور نہ کوئی ایک مرد .. وہاں تو ہر سو بس عبد اللہ ہی عبد اللہ تھے. شائد کوئی میرے کان میں مسلسل یہ سرگوشی کرتا رہا "حضوری اہم ہے … باقی سب غیر اہم ہے”.بہرکیف سب انتظام ہو چکا تھا، میرا پاسپورٹ ویزہ، ٹکٹ، احرام، سامان سب تیار تھا. بلآخر وہ دن آپہنچا جب میری ہیتھرو ائیرپورٹ لندن سے جدہ کی جانب روانگی تھی(جاری ہے )