اسلام بلاگ کالمز

جنات کیسے حاضر ہوتے ہیں!

پچھلی پوسٹ میں یہ مسئلہ بیان کیا تھا کہ جنات سے مباح امور میں تعاون لینے میں حرج نہیں اور نہ ہی یہ شرک ہے بلکہ یہ جائز ہے جیسا کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے ہے بشرطیکہ جنات کو حاضر بھی ایسے ذریعہ سے کیا جائے جو کہ مباح اور جائز ذریعہ ہو جیسا کہ جادو اور آسیب کے مریض پر قرآن مجید پڑھنے سے جنات حاضر ہو جاتے ہیں اور عامل سے گفتگو کر کے اسے جادو اور آسیب کے بارے تفصیل بتلاتے ہیں۔ البتہ جنات سے مدد لینے کی کچھ صورتیں واقعی میں شرک ہیں جیسا کہ ان کی مدد حاصل کرنے کے لیے اُن کے نام کے بکرے ذبح کیے جاتے ہیں، جنگلوں میں مرغے اڑائے جاتے ہیں، بکروں کی سِریاں پھینکی جاتی ہیں، اُن کے نام کے دِیے جلائے جاتے ہیں۔ اور عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اِس طرح اُن کی خوشنودی حاصل ہو گی تو وہ مدد کو پہنچیں گے۔ جنات کی مدد حاصل کرنے کے یہ طریقے جادوگر استعمال کرتے ہیں اور یہ صریح شرک کے زمرے میں داخل ہیں۔

جنات کو حاضر کرنے کے لیے روحانی عامل اور سفلی جادوگر کے طریقے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ جادوگر جنات کو کفریہ اور شرکیہ افعال کے ذریعے حاضر کرتا ہے مثلا قرآن مجید کو گٹر میں بہائے گا، حیض کے خون سے لکھے گا، جنات کے نام پر ذبح کرے گا، کفریہ اور شرکیہ جنتر منتر کا ورد کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ عامل پھر دو قسم پر ہیں؛ ایک وہ جو جنات کو قابو کرنے کے لیے قرآنی آیات کے چلے کاٹتے ہیں اور قابو میں آنے والے جنات کو موکل کا نام دیتے ہیں۔ اور یہ موکل کوئی چوتھی مخلوق نہیں ہے بلکہ جنات ہی کی قسم ہے۔ میرے نزدیک جنات کو اس طرح قابو کرنا شرعا جائز نہیں ہے کہ ہمارے دین میں آزاد کو غلام بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ جنات کو حاضر کرنے کا ایک اور طریقہ جادو کے مریض ہر قرآن مجید کی آیات کی تلاوت ہے۔ تو اس طرح کی حاضری میں حرج نہیں ہے۔

پڑھیے "جادو کے علاج میں جنات سے تعاون لینا”

کچھ لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے اور عموما انکار کرنے والے وہ ہیں جنہیں نہ تو کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی کوئی مشاہدہ، بس دلیل دلیل کی رٹ لگائی ہوئی ہے کہ اس کی دلیل کیا ہے۔ جادو، جنات اور عالم جن کے حوالے سے سب سے سطحی تحقیقی کام اگر آپ کو کہیں ملتا ہے، تو وہ سلفی حضرات ہیں۔ دس بارہ حدیثیں ہیں، ہر دوسرا مصنف انہیں آگے پیچھے ترتیب الٹ کر بیان کر رہا ہوتا ہے۔ نہ کچھ علم استدلال سے مناسبت ہے کہ ظاہریت ہی اتنی چھائی ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ بندہ کوئی کام کی بات ہی بیان کر دے۔ البتہ شیخ وحید عبد السلام بالی تجربہ کار آدمی ہیں، ان کی کتاب "جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار” پڑھنے کے لائق ہے۔ گوگل کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ کتاب بھی اس موضوع کی ضرورت پوری نہیں کرتی ہے۔ ارسطو کے بارے معروف ہے کہ اس نے کہا تھا کہ عورت کی عقل داڑھ نہیں ہوتی، کسی نے کہا کہ عورت کے عقل داڑھ نہ ہونے کے اتنے فاضلانہ دلائل دینے کی بجائے اپنی بیوی کا منہ کھلوا کر ہی دیکھ لیتا۔

تو کتاب وسنت کا عامل جب جادو کے مریض پر قرآن مجید پڑھتا ہے تو اکثر جن خود حاضر ہو جاتا ہے اور چیخنا چلانا یا گفتگو شروع کر دیتا ہے۔ عام حالات میں عامل کو اس کو حاضر کرنے یا گفتگو کرنے کے لیے کوئی تردد نہیں کرنا پڑتا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا جادو کے مریض پر جادو کے توڑ کی آیات پڑھنا جائز نہیں ہے؟ تو کون بے وقوف کہے گا کہ جائز نہیں ہے! اور جو ایسی بات کہے تو وہ اس قابل بھی نہیں کہ اس کی بات کی طرف توجہ کی جائے۔ تو پہلے بات کو سمجھیں کہ ہوتا کیا ہے، پھر اعتراض کریں۔ کوئی عامل جن کو حاضر کرنے کے لیے مریض کے گرد سات پھیرے نہیں لگاتا اور نہ ہی کسی قسم کا چلہ کاٹتا ہے۔ بس مریض کے علاج کے لیے جادو کے توڑ کی آیات پڑھتا ہے اور جن حاضر ہو جاتا ہے۔ پھر اسے اسلام کی دعوت دیتا ہے، جو کہ وہ اکثر قبول کر لیتا ہے۔ ورنہ اس کو عذاب کی آیات سنتا ہے، جس سے اس کی موت واقع ہو جاتی ہے یا عامل اگر کمزور ہو تو جن بھاگ بھی جاتا ہے۔

میری اہلیہ کو کچھ ذہنی مسائل درپیش تھے اور ان سے کافی زیادہ ڈسٹرب تھی۔ میں نے کہا کہ سائیکالوجسٹ کے پاس چلتے ہیں، اس کی بھی یہی رائے بنی۔ ہسپتال گئے، اتفاق سے سائیکالوجسٹ موجود نہ تھا۔ واپس گھر آ گئے، میں نے کہا کہ دم کر دیتا ہوں، وہ لیٹ گئی اور میں نے منزل پڑھنا شروع کر دی جس سے وہ فورا ہی سو گئی۔ منزل قرآن مجید کی توحید کے موضوع پر چند منتخب آیات کا مجموعہ ہے۔ جیسے ہی میں سورۃ الصافات پر پہنچا، ایک تو مجھے جھٹکے لگے اور دوسرا وہ چیختی چلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ کچھ اس کے جسم سے نکلا، اس کا احساس مجھے بھی تھا اور اسے بھی۔ لیکن یہ سب غیر متوقع تھا اور ہم اس کے لیے ذہنا تیار بھی نہ تھے۔ اب وہ چیز ایک گرم ہوا کی طرح ہمارے طرف آتی تھی جس سے ہم دونوں کے جسم رعب سے بھر جاتے تھے۔ میں نے سورۃ البقرۃ کی تلاوت لگائی تو جہاں لگائی یعنی ڈرائینگ روم میں تو وہاں تو مسئلہ حل ہو گیا لیکن جیسے ہی واش روم کی طرف بڑھے تو پھر وہی کیفیت۔ پھر ہم نے وہ رات گھر نہیں گزاری اور اونچی آواز سے تلاوت لگا دی۔ اگلے دن سے معاملہ معمول پر آ گیا۔

ایک مرتبہ ہمشیرہ کی طبیعت بہت خراب تھی، سر گویا کہ درد سے پھٹ رہا تھا، میں نے منزل کی تلاوت شروع کی، سورۃ الصافات پر ایک ہلکی کی ضرب جیسے دل پر پڑی ہو اور کچھ نکلنے کا احساس پیدا ہوا۔ میں نے ہمشیرہ سے کیفیت پوچھی تو کہنے لگی کہ اب سر میں درد بالکل بھی نہیں ہے۔ تو شیطان انسان کے جسم کو مَس کرتا ہے، کبھی پورے جسم پر حاوی ہو جاتا ہے، کبھی ایک عضو پر، اور عموما دماغ پر ہوتا ہے، اور اکثر ذہنی بیماریاں، شیطانی وساوس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ شرعی دم سے فورا مسئلہ جاتا رہتا ہے۔ مجھے ایک مرتبہ بڑی ہمشیرہ کا فون آیا کہ چھوٹی کی جیسے جان نکل رہی ہے، اتنی تکلیف میں ہے۔ میں نے کہا کہ فون اس کے کان سے لگائیں۔ اللہ سے دعا کر کے موبائل کال کے ذریعے ہی منزل پڑھنا شروع کی، اس کے بعد پوچھا تو کہنے لگیں کہ ایسے ٹھیک ہے جیسے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

تو ہم کہیں اور نکل گئے، اصل بحث یہ چل رہی تھی کہ جادو کے آیات پڑھنے سے مریض پر جن حاضر ہو جاتا ہے۔ البتہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ کوئی جن محض جادو کے توڑ کی آیات سے حاضر نہیں ہوتا تو اس کے لیے یہ آیت پڑھی جاتی ہے: أَيْنَمَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (148)۔ اور اس سے فورا حاضر ہو جاتا ہے۔ تو بھئی عامل نے تو صرف آیت پڑھی ہے، حاضر تو اسے خدا نے کیا ہے۔ تو کیا عامل کا مریض پر کوئی آیت پڑھنا جائز نہیں ہے اور آیت کا مفہوم بھی یہی ہے کہ یا اللہ جہاں بھی وہ ہے، اسے یہاں حاضر کر دے، بے شک اس چیز پر تو قادر ہے۔ تو یہ تو خدا سے سیدھی سادھی دعا ہے۔ اور اگر اس دعا کے نتیجے میں جن حاضر ہو جاتا ہے تو جن کی اس حاضری میں ایک بدعتی تو عامل ہوا اور دوسرا خدا ہوا۔ مطلب کیسی باتیں کرتے ہو، اب قرآن پڑھنا اور خدا سے مدد مانگنا بھی تم نے بدعت بنا دیا ہے!

اب رہی یہ بات کہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ جن نہ ہو، مریض کی کوئی نفسیاتی کیفیت ہو یا ایکٹنگ ہو۔ تو پہلی صورت تو بہت ہی کم اور شاذ ونادر ہوتی ہے، البتہ دوسری کا امکان ہے۔ اور تجربہ کار عامل کو اس کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ بھئی تجربے اور مشاہدے کے بغیر گپوں سے کام نہیں چلے گا۔ جادو کے کسی مریض پر منزل کی آیات، خاص طور سورہ الصافات کی پہلی دس آیات پڑھیں، جن آپ کو خود ہی بتلا دے گا کہ میرا وجود ہے، اور اگر شریعت پر عمل ومل برائے نام ہے تو پھر تو ایسا بتلائے گا کہ زندگی بھر یاد رکھیں گے بشرطیکہ زندگی رہی، مسکراہٹ۔ باقی یہ بات درست ہے کہ عام آدمی جنات کو حاضر کرنے کا تجربہ نہ کرے کہ اس کی حاضری پر اسے ہینڈل کرنے کا تجربہ بھی ہونا چاہیے۔ ہاں البتہ کسی نے واقعتا اس کو علمی مسئلے کے طور دیکھنا ہے، شریعت یا سائیکالوجی کے تناظر میں، تو مجھے بتلا دے۔ ہمارے ایک فاضل عامل دوست کے ہاں ہر ہفتے میں تین دن مجلس ہوتی ہے، جہاں دسیوں کی حاضری ہوتی ہے اور مکالمہ بھی ہوتا ہے، اس سارے عمل کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔