بلاگ

جئے بغیر مر جانے والی عورتیں

باہر کے ملکوں میں بچی پیدا ہوتی ہے، پھر وہ بڑی ہوتی ہے، لڑکی بنتی ہے، شادی کرتی ہے، ماں بنتی ہے اور پھر عورت کہلاتی ہے۔ اُسے ہر موقع پر پورا حق ہوتا ہے، اپنی ذات کی تشریح و تعریف کرنے کا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ معاشرہ اُسے ایک پراڈکٹ سے زیادہ حیثیت کم ہی دیتا ہے۔ ہمارے ملک میں بچی پیدا ہوتے ہی عورت بن جاتی ہے۔ ماں باپ کو پہلے دن سے ہی اُس کے اچھے نصیبوں کی، شوہر، سسرال، رشتہ داروں اور محلے والوں کی فکر کھائے چلی جاتی ہے۔

یہ پہنو، یہ نہ پہنو، یوں نہ چلو، ایسے بولو، ایسا بولو، یہ کرو، یہ نہ کرو۔ ’’لڑکی ذات ہے‘‘ یہ جملہ ہزارہا بار سُنا، تو کیا لڑکا ذات نہیں؟ ایسا ہی ہے، ہمارے معاشرے میں لڑکی ذات ہے اور باقی سب تماشائی۔ لڑکی پیدا ہوتی ہے تو ماں باپ کی ڈیفائن شُدہ زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہے۔ بھائیوں کی خوشنودی حاصل کرنا تو عین عبادت ہے، پھر شوہر تو مجازی خدا ٹھہرا اور پھر بچوں کی جنت کا بھرم رکھتے رکھتے وہ خود جنت میں چلی جاتی ہے۔ مر جاتی ہے، جئے بغیر۔

مجھے حقوقِ نسواں کا علمبردار ثابت کرنے سے پہلے آپ غور کریں کہ کیا ہمارا رویہ ہمارے معاشرے میں عورتوں سے انتقامی نہیں؟ کیا ہم تاک میں نہیں رہتے کہ یہاں کوئی بُھول چوک، کوئی غلطی ہو اور یہاں ہم چارج شیٹ پیش کریں۔ ’’یہ عورت آج تک کسی کو سمجھ نہ آئی‘‘، فحش اور بد تہذیب لطیفے، گلیوں، بازاروں، بس کے اڈوں، ریلوے اسٹیشن، یونیورسٹی، اسپتال، الغرض ہر جگہ اس پر ہُوٹنگ، جملے کسنا، بے ہودگی، کونسی جگہ ہے جو ہمارے معاشرے میں عورت کیلئے محفوظ رہ گئی ہے؟ اپنے آپ سے پوچھ لیں، کیا آپ اپنی بیٹیوں کو، ماؤں بہنوں کو، بیویوں کو اکیلے مری بھیج سکتے ہیں؟ اسپتال میں؟ بازار میں؟ اتوار بچت بازار میں؟ پنڈی راجہ بازار میں، لاہور اچھرہ میں، ملیر کراچی میں؟

اِن سب کا ذمہ دار کون ہے؟ آپ اور میں، مرد حضرات۔ جس ملک میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی 70 سال کی بڑھیا کو مکمل برقع اور نقاب پہننا پڑے، جہاں 4 بچوں کی ماں بھی بائیک پر صرف چادر اوڑھ کر نہ بیٹھ سکے، جہاں اُس پر پڑنے والی ہر نظر عقابی اور ہر نیت گِدھ کی ہو، وہاں حقوقِ نسواں کی موجودگی ثابت کرنے والوں کو جوتے مارنے چاہئیں۔ یہ آپ کو جتنے بڑے بزنس مین، سیاست دان، عالم دین، کھلاڑی، پروفیسرز اور صنعت کار دِکھتے ہیں، جاکر اُن کی ماؤں اور بیویوں کے انٹرویوز کریں۔ پتہ چلے گا کہ اُنہیں کتنی قربانیاں دینی پڑیں، آپ کے ملک کو ایک باصلاحیت شخص دینے کیلئے۔ پیمانہ اگر صبر ہو تو وطنِ عزیز کی تمام عورتیں مرد اور تمام مرد عورتیں کہلائیں۔

مرد پیسہ لاتا ہے، کماتا ہے، تو؟ کیا وہ مالک ہوگیا؟ جسم کا؟ سوچ کا؟ اِرادوں کا؟ رُوح کا؟ گماں کا؟ اِمکان کا؟ مرد پیسے لاتا ہے مگر بچے پیسے نہیں کھاتے۔ مرد پیسے لاتا ہے مگر بچے پیسوں پر نہیں سوتے۔ مرد پیسے لاتا ہے مگر پیسوں سے راحت نہیں ملتی، نہ خوشی ملتی ہے نہ اطمینان۔ اِن پیسوں کو کھانا عورت بناتی ہے، اِن پیسوں کو گھر، خوشی، اطمینان، سکون اور بستر عورت بناتی ہے۔ آپ کا نام نہاد ’’مرد‘‘ تو روز دفتر سے گالیاں، غیبت، بہتان، جھوٹ، ظلم اور حسد کھا کر آتا ہے۔ یہ عورت ہی ہے جو اُسے تسکین دیتی ہے، کھانا کھلاتی ہے۔ دوبارہ سے جوڑتی ہے اور صبح ’مرد‘ بنا کر واپس بھیجتی ہے۔ جس اسلام نے عورت کے استحصال کے درجنوں طریقے ختم کرکے اُسے نکاح کی حفاظت میں دیا، ہم مسلمان ایسے گئے گزرے کہ اُسے جانوروں کے حقوق بھی نہ دیں۔ تُف ہے ایسی مردانگی پر۔ آئیے میں آج مسئلہ ختم ہی کردیتا ہوں کہ عورت کیا ہوتی ہے؟

مرد صرف جمع نفی کرسکتا ہے۔ عورت صرف ضرب جانتی ہے، آپ جو اُسے دیتے ہیں، یہ اِسے ملٹی پلائی کردیتی ہے۔ آپ اُسے پیسہ لاکر دیتے ہیں، یہ آپ کے مکان کو گھر بنا دیتی ہے۔ آپ اُس کے بالوں میں ایک پھول لگاتے ہیں، یہ آپ کے گھر کو گلستان بنادیتی ہے۔ آپ اُسے تھوڑا سا وقت دے دیں، یہ آپ کو اولاد دیتی ہے، آپ مسکرا دیں، یہ اپنا دل نکال کر آپ کے ہاتھ پر رکھ دیتی ہے۔ آپ اُسے عزت دیں، یہ آپ کو جان دے دے گی۔ آپ گروسری لا دیں، یہ آپ کو ڈنر بنا دے گی، آپ اُس کی تعریف کردیں، یہ آپ کو آئیڈیل بنا دے گی۔ آپ اُسے نیکی پر چلا دیں، یہ دعائیں مانگ مانگ کر آپ کو ولی اللہ بنا دے گی۔ آپ اُسے جوتا لادیں، یہ آپ کو سر کا تاج بنا دے گی۔ آپ اُس کی سالگرہ یاد رکھیں، آپ کا پورا سال اچھا گزر جائے گا، آپ اُسے پیزا کھلا دیں، یہ آپ کے سال بھر کے گناہ معاف کردے گی۔

عورت کی ضرب دینے کی، ملٹی پلائی کرنے کی، اِسی خاصیت کی وجہ سے اِس کے سامنے بکواس نہیں کرنی چاہیئے، یہ اِسے بھی ضرب کردے گی۔ آئیے، اِس ویلنٹائن ڈے پر غیروں کی نقالی کرنے کی بجائے اپنی ماں، بیٹی، بہن اور بیویوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اُنہیں سمجھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اُن کے احساسات و قربانیوں کے بدلے کچھ کرسکیں۔ چلیں میں آپ کو ایک ٹوٹکہ بتاتا ہوں، آج اپنی ماں یا بیگم کے پاس جائیں، موبائل نہ لے جائیں، صرف 5 منٹ خاموشی سے انہیں سامنے بٹھا کر پیار سے دیکھتے رہیں۔ میں شرطیہ کہتا ہوں وہ رو پڑیں گی، ہماری ان کہی عورتوں کے آنسو یتیم ہوتے ہیں، وہ عمر بھر جمع کرتی رہتی ہیں اور اپنے سینے میں ایثار کی بوتلوں میں قربانی کا ڈھکن لگا کر محفوظ کرتی چلی جاتی ہیں۔ آج آپ کے 5 منٹ وہ ڈھکن کھول دیں گے۔ آج ابر کُھل کر برسے گا۔ یہ وہ آنسو ہیں جو آپ کی وجہ سے ہیں، آپ کی دین ہیں، آپ واپس لے لیں۔