ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

جونکیں لگوائیں، آرام پائیں

جونک کتنی کارآمد چیز ہے۔ انہوں نے جونک کے ایک نئے استعمال کا تجربہ کیا ہے۔ ہاتھ یا پاﺅں کی انگلی جسم سے کٹ کر الگ ہو جائے تو اسے جسم کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں، خون چوس کر خون کا دباﺅ یا بہاﺅ کنٹرول کرلیتی ہیں چند دنوں میں خون کا دباﺅ نارمل ہو جاتا ہے زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب گلی میں ایک عورت کی آواز آتی تھی ”جونکیں لگواﺅ جونکیں“ اس عورت کے پاس مٹی کی ڈولی ہوتی تھی جس میں پانی ہوتا تھا اور پانی میں موٹی موٹی جونکیں تیر رہی ہوتی تھیں۔ ایسی عورتیں شہروں اور قصبوں میں گھومتی پھرتی اور صدائیں لگاتی تھیں اور دیہات میں بھی آج کل جونکیں لگوانے والی کوئی عورت شاید نظر آتی ہو گی جونک پانی کا ایک کیڑا ہے جو آدمی کے انگوٹھے جتنا لمبا اور انگوٹھے جتنا ہی موٹا ہوتا ہے۔ یہ گول ہوتا ہے۔ آگے اور پیچھے سے نوکدار۔ اس کا رنگ گہرا سرخ یا سیاہی مائل سرخ ہوتا ہے۔ یہ جانوروں اور انسانوں کا خون چوستا ہے۔ خون ہی اس کی غذا ہے۔ دیہات میں بھینسیں رکے ہوئے گدلے پانی کے جوہڑ میں بیٹھ جاتی ہیں۔ وہ باہر آتی ہیں تو کسی نہ کسی بھینس کے جسم کے کسی حصے پر ایک جونک چپکی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ بڑے مزے سے خون چوس رہی ہوتی ہے۔

اسے الگ کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ یہ ہاتھ سے کھینچ کر نہیں اتاری جا سکتی۔ اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو خود ہی الگ ہو جاتی ہے۔ ورنہ جلتی ہوئی دیا سلائی اس کے جسم کے ساتھ لگاﺅ تو الگ ہوتی ہے۔ آج سے پچاس سال پہلے تک یہ جونکیں لوگ اپنے جسم کے ساتھ خود لگوایا کرتے تھے۔ یعنی انہیں اپنا خون پلایا کرتے تھے۔ ۔ جونکیں لگانا ذریعہ معاش تھا۔ چونکہ عورتیں بھی جونکیں لگواتی تھیں اس لئے یہ کام عورتیں کیا کرتی تھیں۔ یہ عورتوں کا پیشہ تھا‘ ڈولی میں بہت سی جونکیں اٹھائے پھرتیں اور صدا لگاتی تھیں جونکیں لگواﺅ۔ مریض یا مریضہ کی کسی رگ پر یہ عورتیں ایک جونک کا منہ رکھ دیتیں اور جونک خون چوسنا شروع کر دیتی تھی اور بہت دیر تک خون چوستی رہتی تھی۔ زیادہ وہ لوگ جونکیں لگواتے تھے جنہیں جسم پر خارش ہوتی رہتی تھی یا پھوڑے پھنسیاں نکلتے رہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جونکیں فاسد خون چوس لیتی ہیں۔ سردرد‘ جوڑوں میں درد اور دو چار اور امراض کے علاج کےلئے خون جونکوں کو پلا دیا جاتا تھاتین ساڑھے تین سو سال پہلے تک ترقی یافتہ ملکوں میں بھی مریض جونکیں لگوایا کرتے تھے۔ اسے ہائی بلڈ پریشر کا تیر بہدف علاج سمجھا جاتا تھا ۔ اب جبکہ میڈیکل سائنس معجزے دکھانے لگی ہے‘ جونکیں پھر واپس آ گئی ہیں۔ یہ کسی پسماندہ ملک میں واپس نہیں آئیں بلکہ امریکہ‘ فرانس اور برطانیہ میں واپس آئی ہیں۔

انہیں میڈیکل سائنس میں واپس لانے والوں میں امریکہ کا ایک بائیالوجسٹ رائے سائر ہے۔ اس نے برطانیہ میں جونکوں کا ایک فارم بنا رکھا ہے۔ وہ دوسرے ملکوں کے ہسپتالوں اور ریسرچ لیبارٹریوں کو جونکیں سپلائی کرتا ہے۔ اس بائیالوجسٹ نے اور ان ڈاکٹروں نے بھی جنہوں نے جونکوں کو گذشتہ تین برسوں سے علاج معالجے میں قدیم دور کی طرح استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ تحقیقات اور تجربات کے بعد بتایا ہے کہ جونک کتنی کارآمد چیز ہے۔ انہوں نے جونک کے ایک نئے استعمال کا تجربہ کیا ہے۔ ہاتھ یا پاﺅں کی انگلی ‘ ناک یا کان جسم سے کٹ کر الگ ہو جائے تو اسے جسم کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں یہ کام مائیکرو سرجری سے ہوتا ہے۔ جب کٹا ہوا عضو جسم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے تو اس کی باریک نسوں میں خون آجاتا ہے۔ یکلخت خون آجانے سے رگوں میں اکٹھا ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سرجری ناکام ہو جاتی ہے۔ اس کا علاج اب یہ کیا جا رہا ہے کہ جوڑ کے قریب ایک دو جونکیں لگا دی جاتی ہیں جو خون چوس کر خون کا دباﺅ یا بہاﺅ کنٹرول کرلیتی ہیں چند دنوں میں مریض کے خون کا دباﺅ نارمل ہو جاتا ہے۔ Blood Clotting ایک بیماری ہے۔ جس میں کہیں خون جم جاتا ہے ۔ اسے آپریشن سے نکال کر خون کا راستہ صاف کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کی بجائے جونکیں استعمال کرنی شروع کر دی ہیں۔ جسم میں جہاں کہیں خون جم جاتا ہے۔ وہاں ایک دو جونکیں لگا دی جاتی ہیں جو خون چوسنے لگتی ہیں وہ رکا ہوا خون پی لیتی ہیں۔ جونک کو جب جسم سے ہٹایا جاتا ہے تو خون بہنے لگتا ہے۔ اس سے خون کی رکاوٹ مکمل طور پر ختم ہو نے میں مدد ملتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ انسان ذرا سا بھی درد محسوس نہیں کرتا۔

ڈاکٹروں نے تحقیقات کے بعد کہا ہے کہ جونک کے منہ سے ایسا مواد نکلتا ہے جو انسان کے جسم کی اس جگہ کو سن اور بے حس کر دیتا ہے جہاں وہ منہ ڈالتی ہے۔ دل کے بعض امراض میں بھی جونک نہایت مفید کام کررہی ہے۔ دل کو خون سپلائی کرنے والی نالیوں میں خون کو رواں کرنے میں جونک کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ جونک کے منہ سے جو مادہ خارج ہوتا رہتا ہے وہ خون کی روانی میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے۔ رائے سائر کہتا ہے کہ Cardiovascular مرض میں جونک اتنی مفید ہے جتنی اینٹی بائیوٹک دوائی انفیکشن کےلئے۔ رائے سائر نے بتایا کہ دنیا میں جونکوں کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ایک جونک ایک وقت میں ایک سو پچاس کے لگ بھگ بچے پیدا کرتی ہے۔ چھ مہینوں میں بچے پوری جونکیں بن جاتے ہیں۔ ایک جونک بیس منٹ تک خون چوستی رہتی ہے۔ بیس منٹوں میں وہ ایک اونس خون چوس لیتی ہے یعنی اپنے وزن سے پانچ گنا زیادہ وزنی خون اپنے اندر ڈال لیتی ہے۔ پھر وہ پورا ایک سال نہ خون چوستی ہے نہ کچھ اور کھاتی پیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو جونک ایک بار کسی انسان کو لگائی جاتی ہے وہ اگر پیٹ بھر لے تو ایک سال کےلئے بیکار ہو جاتی ہے۔ اسے الگ پانی میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور بھوکی جونکوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ابھی جونکوں پر تجربے ہو رہے ہیں اور کئی امراض کےلئے ان کے فوائد دریافت ہو رہے ہیں۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اب جونکیں واپس جانے کےلئے نہیں آئیں۔ –

(ابن صحرا، راولپنڈی)
عبقری میگزین

تبصرے
Loading...