بلاگ

جھوٹ اور ہمارے نونہال

نایاب دو گھنٹے سے مسلسل رو رھی تھی۔ آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھیں۔ مگر آنسو تھے ک رکنےکا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ نایاب کو میڈم سے غلطی نہ ھونے اور سچ کہنے کہ باوجودڈانٹ پڑی اور یہ صدمہ اس سے برداشت نھیں ہو رہا تھا ۔ اور وجہ یہ تھی کہ آج آساءمنٹ کی آخری تا ریخ تھی اور نایاب بیمار ہو نے کی وجہ سے غیر حاضر تھی اور لاعلمی کی وجہ سے آساءمنٹ جمع نھیں کروا سکی۔ ہمیشہ کی طرح نمرہ نے غلط بیانی سے کام لیااور میڈم سے یہ جھوٹ بول کر اپنا دفاع کیا کہ نایاب کو وہ آخری تاریخ کا بتا چکی تھی۔ یہ کہانی صرف نایاب کی نھیں ہے بلکہ جھوٹ اور غلط بیانی ہمارےمعاشرے کا مسلہ ہے۔ جو بہت تیزی سےنہ صرف پروان چڑھ رہا ہے بلکہ اپنے پنجے گاڑھ نے میں کامیاب بھی ہو رہا ہے۔

اب وہ دور ہے کہ سچ کہنے والوں کی باتوں کو یقین کرنا تو دور کی بات ہے کو دیہان سے سننے والا بھی نہیں ہے۔کہا جا تا ہے کے بچوں کی تربیت اور شخصیت میں والدین، اساتذہ کردار اور صحبت کا اثر بہت اہميت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر والدین کی خواہش ھوتی ہے کہ ان کی اولاد حق اور سچ کے راستے پر بلا ججھک چلے اور اس راستے پر قائم ر ہے ۔ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو کر اپنے والدین کا نام روشن کرے ، ان کے لیے نہ صرف صدقہءجاریہ بنے اور راحت و سکون کا سامان پیدا کرے۔ مگر اس ضمن میں والدین اور اساتذہ پر کچھ زمداریاں عائد ھو تی ہیں انہیں چاہیئے کہ بچوں کو ہر حال میں سچ بولنا سکھائیں۔ انہیں اپنے آپ سے قریب رکھیں۔ اتنا اعتماد دیں کہ وہ اپنے دل کا حال آپ سے کہ سکیں۔ ان پر بے جا سختی نہ کریں۔ کیونکہ بچے سختی سے بچنے کے لیے جھوٹ کا سہاراکالیتے ہیں۔

نبی پاکﷺ کا فرمان ہے کہ "جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔”اولاد والدین کے لیے سرمایہ حیات ہوتی ہے۔ اور اس سرمائے کی حفاظت کی زمداری بھی والدین کی ہے۔ انھیں چاہیئے کہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کے ساتھ ان کے روز مرہ معاملات اور صحبت پر کڑی نظر رکھیں ۔ایک دانشور کا قول ہے کہ”کھلاؤ سونےکا نوالہ اور رکھو شیر کی نگاہ ۔”والدین کو چاہیئے کہ بچوں کو اچھا اور صحتمند ماحول فراہم کریں۔ جو بچوں کی نفسیات پر اچھا اثر ڈالے اور ان کی نشوونما میں معاون ثابت ہو۔ "وہ اس لیے سچا ہے کہ بول رہا ہے میں اس لیے جھوٹا ہوں کہ خاموش کھڑا ہوں "

پروین شاکر : ہمیں چاہیے کہ بلا تصدیق بچوں پر سختی کر نے سے گریز کریں۔ بلکہ انہیں یہ باور کر ائیں کہ جھوٹ بول کرھم اللّٰہ کی رحمت سے دور ہو جاتے ہیں۔ جھوٹ کی بدولت ہم عارضی فوائد تو حاصل کر لیتے ہیں مگر اللہ کو ناراض کر کہ ہم کبھی بھی دلی سکون اور کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتے۔ کیونکہ سچ ہی ہے جو ہمیں اللہ کا قرب حاصل کر نے کا بہترین ذریعہ ہے اور منزلِ مقصود پر پہنچا سکتا ہے۔

 

بقلم: بنتِ توصيف