ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

جینا ضروری ہے

سمجھ نہیں آ رہا کہاں سے شروع کروں اور کیا لکھوں ؟آج اس شخص کو ہم سے بچھڑے ایک سال ہوگیا ہے۔ -جنید جمشید ! آہ کیا عظیم شخصیت تھی وہ ,جس نے اپنے کریر کے عروج پر موسیقی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا اور اپنی باقی زندگی دعوت و تبلیغ کے لیے وقف کر دی۔

بہت سے لوگوں کو ان کے نظریات سے اختلافات تھے اور ہیں -وہ نظریات ایک طرف ، لیکن وہ بذات خود ایک بہت زبردست شخصیت تھی جس نے عام مولویوں کی طرح کبهی فتوےنہیں جھاڑے اور نہ ہی اسلام کے ٹھیکے دار بنے!! بلکہ پیار و محبت سے الله کے دین کو پھیلایا – یہ جو جاہل اور راویتی مولوی جو ابھی بھی یہ بول رہے ہیں کہ اس کا یہی انجام ہونا تھا کہ نہ زمین نےقبول کیا نہ آسمان نے! ان سے میرا سوال ہے کہ اگر اتنے بڑے مبلغ اسلام کا یہ “انجام ” ہے تو اپنے بارے میں ان کا کیا خیال ہے کہ ان کا کیا انجام ہو گا جنہوں ےساری زندگی جنید جمشید سمیت بہت سے لوگوں پر کیچڑ اچھالا ، حملہ کیا اور گالم گلوچ کیا ؟؟ یہ کہاں لکھا ہے کہ عشق رسول ﷺمیں آ کر انسان کسی کو اپنی زبان یا ہاتھ سے تکلیف پہنچاہے ؟؟ کوئی ہے ایسی آیت یا حدیث ؟؟

اتنا ہی ان کو اسلام اور نبی ﷺسے پیار ہے تو ان کے نقش قدم پر کیوں نہیں چلتے جو اس عورت کی عیادت کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئےتھے جو روز ان پر کوڑا پھینکتی تھی !! اور پھر وہ آپ ﷺکے اسی عمل سے اسی وقت مسلمان ہو گئی تھی ! شاید یہ لوگ سمجھتے ھیںکہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے!یہاں کرپشن ، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے مسائل حل ہو نہیں رہے اور چھوٹی سوچ کے مولویوں نے الگ مذہبی انتشار پھیلایا ہوا ہے – کبهی جنید جمشید کے پیچھے پڑ جاتےہیں کبهی کسی اور کے پیچھے اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ کوئی انسان غلط بات کر رہا ہے تو کیا آپ پیار سے اس کی اصلاح نہیںکر سکتے ؟ ضروری ہے کہایک بات کا اتنا ایشو بنا کر ملک میں انتشار پھیلایا جائے؟

کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف جنید جمشید کو ہی کیوں نمایاں کیا جاتا ہے ؟ باقی سب مسافر بھی اپنے گھروں کے جنید جمشید تھے ارے بھائی یہی تو بات ہے کہ وہ سب صرف ”اپنے ”گھروں کے جنید جمشید تھے ، جب کہ یہ پوری قوم اور امّت کے جنید جمشید تھے !! باقیوں کا بھی ہمیں دل سے گہرا افسوس ہے اور ان کے گھر والوں کے لئے بھی بہت ہمدردی ہے ،لیکن آپ کبھی بھی ان سب کا مقابلہ جنید جمشید سے نہیں کر سکتے !! اس انسان نے جو اس ملک اور امّت کے لئے کیا وہ باقیوں نے نہیں کیا تھا -یہی وجہ ہے کہ آج وہ شخص بہت نمایاں ہے – ان کی خدمات رہتی دنیا یاد کرے گی !لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ باقی مسافروں کے شہید ہونے کا کوئی افسوس نہیں!

دین اور انسانیت کے لئے کچھ کرنا ہی اصل جینا ہے – صرف موجود رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ! دنیا میں “جینے” اور “موجود” رہنے میں بہت فرق ہوتا ہے !! اور یہ جینا ہم سب کو چاہیے

تحریر : انعم چودھری

تبصرے
Loading...