اسلام

جنگ خیبر کی ضرورت کیوں پیش آئی اورحضرت علی ؓ نے تن تنہا کس طرح قلعہ خیبر کو فتح کیا ؟

خیبر چند قلعوں کے مجموعے کا نام تھا، جہاں کے لوگوں کا مشغلہ کھیتی باڑی کرنا اور مویشی پالنا تھا۔وہ علاقہ چونکہ بہت ہی زرخیز تھا لہٰذا اس کو حجاز کے غلّےکا گودام کہا جاتا تھا،خیبریوں کی اقتصادی حالت بہت اچھی تھی جس کا پتہ اس غذا اور اسلحوں کے اس ذخیرے سے لگایا جاسکتا ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں ان قلعوں کی فتح کے بعد سامنے آیا تھا۔
یہ قلعے فوجی اعتبار سے مستحکم اور مضبوط بنے ہوئے تھے جن کے اندر موجود فوجیوں کی تعداد دس ہزار تھی۔اسی وجہ سے یہودی اپنے کو سب سے طاقتور سمجھتے تھے اور یہ تصور کرتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر ان سے جنگ کرنے کی ہمت اور طاقت نہیں۔سن ۶ ہجری میں سلام بن ابی الحقیق جو بنی نضیر کا ایک سردار تھا اور خیبر کے یہودیوں کی لیڈر شپ اس کے ہاتھ میں آگئی تھی اس نے قبیلۂ غطفان اور دوسرے مشرک قبیلوں کو جمع کرکے مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی خاطر بڑی فوج تیار کرلی اس کی ان فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے مسلمانوں کے ہاتھوں اس کے قتل ہوجانے کے بعد خیبریوں نے اس کی جگہ اسیر ابن زارم کو اپنا سردار چن لیا اس نے بھی اسلام دشمنی کی وجہ سے ان قبائل کو اسلام کے خلاف اکسایا۔

پیغمبر اکرم(ص) نے گذشتہ دشمنیوں اور جھگڑوں کو مصالحت کے ساتھ حل کرنے کے لئے عبداللہ بن رواحہ کی سر پرستی میں ایک وفد اس کے پاس بھیجا تا کہ اس کو راضی کر سکے وہ جب عبد اللہ بن رواحہ اور اپنے کچھ یہودی ساتھیوں کے ساتھ ایک وفد کی صورت میں مدینہ کی طرف ا ٓرہا تھا تو راستے میں اپنے اس فیصلے سے نادم ہوا اور اس نے سوچا کہ عبد اللہ کو قتل کردے،چنانچہ طرفین کی اس جھڑپ میں وہ اور اس کے ساتھی مارے گئے۔ اور اس طرح پیغمبرﷺ کی یہ مصالحت آمیز کوشش کار گر نہ ہو سکی۔ان تمام سازشوں اور فتنوں کے علاوہ موجودہ دور کے ایک مورخ کے بقول اس وقت یہ خطرہ بھی پایا جا تا تھا کہ خیبر کے یہودی، مسلمانوں سے پرانی دشمنی کی بنا پر اور بنی قینقاع ،بنی نضیر اور بنی قریظہ کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ایران یا روم کے آلۂ کا ر بن سکتے ہیں اور ان کے اشارے پر مسلمانوں پر حملہ کرسکتے ہیں۔

پیغمبر اکرمﷺ جب صلح حدیبیہ کے بعد جنوبی علاقے کے خطرات کی طرف سے مطمئن ہوگئے تو آپ ۷ ھ کے آغاز میں۱۴۰۰ ،افراد پر مشتمل ایک لشکر کے ساتھ یہودیوں کی گوش مالی کے لئے شمال کی طرف روانہ ہوئے اور اسلامی فوج کے لئے ایسے راستے کا انتخاب کیا جس سے غطفان جیسے طاقتور قبیلے کا رابطہ جس کا اس وقت خیبریوں سے معاہدہ تھا خیبریوں سے ٹوٹ گیا،جس کے بعد ان کے درمیان ایک دوسرے کی امداد اور تعاون کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا تھا ۔

یہودیوں پر اچانک اور ان کی بے توجہی سے فائدہ اٹھا کر حملہ کرنے کی حکمت عملی کے نتیجہ میں راتوں رات قلعۂ خیبر اسلامی فوج کے محاصرے میں آگیا اور جب صبح ہوئی تو یہودیوں کے سردار اس خطرہ کی طرف متوجہ ہوئے۔البتہ پھر بھی مسلمانوں اور خیبریوں کی یہ جنگ برابر کی لڑائی نہیں تھی کیونکہ وہ لوگ بہت ہی مضبوط و مستحکم اور مورچہ بند قلعوں کے اندر تھے اور انھوںنے قلعوں کے دروازے بند کر رکھے تھے اور میناروں کے اوپر تیر اندازی کرکے یا پتھر برسا کر اسلامی فوج کو قلعہ کی دیوار سے نزدیک نہیں ہونے دے رہے تھے چنانچہ ایک حملے میں اسلامی فوج کے پچاس سپاہی زخمی ہوگئے۔ دوسری طرف سے ان کے پاس کافی مقدار میں خوراک کا ذخیرہ موجود تھا مگر اس محاصرہ کے طولانی ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے پاس خوراک کا ذخیرہ کم ہوگیا، انجام کار نہایت دشواریوں اور زحمتوں کے بعد خیبر کے قلعے یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے قبضہ میں آنے لگے لیکن آخری قلعہ جس کا نام قموص تھا اور اس کا سپہ سالار مرحب تھا جو یہودیوں کا مشہور پہلوان بھی تھا یہ قلعہ آخر تک کسی طرح فتح نہ ہوسکا اور اسلامی فوج کے سپاہی اس پر قبضہ نہ کر سکے،

ایک روز پیغمبرﷺ نے اسلامی فوج کا پرچم ابو بکرؓ اور دوسرے روز عمرؓ کے حوالہ کیا اور فوج کو ان کے ساتھ یہ قلعہ فتح کرنے کے لئے روانہ کیا لیکن دونوں افراد کسی کامیابی اور فتح کے بغیر رسول خداؐ کے پاس واپس آگئے۔ آپﷺ نے یہ صورت حال دیکھ کر ارشاد فرمایا: کل میں یہ پرچم اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں خداوند عالم اس قلعہ کو فتح کرائے گا وہ ایسا شخص ہے جو خدا اور رسولؐ کو دوست رکھتا ہے اور خدا اور اس کا رسولﷺ بھی اسے دوست رکھتے ہیں وہ کرار غیر فرار ہوگا۔

اس رات پیغمبر ﷺ کے تمام صحابہ کی یہی آرزو تھی کہ کل پیغمبرﷺ ،اسلامی فوج کا پرچم اس کے حوالے کردیں جب سورج طلوع ہوا، پیغمبرﷺ نے فرمایا: علیؓ کہاں ہیں؟ سب نے عرض کی کہ علیؓ کو آشوب چشم ہے اور وہ آرام کر رہے ہیں، پیغمبراکرمﷺ نے حضرت علیؓ کو طلب کیا اور آپ کی آنکھوں کو اپنی کرامت سے شفا بخشی اور اس کے بعد اسلامی فوج کا علم ان کے حوالے کیا اور فرمایا:ان کی طرف جائو اور جب ان کے قلعہ کے پاس پہنچنا تو پہلے انھیں اسلام کی دعوت دینا اور خدا کے احکام کی اطاعت کے بارے میں جوان کا وظیفہ ہے وہ ان کو یاد دلانا ،خدا کی قسم اگر پروردگار نے تمہارے ہاتھوں ان میں سے ایک شخص کو بھی ہدایت کردی تو یہ تمہارے لئے اس سے کہیں بہتر ہے کہ تمہارے پاس سرخ بالوں والے بہت سے اونٹ ہوں۔حضرت علی(ع) پیغمبراکرم(ص) کے مطابق روانہ ہوئے اور ایک دلیرانہ جنگ میں مرحب کو قتل کیا اور بے نظیر ولا جواب شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مستحکم اور مضبوط قلعے کو فتح کرلیا۔

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس فتنہ اور فساد اور سازشوں کے اڈے یعنی خیبر کی فتح میں چند اسباب اور عوامل کار فرما تھے جن میں سے پیغمبر اکرمﷺ کی بہترین سپہ سالاری اور جنگی حکمت عملی (جیسے دشمن کی غفلت سے فائدہ اٹھانا،دشمن سے متعلق خبر یں اور ان کے قلعوں کی اندرونی معلومات حاصل کرنا) اور بالآخر حضرت علیؓ کی بے نظیر شجاعت کا بھی اس میں کافی اہم کردار تھا۔پیغمبر اکرمﷺ نے حضرت علیؓ کی اس بہادری اور فداکاری کو اس انداز سے سراہا کہ اس دور کے ہر مسلمان بچے بچے کی زبان پر آپ کی بہادری کا کلمہ تھا اور اس کے مدتوں بعد تک آئندہ نسلوں کو بھی یہ واقعہ معلوم تھا ۔