شاعری

جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیں

جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیں
کلاہ طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیں

امیر شہر تری طرح قیمتی پوشاک
مری گلی میں بھکاری پہن کے آتے ہیں

یہی عقیق تھے، شاہوں کے تاج کی زینت
جو انگلیوں میں مداری پہن کے آتے ہیں۔

ہمارے جسم کے داغوں پہ تبصرہ کرنے
قمیصیں لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں

عبادتوں کا تحفظ بھی ان کے ذمے ہے
جو مسجدوں میں سفاری پہن کے آتے ہیں ـ

شاعر: – راحت اندوریؔ